لاہور: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ مٹھی بھر دہشت گرد پاکستان کی ترقی اور بلوچستان کی خوشحالی کے سفر کو نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (کے ای ایم یو) لاہور کے دورے کے دوران طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے حالیہ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابیوں پر روشنی ڈالی اور بلوچ عوام کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی، اور مذہبی رشتوں پر زور دیا۔ اس موقع پر طلبہ نے پاک فوج کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا اور اس طرح کے انٹرایکٹو سیشنز کے تسلسل کی خواہش کا اظہار کیا۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں پرتپاک استقبال
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے جمعرات کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں یونیورسٹی انتظامیہ، فیکلٹی، اور طلبہ نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ اس دورے کا مقصد پاک فوج کے حالیہ آپریشنز کی کامیابیوں سے طلبہ کو آگاہ کرنا اور ان میں قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبات کو اجاگر کرنا تھا۔ یونیورسٹی کے ہال میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلبہ سے کھلے دل سے بات چیت کی اور ان کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔
تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی حکمت عملی اور اس کی کامیابیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف نہ صرف موثر کارروائیاں کیں بلکہ مقامی آبادی کے تعاون سے امن و استحکام کو یقینی بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، اور وہاں کے عوام ملک سے گہرے تاریخی، مذہبی، اور ثقافتی بندھنوں سے جڑے ہوئے ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص
آپریشن ’بنیان مرصوص‘ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا ایک بڑا آپریشن ہے، جس کا مقصد صوبے میں امن بحال کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ اس آپریشن کی کامیابی میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ مقامی عوام، خصوصاً نوجوانوں کا کردار نہایت اہم رہا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام نے ہر مشکل گھڑی میں پاک فوج کا ساتھ دیا، جس نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند شرپسند عناصر کی سرگرمیاں صوبے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن سکتیں۔ پاک فوج کی جانب سے گوادر، تربت، اور پنجگور جیسے علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا، جبکہ سی پیک منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے، اور رہے گا، اور پاک فوج ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
طلبہ کا خراج تحسین اور مستقبل کی امید
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا۔ طلبہ نے پاک فوج کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت، اور قومی خدمت کے جذبے کی تعریف کی۔ ایک طالب علم نے کہا، "پاک فوج نے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ ہمارے لیے قابل فخر ہے۔” یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے بھی اس موقع پر پاک فوج کے کردار کو سراہا اور اس طرح کے انٹرایکٹو سیشنز کو باقاعدگی سے منعقد کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ طلبہ اور فوج کے درمیان رابطے مضبوط ہوں۔
تقریب کے دوران طلبہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے بلوچستان کی موجودہ صورتحال، پاک فوج کے ترقیاتی منصوبوں، اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی سے متعلق سوالات کیے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ان سوالوں کے تفصیلی جوابات دیے اور طلبہ کو قومی سلامتی کے مسائل پر آگاہی فراہم کی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق، اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر صارفین نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات اور پاک فوج کی کامیابیوں کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا، "بلوچستان کے عوام پاک فوج کے ساتھ ہیں، اور چند دہشت گرد ہمارے اتحاد کو توڑ نہیں سکتے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "آپریشن بنیان مرصوص ایک تاریخی فتح ہے۔ پاک فوج نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر مشکل حالات میں ملک کی حفاظت کر سکتی ہے۔” کئی صارفین نے پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان مضبوط رشتوں کی تعریف کی اور اسے قومی یکجہتی کی علامت قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ اور ان کا خطاب پاک فوج کی جانب سے نہ صرف عسکری بلکہ سماجی رابطوں کو مضبوط کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی نے بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے پاک فوج کی لگن کو ظاہر کیا ہے، لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ پیغام کہ "مٹھی بھر دہشت گرد ترقی کو نہیں روک سکتے” اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک فوج نہ صرف عسکری طور پر بلکہ نظریاتی طور پر بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔
بلوچستان پاکستان کی معاشی ترقی، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات، اگرچہ کم ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطرہ ہیں۔ پاک فوج کی جانب سے مقامی آبادی کے تعاون سے حاصل کی گئی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ عوام اپنے صوبے کی ترقی اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتے کو اہمیت دیتے ہیں۔ تاہم، بلوچستان کے مسائل صرف عسکری حل سے حل نہیں ہو سکتے۔ صوبے میں تعلیم، صحت، اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کو دہشت گرد گروہوں کی طرف راغب ہونے سے روکا جا سکے۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی جیسے اداروں میں پاک فوج کے انٹرایکٹو سیشنز کا انعقاد ایک مثبت اقدام ہے، جو نئی نسل کو قومی سلامتی اور ترقی کے مسائل سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ سیشنز نہ صرف فوج اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں حب الوطنی اور ذمہ داری کے جذبات کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ تاہم، پاک فوج اور سول اداروں کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی اس طرح کے پلیٹ فارمز پر زیادہ سے زیادہ شامل کریں تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے اور ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔
آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی کامیابی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بلوچ عوام کے تعاون کی ایک شاندار مثال ہے۔ تاہم، اس کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنا ہوگا اور مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، اور پاک فوج کا یہ پیغام کہ کوئی بھی دہشت گرد اس راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا، قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے سیشنز اور عوامی رابطوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا ہر شہری اس ترقیاتی سفر کا حصہ بن سکے۔





















