پنجاب کا دارالحکومت لاہور، جو پاکستان کا ثقافتی اور معاشی مرکز ہے، طویل عرصے سے واٹر مینجمنٹ کے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ خاص طور پر دریائے راوی، جو شہر کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے، صنعتی اور گھریلو فضلے کی وجہ سے شدید آلودگی کا شکار ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر، پنجاب حکومت نے راوی میں آلودہ پانی کی روک تھام کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لاہور کے چھ اہم مقامات پر سمارٹ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کیے جائیں گے، جن کا مقصد سیوریج کے پانی کو صاف کرکے اسے زرعی مقاصد کے لیے قابل استعمال بنانا ہے۔ اس اہم منصوبے کی تفصیلات پر غور کرنے کے لیے سیکرٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کے ایم ڈی غفران احمد نے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔
پس منظر اور ضرورت
دریائے راوی، جو کبھی لاہور کے لیے زندگی کا سرچشمہ تھا، آج کل آلودگی کی وجہ سے اپنی تاریخی اہمیت کھو رہا ہے۔ صنعتی فضلہ، ناقص سیوریج سسٹم، اور شہری آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات نے راوی کے پانی کو نہ صرف ناقابل استعمال بلکہ صحت کے لیے مضر بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کے ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں پانی کی آلودگی سے ہر سال ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں، اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں یہ مسئلہ خاص طور پر سنگین ہے۔ راوی میں سیوریج کے پانی کے بے قابو اخراج نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ زراعت اور ماہی پروری جیسے شعبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔
اس تناظر میں، لاہور کے لیے سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس کا قیام ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف راوی کے پانی کو آلودگی سے پاک کرنے میں مدد دے گا بلکہ سیوریج کے پانی کو زرعی استعمال کے لیے دوبارہ قابل استعمال بناکر پانی کے وسائل کے تحفظ میں بھی کردار ادا کرے گا۔
منصوبے کی تفصیلات
واسا کے ایم ڈی غفران احمد نے اجلاس میں بتایا کہ لاہور کے چھ اہم آؤٹ فال مقامات پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب تجویز کی گئی ہے۔ یہ مقامات شہر کے سیوریج کے اخراج کے اہم پوائنٹس ہیں، جہاں سے آلودہ پانی براہ راست راوی یا نہروں میں شامل ہوتا ہے۔ پہلے مرحلے میں دو اہم مقامات، بابو صابو اور کٹار بند، پر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کا کام شروع کیا جائے گا۔
بابو صابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ: اس منصوبے پر تقریباً 60 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ پلانٹ لاہور کے مغربی حصے میں سیوریج کے پانی کو صاف کرنے کی بڑی صلاحیت رکھے گا۔ اس کی تکمیل سے شہر کے ایک بڑے حصے سے نکلنے والا آلودہ پانی راوی میں شامل ہونے سے پہلے صاف کیا جائے گا۔
کٹار بند ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ: اس پلانٹ پر تقریباً 23 ارب روپے کی لاگت متوقع ہے۔ یہ منصوبہ شہر کے شمالی حصے میں سیوریج کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دونوں منصوبوں کے لیے فنڈنگ غیر ملکی ڈونر ایجنسیوں سے حاصل کی جائے گی، جس سے صوبائی بجٹ پر اضافی دباؤ نہیں پڑے گا۔ ان پلانٹسوں کی تنصیب کے بعد، لاہور کا سیوریج کا پانی براہ راست دریاؤں یا نہروں میں ڈالنے کے بجائے صاف کیا جائے گا اور اسے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
سمارٹ واٹر مینجمنٹ کا تصور
یہ ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گے اور انہیں "سمارٹ واٹر مینجمنٹ سسٹم” کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس نظام کے تحت پانی کے بہاؤ، معیار، اور ٹریٹمنٹ کے عمل کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔ خودکار سینسرز اور ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا، جبکہ آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے توانائی کے موثر حل استعمال کیے جائیں گے۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل نے کہا کہ ان پلانٹس کی تکمیل سے لاہور کا پانی مکمل طور پر قابل استعمال ہو جائے گا، جو شہر کے ماحولیاتی اور معاشی منظر نامے میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گا۔
