تحریر:ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (پی۔ایچ ۔ڈی)
زیرِ نظر مضمون اُن خود ساختہ بدگمانیوں اور بے بنیاد بدشگونیوں پر روشنی ڈالنے کی ایک تحقیقی کاوش ہے، جنہوں نے نہ صرف عام معاشرتی فضا کو آلودہ کر رکھا ہے بلکہ اسلامی شعور کو بھی دھندلا دیا ہے۔ بدگمانیوں کا یہ سلسلہ محض مشرقی اقوام تک محدود نہیں، بلکہ مغرب کی تعلیم یافتہ دکھائی دینے والی دنیا بھی بدشگونی جیسے خیالات سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔ دنیا کے کئی مذاہب و اقوام ان توہمات کا شکار ہیں، مگر جو اَمر خاص طور پر ہماری توجہ کا مستحق ہے، وہ یہ ہے کہ خود اسلامی معاشرہ بھی اس فکری بیماری میں مبتلا کیوں ہے؟
کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کالی بلی راستہ کاٹ دے تو یہ نحوست کی علامت ہے۔ کہیں کالے بکرےکی سری کی اہمیت بیان کی جاتی ہے۔کہیں ماہِ صفر کو مصیبتوں، بیماریوں اور ناگہانی آفتوں کا مہینہ قرار دے کر شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر مواقع سے گریز کی تلقین کی جاتی ہے۔ ماہِ صفر میں نئے کام کی ابتداء کو ناپسندیدہ تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ سب تصورات محض وہم و گمان ہیں جن کا نہ کوئی تعلق قرآن سے ہے، نہ سنتِ رسول ﷺ سے۔
پس، ضروری ہے کہ ہم ان بے بنیاد توہمات کا بالخصوص صفر کے مہینے سے متعلق پھیلائی گئی افواہوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں، اور دینِ اسلام کی روشن اور مضبوط تعلیمات کی روشنی میں حق و باطل کے درمیان واضح تمیز قائم کریں۔ یہی شعور ہمیں خرافات کے اندھیروں سے نکال کر توکل، یقین اور معرفت کی روشنی کی طرف لے جائے گا۔اَب ہم لوگوں کے اندر پائی جانے والی بدشگونیوں کی حقیقت اور صفر المظفر سے متعلقہ لایعنی اور بے سروپا باتوں کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
تقویمِ اسلامی کا دوسرا مہینہ صفر المظفر کہلاتا ہے۔ اگرچہ شریعتِ مطہرہ میں بعض مہینوں اور ایام کو دیگر ایام و مہینوں پر فضیلت و شرف حاصل ہے، اور ان میں مخصوص اعمال و برکات کی بشارت دی گئی ہے، تاہم یہ تصور اسلامی تعلیمات میں کہیں موجود نہیں کہ کوئی مہینہ یا دن بذاتِ خود نحوست یا آفات و بلیات کا مظہر ہو۔ اس سے قبل کہ قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ کی روشنی میں اس مہینے کے حوالے سے خیر و برکت یا منفی خیالات کا تحقیقی جائزہ لیا جائے، مناسب ہوگا کہ سب سے پہلے ماہِ صفر کی وجہِ تسمیہ پر نظر ڈالی جائے، کیونکہ اس کی تاریخی معنویت اور لُغوی بنیاد ہمیں اَصل حقیقت تک رسائی میں مدد فراہم کرتی ہے۔
ماہِ صفر کی وجہ ِ تسمیہ اور اہلِ لغت کی آراء:
لفظ ِ”صفر‘‘عربی زبان کا لفظ ہے جوکہ تین حروف ( ص ، ف ،ر) کامرکب ہے ۔عربی زَبان چونکہ بہت وسیع ہے۔ اس میں ایک لفظ کے کئی معانی ومفاہیم پائے جاتے ہیں۔ اہلِ لغت نے صَفَرکے کئی معانی بیان کیے ہیں جن میں سے ایک معنی خالی ہونا بھی ہے۔ اسی مناسبت سے ماہِ صَفَر کو’’صَفَر“ کہنے کی چند وجوہات ملاحظہ کیجئے:
(1)اہل ِعرب کا معمول تھا کہ وہ ماہِ صَفَر شُروع ہوتے ہی جنگ و جَدَل اورسفر کے ارادے سے اپنے گھروں سے نکل جاتے جس کی وجہ سے ان کے گھر خالی رہ جاتے تھے ، اسی وجہ سے کہاجاتاہے : صَفَرَ الْمَکَان (یعنی مکان خالی ہو گیا)۔
(2)علامہ ابن منظور افریقی کہتے ہیں کہ:
سموا الشهر صفرا لأنهم كانوا يغزون فيه القبائل فيتركون من لقوا صفرا من المتاع.
