تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف ایک غیر معمولی اور سخت دھمکی جاری کی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل کو دھمکیاں جاری رکھیں تو اسرائیلی فضائیہ نہ صرف تہران تک دوبارہ پہنچے گی بلکہ اس بار یہ حملہ براہ راست خامنہ ای کو نشانہ بنائے گا۔ یہ بیان ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ تنازعے کے خاتمے کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے، جس نے خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا تھا۔
رامون ایئر بیس سے کاتز کا سخت پیغام
اتوار کے روز اسرائیل کے رامون ایئر فورس بیس کے دورے کے دوران، وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل تومر بار کے ہمراہ ایک تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی فوجی طاقت کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کاتز نے کہا، "میں یہاں سے خامنہ ای کو ایک واضح پیغام دینا چاہتا ہوں: اگر آپ نے اسرائیل کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو ہماری فضائیہ ایک بار پھر تہران کے آسمانوں پر پرواز کرے گی، اور اس بار ہمارا ہدف آپ خود ہوں گے۔ دھمکی دینے سے باز آئیں، ورنہ آپ کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔”
کاتز نے اپنی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حالیہ تنازعے میں اپنی فضائی برتری ثابت کی ہے اور وہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فضائیہ کی حالیہ کارروائیوں، خاص طور پر "آپریشن رائزنگ لائین” کی کامیابی کی تعریف کی، جس کے دوران اسرائیل نے ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
ایران-اسرائیل تنازعے کا پس منظر
اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی 13 جون 2025 کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب اسرائیل نے ایران کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر ایک بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جسے اسرائیل نے "آپریشن رائزنگ لائین” کا نام دیا۔ اس حملے کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا تھا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور نو جوہری سائنسدانوں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔
جواب میں، ایران نے تل ابیب، یروشلم، اور دیگر اسرائیلی شہروں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن سے کم از کم 24 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں ایران میں 585 افراد ہلاک اور 1,300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس تنازعے نے خطے کو ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، لیکن 24 جون 2025 کو امریکی ثالثی کے تحت ایک جنگ بندی معاہدے نے اسے عارضی طور پر روک دیا۔
اسرائیل کے حملوں میں ایران کے شہران آئل ڈپو اور فورڈو، نطنز، اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج نے بھی 22 جون کو تین اہم ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے، جس سے ایران کے جوہری پروگرام کو شدید دھچکا لگا۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں قطر میں واقع امریکی ایئر بیس، العدید، پر میزائل داغے، جس سے جنگ بندی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئیں۔
کاتز کا انٹرویو اور عالمی ردعمل
ایک اسرائیلی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں، کاتز نے اپنی دھمکی کو دہرایا اور کہا کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال ہونے سے روکنے کے لیے ہر ممکنہ اقدام اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حالیہ جنگ میں خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، لیکن "مناسب موقع” نہ ملنے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ کاتز نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اس طرح کے اقدامات کے لیے امریکہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر خامنہ ای کے قتل کے اسرائیلی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔
عالمی برادری نے کاتز کے بیان پر مخلوط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس اراغچی نے اس دھمکی کو "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی جارحیت کا "سخت اور فیصلہ کن” جواب دے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کرے۔ دوسری جانب، امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی حمایت بھی کی۔
خطے کے دیگر ممالک، جیسے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، نے اس تنازعے پر محتاط رویہ اپنایا ہے، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے خبردار کیا کہ ایران میں "زبردستی تبدیلی” خطے میں افراتفری کا باعث بن سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ہلچل
