پیرس: فرانس نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک تاریخی اور جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کا رسمی اعلان رواں سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران کریں گے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران نے عالمی برادری کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔ میکرون نے زور دیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہے، اور اس کے لیے فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اور غزہ کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔
فلسطینی ریاست کی تسلیم
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے نام ایک خط میں، جو ایکس پر شیئر کیا گیا، واضح کیا کہ فرانس اپنی تاریخی ذمہ داری کے تحت مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کی تسلیم اسی عزم کا مظہر ہے۔ میکرون نے اپنے پیغام میں کہا کہ فرانس ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا، جو یورپ کی ایک بڑی طاقت کی جانب سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں ایک اہم قدم ہے۔
یہ فیصلہ فرانس کو جی 7 ممالک میں پہلا ملک بناتا ہے جو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، جو کہ عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے قبل ناروے، اسپین، آئرلینڈ، اور سلووینیا جیسے یورپی ممالک نے 2024 میں فلسطین کو تسلیم کیا تھا، لیکن فرانس جیسے بڑے مغربی ملک کی جانب سے یہ اعلان اس سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میکرون نے اپنے خط میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کو عالمی قانون کے مطابق ایک ناقابل تنسیخ حق قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ خطے کے تمام فریقین کے لیے امن اور سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
غزہ میں انسانی بحران اور فوری اقدامات کی ضرورت
صدر میکرون نے اپنے بیان میں غزہ کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ضرورت جنگ کا خاتمہ اور شہری آبادی کی حفاظت ہے۔ انہوں نے فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی، اور غزہ کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔ میکرون نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام خطے میں استحکام لانے کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرانس اپنے یورپی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ فلسطینی ریاست کی تسلیم سے خطے میں امن کے امکانات کو تقویت ملے۔ میکرون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فرانس دیگر ممالک کو بھی فلسطین کی تسلیم کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا، تاکہ ایک مشترکہ عالمی تحریک دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت کر سکے۔
عالمی ردعمل
فرانس کے اس اعلان پر عالمی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے ایکس پر کہا کہ یہ فیصلہ فرانس کے عالمی قانون اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ حماس نے بھی اسے ایک "مثبت قدم” قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک سے اپیل کی کہ وہ فرانس کی پیروی کریں۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد دہشت گردی کو "انعام” دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے "دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈالنے” اور فرانس کی تاریخ پر "دھبہ” قرار دیا۔
امریکہ نے بھی اس فیصلے پر سخت تنقید کی۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ایکس پر اسے ایک "غیر ذمہ دارانہ” فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 7 اکتوبر کے متاثرین کے لیے "طمانچہ” ہے۔ تاہم، سعودی عرب نے اس فیصلے کی حمایت کی اور اسے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی عالمی حمایت کا مظہر قرار دیا۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بھی فرانس کے اقدام کی تعریف کی اور کہا کہ دو ریاستی حل ہی خطے میں امن کا واحد راستہ ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر صارفین نے فرانس کے اس فیصلے پر گرم جوش بحث شروع کر دی۔ ایک صارف نے لکھا، "فرانس کا یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ میکرون نے ثابت کر دیا کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ فلسطینی عوام کے لیے ایک بڑی جیت ہے، لیکن اسرائیل اور امریکہ کی مخالفت اسے پیچیدہ بنا سکتی ہے۔” کچھ صارفین نے اسے ایک علامتی اقدام قرار دیا، لیکن اس کے باوجود اس کی اہمیت کو سراہا۔
پس منظر
فرانس کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں، فلسطینی حکام کے مطابق، تقریباً 60,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی ترسیل پر پابندیوں نے غذائی قلت اور بھوک کے بحران کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر قحط پھیل رہا ہے، اور ہزاروں ٹرک امدادی سامان سرحدوں پر پھنسا ہوا ہے۔
فرانس نے حال ہی میں 20 سے زائد دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل کی جانب سے امدادی ترسیل پر پابندیوں اور امدادی مقامات پر فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی تھی۔ میکرون کا یہ اعلان اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جب عالمی برادری اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہی ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔
فرانس کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حوالے سے ایک اہم موڑ ہے۔ یہ اقدام نہ صرف فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت میں ایک مضبوط پیغام ہے بلکہ عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے ایک نئی تحریک کو جنم دے سکتا ہے۔ فرانس، جو یورپ کی ایک بڑی طاقت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، کا یہ فیصلہ دیگر مغربی ممالک، جیسے کہ برطانیہ اور کینیڈا، کو بھی فلسطین کی تسلیم کے لیے آمادہ کر سکتا ہے۔
تاہم، یہ فیصلہ کئی چیلنجز کو بھی جنم دیتا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی سخت مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام خطے میں سفارتی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ اسرائیل کا موقف کہ فلسطینی ریاست کا قیام اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے، دو ریاستی حل کے مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، حماس کی موجودگی اور غزہ میں اس کا کنٹرول بھی فلسطینی ریاست کی تسلیم کے عملی نفاذ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ میکرون کا حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ اسی تناظر میں اہم ہے، لیکن اس کا عملی نفاذ ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
فرانس کا یہ فیصلہ علامتی ہونے کے باوجود عالمی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ اقدام فلسطینی عوام کے لیے امید کی کرن ہے، جو عشروں سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تاہم، اس فیصلے کے اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ کیا دیگر مغربی ممالک اس کی پیروی کرتے ہیں اور کیا یہ تسلیم فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق کو بدلنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ میکرون کی یہ کوشش کہ وہ دیگر ممالک کو اس تحریک میں شامل کریں، اس فیصلے کی کامیابی کے لیے کلیدی ہوگی۔
غزہ میں جاری انسانی بحران اور اسرائیل کی پابندیوں نے عالمی برادری کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ فرانس کا یہ قدم اس تناظر میں ایک جرات مندانہ کوشش ہے، لیکن اس کے نتائج خطے میں امن کے امکانات، فلسطینی اتھارٹی کی مضبوطی، اور حماس کے کردار پر منحصر ہوں گے۔ اگر یہ فیصلہ دو ریاستی حل کی جانب ٹھوس پیش رفت کا باعث بنتا ہے، تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی لمحہ ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے عالمی برادری، خاص طور پر مغربی ممالک، کو ایک متحدہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔





