( لسان العرب، ج۴، ص 463، دار صادر، بیروت، لبنان۔)
’’صَفَر کہنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس مہینے میں اہلِ عرب قبائل کے خلاف چڑھائی کرتے اور انہیں بے سروسامان (Without Possessions) کردیتے تھے۔‘‘
(3) اس مہینے میں اہلِ عرب ’’صفریہ“ نامی شہر میں جاکر کھانے پینے کی چیزیں جمع کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے گھر خالی ہوجاتے تھے۔ (عمد ۃ القاری ج 9 ص 200،دار احياء التراث العربی، بیروت)
(4) بعض اہل لغت کا خیال ہے: اس ماہ اہل مکہ انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکہ سے باہر جاتے تھے ،جس سے شہر مکہ خالی رہ ہوجاتاتھا۔
(5) اہل مکہ زمانہ اسلام سے قبل چار مہینوں کا احترام کرتے تھے ، ان میں کسی قسم کی لوٹ کھسوٹ قتل وغارت سے پرہیز کرتے تھے ان میں سے ایک مہینہ’’محرم الحرام ‘‘ کاہے اس ماہ کے اختتام پذیر ہوتے ہی وہ قبائل سے جنگ کے لیے گھروں سے نکل کھڑے ہوتے تھے ۔ اس مناسبت سے اس ماہ کو ’’صفر‘‘ کہا گیا۔
علامہ ابن منظور افریقی ماہِ صفر کے متعلق لکھتے ہیں:
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّما سُمِّيَ صَفَرًا لِأَنَّهُم كَانُوْا يَمْتَارُوْنَ الطَّعَامَ فِيْهِ مِنَ الْـمَواضِع، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: سُمِّيَ بِذلِكَ لِإِصْفَارِ مَكَّةَ.
(ابن منظور افریقی، لسان العرب، ج۴، ص 462، دار صادر، بیروت، لبنان)
’’بعض لوگوں نے کہا کہ اس مہینے کا نام ’’صفر‘‘ اس لیے رکھا گیا کیونکہ وہ (عرب) اس میں مختلف جگہوں سے خوراک جمع کرتے (یعنی خوراک کا ذخیرہ کرتے) تھے۔ اور بعض نے کہا کہ اسے ’’صفر‘‘ اس لیے کہا گیا کیونکہ مکہ (اس مہینے میں) خالی ہو جاتا تھا۔‘‘
علامہ ابن کثیر ماہِ صفر کے متعلق کہتے ہیں:
وَصَفَرٌ: سُـمِّيَ بِذَلِكَ لِـخُلُوِّ بُيُوْتِهِمْ مِنْهُمْ حِيْنَ يَـخْرُجُوْنَ لِلْقِتَالِ وَالْأَسْفَارِ يُقَالُ صَفَرَ الْـمَكَانُ إِذَا خَلَا.
(ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ج۲، ص 355)
’’ماہِ صفر کو نام اس لیے صفر رکھا گیا ہے کہ (اہلِ عرب) جب جنگوں اور مختلف سفروں پر جایا کرتے تو اُن کے گھر خالی ہو جایا کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ: صفر المکانُ: جب مکان خالی ہو جائے۔‘‘
نحوست کی نفی کرنے والے، بغیر حساب جنت میں:
اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے لوگوں کے بارے میں رسولِ اکرمﷺنے فرمایا: مجھے میری اُمت کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے، ان میں ستر ہزار ایسے ہیں جو پہلے جنت میں جائیں گے، ان پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہوگا۔نبی اکرمﷺنے فرمایا: میں نے پوچھا کہ یہ کس وجہ سے بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے؟ تو جبریل نے جواب دیا:
کَانُوْا لَا یَکْتَوُوْنَ وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ وَعَلىٰ رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ.
