کسی بھی معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی زندگی کا پیمانہ اس کے علمی ذوق، مطالعے سے وابستگی، اور کتاب سے تعلق سے جانچا جاتا ہے۔ جہاں کتاب بے توقیر ہو، وہاں فکر ماند پڑ جاتی ہے، ذہن قید ہو جاتے ہیں اور معاشرہ محض رسموں کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج بھی کچھ ادارے اور تحریکیں ایسی ہیں جو اس علمی و فکری چراغ کو گل ہونے نہیں دے رہیں۔ شہر لاہور منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں منہاجینز فورم کے زیر اہتمام شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، پروفیسرڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسرڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی آٹھ نئی کتب کی مشترکہ تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔
تقریب کا اہتمام منہاجینز فورم نے کیا، تقریب میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام،دانشوروں،اساتذہ،صحافیوں اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک تھی ۔اس علمی و فکری تقریب کو ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار بنانے میں میزبان اور صدر منہاجینز فورم شاہد لطیف اور ان کی ٹیم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ تلاوت کلام مجید کی سعادت عالمی شہرت یافتہ قاری خالد حمید کاظمی الازہری نے حاصل کی ۔ حسن عبد اللہ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت پیش کئے۔معروف سکالر علامہ عین الحق بغدادی،اجمل مجددی،احسن چشتی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
انہوں نے نہ صرف حاضرین کو نئی معلومات فراہم کیں بلکہ ہر مقرر کے خیالات کو بامعنی انداز میں جوڑتے بھی رہے۔منہاجینز فورم کے صدر شاہد لطیف نے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ "ہمیں نوجوانوں کے اندر فکر و مطالعہ کی پیاس جگانے کی ضرورت ہے، کیونکہ مطالعہ صرف امتحان کی تیاری نہیں بلکہ زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔” انہوں نے کہا کہ "علم کی بنیاد پر اگر قوموں کا مقدر سنور سکتا ہے تو ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینا ہو گا۔” شاہد لطیف نے اس امر پر زور دیا کہ ہم جس فکری زوال سے گزر رہے ہیں، اس کا علاج صرف کتاب، مطالعہ اور تحقیق کے احیاء میں ہے۔انہوں نے کہاکہ اخلاقی زوال اور معاشرتی بگاڑ کا حل صرف اور صرف دین اسلام کی تعلیمات میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کتب نوجوانوں کو شعور،صبر ،اتحاد اور رواداری کے راستے پر گامزن کر سکتی ہیں۔
شاہد لطیف نے ان کتب کو نوجوان نسل کےلئے مشعل راہ قرار دیا۔مقررین نے شاندار تقریب کے انعقاد پر میزبان صدر منہاجینز فورم شاہد لطیف کی علم دوستی،خلوص،تنظیمی مہارت اور فکری بصیرت کو بھی زبرداست خراج تحسین پیش کیا۔مقررین نے کہاکہ یہ شاندار تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بھی معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جو دین،علم اور ادب کے فروغ کےلئے شب و روش کوشاں ہیں۔۔تقریب کے پہلے سیشن میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی چار کتب:”القول المتین فی امر یزید العین“، ”تغیر زمان سے اجتہادی احکام میں رعایت و تبدیلی“، ”وراثت و وصیت“ اور ”نکاح و طلاق“ کی علمی قدر و قیمت پر مقالہ جات پیش کیے گئے۔ ان کتب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف ایک مکتب فکر کی نہیں بلکہ تمام اسلامی مکاتب فکر کی فکری ترجمانی کرتی ہیں اور عصرِ حاضر کے مسائل کا علمی و اجتہادی حل بھی پیش کرتی ہیں۔
دوسرے سیشن میں چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی دو اہم کتب "دستور مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور” اور "آدابِ اختلاف” پیش کی گئیں، جنہیں مقررین نے بین المذاہب ہم آہنگی، اسلامی ریاستی اصولوں اور معاشرتی توازن کا ضامن قرار دیا۔تقریب کے تیسرے اورآخری مرحلے میں صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی دو نئی علمی و تحقیقی کتابیں "Beyond the IMF” اور "سبل العشاق” کی رونمائی کی گئی۔”Beyond the IMF” عصر حاضر کی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے قارئین کے لیے ایک علمی خزانہ ہے، جو صرف معاشی پالیسیوں کا تجزیہ نہیں بلکہ عالم اسلام کو خود انحصاری، خود کفالت اور عدل پر مبنی معاشی فریم ورک کی دعوت دیتی ہے۔ یہ کتاب معیشت کو محض اعداد و شمار کی قید سے نکال کر فلاحی اصولوں کی بنیاد پر استوار کرنے کی فکر دیتی ہے۔اسی طرح "سبل العشاق” تصوف، سلوک اور عشقِ حقیقی کی گہرائیوں میں لے جانے والی ایک روحانی دستاویز ہے جو قاری کو اللہ کے قرب اور معرفت کے مراحل سے روشناس کراتی ہے۔
تقریب میں ناظم اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، رجسٹرار منہاج یونیورسٹی ،پروفیسرجاوید قادری ،ڈاکٹر خرم شہزاد ،انجینئر محمد رفیق نجم، ڈاکٹر محمد فاروق رانا، ڈاکٹر سرور صدیق، ڈاکٹر نعیم انور نعمانی، ساجد الازہری، آفتاب احمد خان، نور اللہ صدیقی،علامہ احسن اویس، ڈاکٹر محمد افضل قادری،خالد محمود ، پیر ناصر قادری،حافظ محمد ناصر ،عمر فاروق شاہ ،محمد عمردراز قادری،معظم پرویز ربانی، محمد ریحان ایڈووکیٹ و دیگر علمی شخصیات نےاظہار خیال کیا۔ ان تمام اہلِ علم نے مطالعے، مکالمے اور فکری بیداری کو قومی ترقی کا اصل زینہ قرار دیا۔
یہ تقریب نہ صرف علمی و فکری لحاظ سے بھرپور تھی بلکہ روحانی طور پر بھی متاثر کن رہی۔ یہاں نہ کوئی نعرہ بازی تھی، نہ سطحی گفتگو، بلکہ ہر لفظ ایک پیغام، ہر کتاب ایک فکر اور ہر مقرر ایک چراغ دکھائی دیتا تھا۔ یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں فکری غلامی سے نکلیں، ذہنی آوارگی سے بچیں اور علمی قیادت کے منصب پر فائز ہوں، تو ہمیں مطالعہ کو زندگی کا معمول بنانا ہو گا، اور ایسی تقریبات کو عام کرنا ہو گا جو فکر، علم اور تدبر کا پیام بن کر نسلِ نو کو بیدار کریں۔معاشرے کا اصل حسن علم، ادب، گفتگو اور اختلاف میں شائستگی سے ہے۔ اور یہ سب کچھ کتاب سے جڑنے، مطالعہ کو اپنانے اور مطالعاتی فکر کو زندہ رکھنے سے ممکن ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ تقریب نہ صرف کتب کی رونمائی کا ایک موقع تھی بلکہ ایک فکری تحریک کی شروعات بھی تھی ۔ایسی تقریبات کا سلسلہ جاری رہنا چاہئےتاکہ علم اور اخلاق کے چراغ ہر دل میں روشن کئے جا سکیں۔ایسی علمی محافل ہی معاشرے کی فکری و روحانی بیداری کی ضامن ہوتی ہیں،ہمیں چاہئےکہ ان کوششوں کو سراہیں،ایسی تقریبا ت میں شرکت کریں اور نئی نسل کو ایسی تقریبات کا حصہ بنائیں۔





















