لاہور: معروف پاکستانی یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ کے گرد تنازعات کا طوفان ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ اس بار ان کے ساتھی ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ رجب بٹ کے حالیہ مسائل کے پیچھے ایک مشہور شخصیت کا ہاتھ ہے، اور وہ شخصیت مبینہ طور پر پاکستان کے نامور اداکار اور میزبان فہد مصطفیٰ ہیں۔ کاشف ضمیر کے اس دعوے نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے، جہاں صارفین شواہد کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس الزام کی صداقت پر بحث چھڑ گئی ہے۔
کاشف ضمیر کا دعویٰ اور رجب بٹ کی شہرت
کاشف ضمیر، جو خود ماضی میں ترک اداکار انگین التان کے ساتھ متنازعہ معاہدوں کی وجہ سے خبروں کی زینت رہ چکے ہیں، نے ایک نجی ٹی وی شو میں کہا کہ رجب بٹ کی بڑھتی ہوئی شہرت بعض افراد کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رجب بٹ، جو اپنے فیملی وی لاگز اور روزمرہ زندگی سے متعلق ویڈیوز کی بدولت 6.75 ملین یوٹیوب سبسکرائبرز اور 1.1 ملین انسٹاگرام فالوورز کے ساتھ پاکستان کے مقبول سوشل میڈیا ستاروں میں سے ایک ہیں، حسد کا شکار ہو رہے ہیں۔
کاشف ضمیر کے مطابق، رجب بٹ کی پرانی ویڈیوز کو جان بوجھ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر وائرل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رجب بٹ کی شہرت اور کامیابی نے کچھ لوگوں کو پریشان کر دیا ہے، جو انہیں تنازعات میں گھسیٹنے کے لیے منظم کوششیں کر رہے ہیں۔ کاشف نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں زیادہ احتیاط برتیں، کیونکہ ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، جس سے وہ قانونی اور سماجی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
فہد مصطفیٰ پر سنگین الزام
پروگرام کے دوران کاشف ضمیر نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا کہ رجب بٹ کے خلاف دائر قانونی مقدمات کے پیچھے معروف اداکار اور ٹی وی میزبان فہد مصطفیٰ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شخص، جو فہد مصطفیٰ کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتا ہے، نے انہیں اس بارے میں بتایا اور مبینہ طور پر شواہد بھی دکھائے۔ تاہم، کاشف ضمیر نے پروگرام میں ان شواہد کو ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا، جس سے ان کے دعوے کی صداقت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
اس الزام نے سوشل میڈیا پر ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ ایکس پر صارفین نے کاشف ضمیر کے دعوے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ صارفین نے ان سے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے اسے محض توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اگر کاشف ضمیر کے پاس واقعی شواہد ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانا چاہیے، ورنہ یہ صرف افواہ ہے۔” دوسرے صارف نے کہا، "رجب بٹ کی شہرت سے حسد کرنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن فہد مصطفیٰ جیسے بڑے نام پر الزام لگانا بہت بڑی بات ہے۔”
رجب بٹ کے حالیہ تنازعات
رجب بٹ گزشتہ چند ماہ سے مسلسل تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ رواں سال مارچ میں ان کے پرفیوم برانڈ "295” کے نام نے مذہبی حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا، کیونکہ اسے توہین رسالت سے جوڑا گیا۔ رجب بٹ نے اس تنازعے پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے وضاحت دی کہ پرفیوم کا نام انڈین گلوکار سدھو موسے والا کے گانے سے متاثر تھا اور اس کا کوئی مذہبی مقصد نہیں تھا۔ اس کے باوجود، لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ان کے خلاف پیکا ایکٹ اور دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں رجب بٹ کو اپنی شادی کے موقع پر تحفے میں ملنے والے شیر کے بچے اور بغیر лиценس کلاشنکوف رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لاہور کی ایک عدالت نے انہیں 50 ہزار روپے جرمانے اور ایک سال کی کمیونٹی سروس کی سزا سنائی، جس میں انہیں ہر ماہ جانوروں کے حقوق کے تحفظ پر ویڈیوز بنانے کا حکم دیا گیا۔