(بخاری، الصحیح، ج۵، ص 2375، رقم:6107)
(ان کی صفت یہ ہے کہ) وہ اپنے جسم کو داغتے نہیں، نہ ہی (ناجائز) دم کرواتے ہیں، نہ کسی چیز کو منحوس سمجھتے اور وہ اپنے ربّ پر توکل کرتے تھے۔
مندرجہ بالا حادیث میں بلا حساب جنت میں جانے والے لوگوں کے اوصاف کا ذکر ہے، ان میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو منحوس نہیں سمجھتے اور ان میں توکل کا مادہ بدرجہ اَتم موجود ہے۔
بدشگونی شرکِ اصغر ہے:
بدشگونی یعنی کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:
اَلطِّیَرَةُ ِشِرْكٌ، اَلطِّیَرَةُ ِشِرْكٌ.
(احمد بن حنبل، المسند، 1/389، رقم: 3687، ابو داود، السنن، 4/17، رقم: 3910، ابن ماجہ، السنن، 2/1170، رقم: 3538،ابو یعلی، المسند، 9/140)
’’کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شرک ہے، کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شرک ہے۔‘‘
جامع ترمذی کے شارح مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری فرماتے ہیں:
أي لاعتقادهم أن الطيرة تجلب لهم نفعا أو تدفع عنهم ضرا فإذا عملوا بموجبها فكأنهم أشركوا بالله في ذلك ويسمى شركا خفيا.
آپ ﷺکا فرمان’’بدشگونی شرک ہے‘‘ یعنی لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ بدشگونی (کسی چیز کو منحوس سمجھنا) نفع لاتی ہے یا نقصان دور کرتی ہے۔ جب اُنہوں نے اسی اعتقاد کے مطابق عمل کیا تو گویا اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکِ خفی کا ارتکاب کیا اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور چیز بھی نفع یا نقصان کی مالک ہے تو اسنے شرکِ اکبر کا ارتکاب کیا۔ (عبد الرحمن مبارکپوری، تحفۃ الاحوذی، ج۵، ص 197)
اِسی موضوع کی مناسبت سے ایک اور حدیث امام احمد بن حنبل اپنی کتاب ’’المسند‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ قَالَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ.(احمد بن حنبل، المسند، 2/220، رقم: 7045)
’’جو شخص بدشگونی کے ڈر کی وجہ سے اپنے کسی کام سے رک گیا یقیناً اس نے شرک (اصغر) کا ارتکاب کیا۔ صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کا کفارہ کیا ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یوں کہہ لیا کرے ؛اے اللہ! ہر خیر تیری ہی ہے، ہر شگون ترا ہی ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔‘‘
لہٰذا ماہِ صفر کو منحوس خیال کرنا، نحوست کی وجہ سے اس مہینے میں شادیاں کرنے سے رکے رہنا، اس میں مٹی کے برتن ضائع کردینا، ماہ صفر کے آخری بدھ کو جلوس نکالنا اور بڑی بڑی محفلیں منعقد کرکے خاص قسم کے کھانے اور حلوے تقسیم کرنا اور چُوری کی رسم ادا کرنا وغیرہ ان احادیث کے مطابق مردود اور شرکیہ عمل ہے جس سے ہر صورت میں اجتناب ضروری ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ﴾ [الحديد ، 57/ 22]
’’کوئی بھی مصیبت نہ تو زمین میں پہنچتی ہے اور نہ تمہاری زندگیوں میں مگر وہ ایک کتاب میں (یعنی لوحِ محفوظ میں جو اللہ کے علمِ قدیم کا مرتبہ ہے) اس سے قبل کہ ہم اسے پیدا کریں (موجود) ہوتی ہے، بے شک یہ (علمِ محیط و کامل) اللہ پر بہت ہی آسان ہے۔‘‘
اسی طرح رسول اللہﷺنے توکل کے بارے فرمایا:
وَاعْلَمْ اَنَّ الْأمَّةَ اجْتَمَعَتْ عَلى أَن یَّنْفَعُوْكَ بِشَيْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَهُ اللهُ لَكَ وَإنِ اجْتَمَعُوْكَ عَلىٰ أَن یَّضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ یَضُرُّوكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَهُ اللهُ عَلَیْكَ. (ترمذی، السنن، 4/667، رقم: 2516)