کاتز کے بیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ صارفین نے اسے اسرائیل کی جرات مندانہ پالیسی کا حصہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے خطے میں مزید کشیدگی کا باعث سمجھا۔ ایک صارف نے لکھا، "کاتز کا یہ بیان جنگ کی طرف ایک اور خطرناک قدم ہے۔ ایران کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔” دوسری جانب، ایک اور صارف نے لکھا، "اسرائیل اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔ خامنہ ای کی دھمکیوں کا جواب دینا ضروری ہے۔”
پس منظر
ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی جڑیں گہری ہیں، جو ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں، جیسے کہ حزب اللہ اور حوثیوں، کے ذریعے اسرائیل کے خلاف پراکسی جنگوں سے جڑی ہیں۔ اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ یہ اس کے وجود کے لیے خطرہ ہے۔ حالیہ تنازعے سے قبل، اسرائیل نے 2020 میں ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل سمیت متعدد خفیہ کارروائیاں کی تھیں، جن کا الزام ایران نے اسرائیل پر عائد کیا تھا۔
"آپریشن رائزنگ لائین” کے دوران، اسرائیل نے ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر ان چیف حسین سلامی اور دیگر اعلیٰ کمانڈرز کی ہلاکت شامل ہے۔ ایران نے اس کا جواب بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں سے دیا، لیکن اسرائیل کے آئرن ڈوم دفاعی نظام نے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز کی طرف سے آیت اللہ علی خامنہ ای کو براہ راست دھمکی ایک غیر معمولی اور خطرناک پیش رفت ہے، جو خطے میں کشیدگی کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ کاتز کا یہ بیان اسرائیل کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی خطے میں جارحانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ تاہم، خامنہ ای کو ذاتی طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی ایک ایسی سرخ لکیر کو عبور کرنے کے مترادف ہے، جو ایران کو بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی پر مجبور کر سکتی ہے۔
کاتز کے بیان کا وقت بھی اہم ہے۔ حالیہ 12 روزہ جنگ کے بعد، جس نے ایران کے فوجی اور جوہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، ایران اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خامنہ ای کی طرف سے اسرائیل کے خلاف "سخت جواب” کے وعدے اور ایرانی عوام کی طرف سے ملکی یکجہتی کے مظاہرے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران اس دھمکی کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
اسرائیل کی فضائی برتری اور حالیہ حملوں میں اس کی کامیابی، جیسے کہ شہران آئل ڈپو اور جوہری تنصیبات پر حملے، اسے ایک نفسیاتی اور فوجی برتری دیتی ہے۔ تاہم، کاتز کا یہ دعویٰ کہ اسرائیل خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، حقیقت سے زیادہ ایک دھمکی آمیز بیان لگتا ہے، کیونکہ خامنہ ای کی حفاظت ایران کے سخت گیر سیکیورٹی نظام کے تحت ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے خامنہ ای کے قتل کے منصوبے کو مسترد کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ خطے میں ایک مکمل جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسی ایران کے ساتھ مذاکرات اور فوجی دباؤ کے درمیان توازن قائم کرنے کی ہے، لیکن اسرائیل کی جارحانہ پالیسی اس توازن کو خراب کر سکتی ہے۔
خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر خلیجی ریاستیں، اس تنازعے سے براہ راست متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ ایران نے اسرائیل کے اتحادیوں کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ اگر یہ تنازعہ دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات، خاص طور پر تیل کی قیمتوں پر، عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں، کیونکہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو روک سکتا ہے۔
کاتز کا یہ بیان اسرائیل کی اندرونی سیاست کا بھی حصہ ہو سکتا ہے، جہاں نیتن یاہو کی حکومت سخت گیر پالیسیوں کے ذریعے اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، اس طرح کے بیانات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں اور ایران کو اپنے اتحادیوں، جیسے کہ حزب اللہ اور حوثیوں، کے ذریعے پراکسی حملوں کے لیے اکسا سکتے ہیں۔
اس تنازعے سے بچنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ امریکی ثالثی نے جنگ بندی کو ممکن بنایا تھا، اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کو بحال کیا جائے۔ تاہم، کاتز کے اس بیان نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے اور خطے کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر دونوں فریقین اپنی سخت گیر پوزیشنز سے پیچھے نہ ہٹے تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اسرائیل بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔





