مزید برآں، جون 2025 میں رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایک خاتون کی جانب سے اغوا اور ریپ کے سنگین الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ رجب بٹ کے رشتہ دار سلمان حیدر نے انہیں نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کی اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کیا۔ اس مقدمے نے رجب بٹ کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔
کاشف ضمیر کا متنازعہ ماضی
کاشف ضمیر خود بھی تنازعات سے پاک نہیں ہیں۔ وہ 2020 میں ترک اداکار انگین التان کو پاکستان لانے کے معاہدے کے بعد خبروں میں آئے، لیکن اس دوران ان پر فراڈ اور امانت میں خیانت کے الزامات لگے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کے خلاف لاہور، سیالکوٹ، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ کاشف ضمیر نے ان الزامات کی تردید کی اور دعویٰ کیا کہ ان کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
کاشف ضمیر نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ رجب بٹ کے مسائل کی وجہ حسد ہے، اور ان کے خلاف مقدمات اور وائرل ویڈیوز ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے رجب بٹ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں احتیاط برتیں اور اپنی باتوں کو واضح رکھیں تاکہ انہیں غلط رنگ دینے کی گنجائش نہ رہے۔
سوشل میڈیا پر ہلچل
کاشف ضمیر کے دعوے کے بعد ایکس پر صارفین نے اس موضوع پر گرم جوش بحث شروع کر دی۔ ایک صارف نے لکھا، "فہد مصطفیٰ جیسا بڑا نام رجب بٹ جیسے یوٹیوبر کے پیچھے کیوں پڑے گا؟ کاشف ضمیر کوئی ثبوت دیں تو بات بنے۔” ایک اور صارف نے کہا، "رجب بٹ خود اپنے تنازعات کی وجہ ہیں۔ ان کی ویڈیوز اور رویہ ہمیشہ سے مسائل پیدا کرتا رہا ہے۔” کچھ صارفین نے رجب بٹ کے حق میں آواز اٹھائی اور کہا کہ وہ ایک کامیاب یوٹیوبر ہیں، جن کی شہرت سے حسد کیا جا رہا ہے۔
کاشف ضمیر کا رجب بٹ کے مسائل کے پیچھے فہد مصطفیٰ کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ ایک سنگین الزام ہے، جو بغیر ٹھوس شواہد کے محض افواہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رجب بٹ کی حالیہ تاریخ تنازعات سے بھری پڑی ہے، جن میں پرفیوم 295 کا معاملہ، شیر کا بچہ رکھنے کی سزا، اور سنگین فوجداری مقدمات شامل ہیں۔ یہ تمام واقعات ان کے اپنے فیصلوں اور ویڈیوز میں عدم احتیاط کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کاشف ضمیر کا دعویٰ کہ ان کی پرانی ویڈیوز کو حسد کی وجہ سے وائرل کیا جا رہا ہے، جزوی طور پر درست ہو سکتا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر شہرت کے ساتھ تنقید اور حسد کا عنصر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ تاہم، فہد مصطفیٰ جیسے ایک مستقل مزاج اور کامیاب اداکار پر اس طرح کا الزام لگانا بغیر شواہد کے غیر ذمہ دارانہ ہے۔
رجب بٹ کے تنازعات کا سلسلہ ان کے مواد کی نوعیت اور سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی شادی پر شیر کے بچے اور مہنگے تحائف کی ویڈیوز، پرفیوم کے نام کا تنازعہ، اور حالیہ فیملی وی لاگ میں اہلیہ کے ساتھ رویے پر تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی اپنی سرگرمیاں ان کے مسائل کی بنیادی وجہ ہیں۔ کاشف ضمیر کا مشورہ کہ رجب بٹ کو اپنی ویڈیوز میں محتاط ہونا چاہیے، درست ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑا طوفان کھڑا کر سکتی ہے۔
فہد مصطفیٰ کے خلاف الزام کی صداقت مشکوک ہے، کیونکہ کاشف ضمیر نے شواہد پیش نہیں کیے۔ یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے یا رجب بٹ کے تنازعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ رجب بٹ کو اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے اپنے مواد پر نظرثانی کرنی ہوگی اور ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا ہوگا جو قانونی یا سماجی تنازعات کو جنم دیں۔ سوشل میڈیا پر شہرت ایک دو دھاری تلوار ہے، جو کامیابی کے ساتھ ساتھ تنقید اور حسد کو بھی دعوت دیتی ہے۔ اگر رجب بٹ اپنی ویڈیوز میں احتیاط برتیں اور اپنی عوامی شبیہ کو بہتر بنائیں تو وہ ان تنازعات سے نکل سکتے ہیں۔ تاہم، کاشف ضمیر کے الزامات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے۔





