جان لو! اگر لوگ اس بات پر جمع ہوجائیں کہ وہ تمھیں کچھ فائدہ پہنچائیں تو وہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے، مگر وہی جو اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھ دیا ہے اور اگر لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچائیں تو وہ تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے۔
ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی تردید:
ماہِ صفر المظفر کے متعلق لوگوں میں کوئی رسومات و بدعات رواج پا چکی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔یہ ایسی رسومات ہیں جن کی تردید خود نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ. (بخاری، الصحیح، 5/2158، رقم: 5380)
’’(اللہ کی مشیت کے بغیر) کوئی بیماری متعدی نہیں اور نہ ہی بد شگونی لینا جائز ہے، نہ اُلو کی نحوست یا روح کی پکار اور نہ ماہِ صفر کی نحوست۔‘‘
علامہ ابن قیم اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
اس حدیث میں نفی اورنہی دونوں معانی صحیح ہوسکتے ہیں لیکن نفی کے معنی اپنے اندر زیادہ بلاغت رکھتے ہیں کیوں کہ نفی ’طیرہ‘ (نحوست) اور اس کی اثر انگیزی دونوں کا بطلان کرتی ہے، اس کے برعکس نہی صرف ممانعت دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث سے ان تمام اُمور کا بطلان مقصود ہے جو اہل جاہلیت قبل از اسلام کیا کرتے تھے۔
ابن رجب حنبلی فرماتے ہیں کہ:
’’اس حدیث میں ماہِ صفر کو منحوس سمجھنے سے منع کیا گیا ہے، ماہ صفر کو منحوس سمجھنا تطیّر(بدشگونی) کی اقسام میں سے ہے۔ اسی طرح مشرکین کا پورے مہینے میں سے بدھ کے دن کو منحوس خیال کرنا سب غلط ہیں۔‘‘
امام ابوداؤدمحمد بن راشد کہتے ہیں:
’’اہل جاہلیت یعنی مشرکین ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے تھے، لہٰذا اس’لَا صَفَرَ‘ حدیث میں ان کے اس عقیدہ اور قول کی تردید کی گئی ہے۔‘‘
صفر المظفر اور دورِ جاہلیت کی غلط فہمیاں:
عہدِ جاہلیت کے باسی ماہِ صفر کو نحوست کا مظہر سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ مہینہ سفر و سیاحت، نکاح و رشتہ داری یا دیگر اہم امور کے لیے ناموزوں تھا۔ ماہِ محرم میں جنگ و جدال کو ممنوع سمجھنے کے باعث قبیلے امن کے خول میں چھپے رہتے، مگر جونہی ماہِ صفر کا سورج طلوع ہوتا، تلواریں نیام سے باہر آتیں، خون کی ندیاں بہنے لگتیں، اور یہی فضا اس مہینے کو بدشگون بنا دیتی۔ اس جہالت زدہ ذہنیت نے اس ماہ کو محض ایک خونی پس منظر کے سبب شگونِ بد سے جوڑ دیا۔
شیخ علیم الدین سخاوی نے اپنی کتاب المشهور في أسماء الأیام والشهورمیں ماہِ صفر کے متعلق لکھا ہے:
’’صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً (اہل عرب) گھر خالی رہتے تھے اور وہ لڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے، جب مکان خالی ہوجاتے تو عرب کہتے تھے: صَفَرَ الـمَکَانُ:مکان خالی ہوگیا۔‘‘
الغرض آج کے اس پڑھے لکھے معاشرے میں بھی عوام الناس ماہِ صفر کے بارے جہالت اور دین سے دوری کے سبب ایسے ایسے توہمات کا شکار ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ اسی قدیم جاہلیت وجہالت کا نتیجہ ہے کہ متعدد صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عوام الناس میں وہی زمانۂ جاہلیت جیسی خرافات موجود ہیں۔
ماہِ صفر کے متعلق جدید خیالات:
برصغیر کے مسلمانوں کا ایک طبقہ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتاہے۔ اس مہینے میں توہم پرست لوگ شادی کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ فی زمانہ لوگ اس مہینے سے بدشگونی لیتے ہیں اور اس کو خیر و برکت سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کام مثلاً کاروبار وغیرہ کی ابتدا نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے۔ اس قسم کے اور بھی کئی کام ہیں جنہیں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اعتقاد ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جاتا ہے وہ منحوس یعنی خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔
ماہ و سال، شب و روز اور وقت کے ایک ایک لمحے کا خالق اللہ ربّ العزت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی دن، مہینے یا گھڑی کو منحوس قرار نہیں دیا۔ در حقیقت ایسے توہمانہ خیالات غیر مسلم اقوام اور قبل از اسلام مشرکین کے ذریعے مسلمانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ مثلاً ہندوٴں کے ہاں شادی کرنے سے پہلے دن اور وقت متعین کرنے کے لیے پنڈتوں سے پوچھا جاتا ہے۔ وہ اگر رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت مقرر کردے تو اُسی وقت شادی کی جاتی ہے، اس سے آگے پیچھے شادی کرنا بدفالی سمجھا جاتاہے ۔ آج یہی فاسد خیالات مسلم اقوام میں دَر آئے ہیں، اس لیے صفر کی خصوصاً ابتدائی تاریخوں کو جو منحوس سمجھا جاتا ہے تو یہ سب جہالت کی باتیں ہیں، دین اسلام کے روشن صفحات ایسے توہمات سے پاک ہیں۔ کسی وقت کو منحوس سمجھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں بلکہ کسی دن یا کسی مہینہ کو منحوس کہنا درحقیقت اللہ ربّ العزت کے بنائے ہوئے زمانہ میں، جو شب وروز پر مشتمل ہے، نقص اور عیب لگانے کے مترادف ہے اور اس چیز سے نبی نے ان الفاظ میں روک دیا ہے۔حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
یُؤْذِیْنِي ابْنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّهر وَأنَا الدَّهْرُ، بَیِدِيَ الْأمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ.
(بخاری، الصحیح، 4/1825، رقم: 4549، مسلم، الصحیح، 4/1762، ابو داود، السنن، 4/369)
’’ ابنِ آدم مجھے تکلیف دیتا ہے۔ وہ وقت (دن، مہینے، سال) کو گالی دینا ہے حالاں کہ وقت (زمانہ) میں ہوں، بادشاہت میرے ہاتھ میں ہے، میں ہی دن اور رات کو بدلتا ہوں۔‘‘
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ دن رات اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کسی کو عیب دار ٹھہرانا خالق و مالک کی کاری گری میں در حقیقت عیب نکالنا ہے۔
حقیقت خرافات میں کھو گئی !
یقیناً! اسلام ایک ایسا ہمہ جہت، کامل اور آسمانی نظامِ حیات ہے جو ہر طرح کے باطل نظریات، جہالت آمیز خیالات اور خود تراشیدہ عقائد سے پاک اور منزّہ ہے۔ اس دین کی اساس مضبوط دلائل پر رکھی گئی ہے، اور اس کے احکام و ہدایات اپنی جامعیت اور کمال کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ اس روشن دین میں خرافات کے لیے نہ کوئی جگہ ہے اور نہ ہی کوئی گزرگاہ۔
لیکن افسوس صد افسوس! کہ بعض لا علم لوگوں نے اس خالص دین کے پاکیزہ چشمے میں اپنے باطل افکار اور گمراہ کن توہمات کی آمیزش کرنے کی ناکام کوشش کی، تاکہ بھولے بھالے عوام کو جہالت کی تاریکی میں دھکیل سکیں۔
ایسے ہی من گھڑت عقائد میں ایک نمایاں مثال ماہِ صفر کے بارے میں رائج وہ جاہلانہ رسومات اور بے بنیاد تصورات ہیں، جو ہر سال اس مہینے کی آمد پر عجیب و غریب رسموں اور توہمات کی صورت میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ماہِ صفر، اسلامی مہینوں میں دوسرا مہینہ ہے، جسے بعض اہلِ دانش نے ’’صفر المظفر‘‘ کہہ کر اس پر لگے وہم و بدگمانی کے غبار کو جھاڑنے اور اس کی حقیقت کو آشکار کرنے کی سنجیدہ کوشش کی، تاکہ لوگوں کو حقیقت کا چہرہ دکھایا جا سکے اور باطل روایات کی زنجیروں سے آزاد کیا جا سکے۔





