ماحولیاتی اور معاشی فوائد
اس منصوبے کے کامیاب ہونے سے لاہور اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں کئی فوائد متوقع ہیں۔ سب سے اہم فائدہ دریائے راوی کی آلودگی میں کمی ہوگا، جو نہ صرف ماحولیاتی توازن کو بحال کرے گا بلکہ آبی حیات کے تحفظ میں بھی مدد دے گا۔ صاف کیا گیا سیوریج کا پانی زراعت کے لیے استعمال ہونے سے پانی کے وسائل پر دباؤ کم ہوگا، اور کسانوں کو آبپاشی کے لیے اضافی وسائل میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ، یہ منصوبہ صحت عامہ کو بہتر بنانے میں بھی کردار ادا کرے گا، کیونکہ آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں جیسے کہ ڈائریا اور ہیپاٹائٹس میں کمی آئے گی۔
معاشی طور پر، یہ منصوبہ غیر ملکی سرمایہ کاری اور ڈونر ایجنسیوں کی شمولیت کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ پلانٹس کی تنصیب اور آپریشن کے دوران ہزاروں افراد کے لیے ملازمتیں پیدا ہوں گی، جو مقامی معیشت کو فروغ دیں گی۔
تاریخی سیاق و سباق
لاہور میں واٹر مینجمنٹ کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں ماضی میں بھی کی گئی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں واسا نے سیوریج کے پانی کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے، لیکن وسائل کی کمی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2010 کی دہائی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی مدد سے لاہور کے سیوریج سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات اٹھائے گئے، لیکن شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی نے ان کوششوں کو ناکافی بنا دیا۔ موجودہ منصوبہ ان سابقہ تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے ایک زیادہ منظم اور ٹیکنالوجی پر مبنی نقطہ نظر اپناتا ہے۔
چیلنجز اور حکمت عملی
اس منصوبے کے نفاذ میں کئی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج فنڈنگ کا بروقت حصول اور اس کا شفاف استعمال ہے۔ غیر ملکی ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کے دوران دفتری رکاوٹوں اور تاخیر کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی کمیونٹیز کی طرف سے منصوبوں کے مقامات پر اعتراضات یا مزاحمت بھی سامنے آ سکتی ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے، حکومت نے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے جس میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آزاد آڈٹ، کمیونٹی کی شمولیت، اور باقاعدہ مانیٹرنگ شامل ہے۔
مستقبل کے امکانات
سیکرٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل کے مطابق، یہ منصوبہ لاہور کے پانی کے نظام میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ چھ آؤٹ فال مقامات پر پلانٹس کی تنصیب مکمل ہونے کے بعد، شہر کا سیوریج کا پانی مکمل طور پر صاف کیا جائے گا، جو لاہور کو پاکستان کا سب سے ماحول دوست شہر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔ طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت، اس ماڈل کو پنجاب کے دیگر شہروں جیسے کہ فیصل آباد، ملتان، اور گوجرانوالہ میں بھی نافذ کیا جائے گا۔
لاہور میں سمارٹ واٹر مینجمنٹ پلانٹس کا منصوبہ ایک جرات مندانہ اور دور اندیش اقدام ہے جو شہر کے ماحولیاتی، معاشی، اور سماجی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ راوی کی آلودگی کو روکنے اور سیوریج کے پانی کو زرعی استعمال کے لیے قابل استعمال بنانے سے نہ صرف لاہور کے شہریوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ یہ منصوبہ پاکستان کے دیگر شہروں کے لیے ایک رول ماڈل بھی بن سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے اہداف حاصل کر لیتا ہے تو لاہور ایک بار پھر "زندہ دلان لاہور” کے اپنے تاریخی لقب کے ساتھ انصاف کر سکے گا۔





















