لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود، صوبے کے اسپتالوں کی حالت زار نومولود بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں بروقت طبی امداد کی عدم دستیابی، آکسیجن کی شدید کمی، اور شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ کے واقعات نے پنجاب کے چھوٹے اور بڑے اسپتالوں میں 270 سے زائد نومولود بچوں کی جانیں لے لیں۔ یہ اعداد و شمار ان بچوں سے الگ ہیں جو پیدائشی طور پر مختلف طبی مسائل کے باعث ہلاک ہوئے، جن کی تعداد ہر سال سیکڑوں میں ہے۔ یہ صورتحال صوبے کے صحت عامہ کے نظام کی خرابیوں اور سہولیات کے فقدان کو عیاں کرتی ہے۔
نرسریوں کی بدحالی اور نومولود کی ہلاکتیں
پنجاب کے اسپتالوں میں نومولود بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی نرسریاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جو کہ عملی طور پر کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق، صوبے بھر میں آکسیجن کی کمی، شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ، اور طبی امداد میں تاخیر جیسے واقعات نے گزشتہ دو سالوں میں نومولود بچوں کی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ کیا ہے۔ ان واقعات نے نہ صرف خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا بلکہ صحت کے نظام کی ناکامی کو بھی اجاگر کیا۔
رپورٹس کے مطابق، پنجاب کے مختلف شہروں جیسے کہ ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، راولپنڈی، جہلم، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، ملتان، اوکاڑہ، بھکر، لیہ، اور وہاڑی کے اسپتالوں کی نرسریوں میں آکسیجن کی کمی اور آگ لگنے کے واقعات سے نومولود بچوں کی اموات رپورٹ ہوئیں۔ مثال کے طور پر، ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی نرسری میں ایک خراب ایئر کنڈیشنر پلگ سے بار بار چنگاریاں نکلنے کی شکایات کے باوجود کوئی توجہ نہ دی گئی، جس کے نتیجے میں آگ لگنے سے متعدد بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ ایک متاثرہ جوڑے نے بتایا کہ "ہم نے بارہا شکایت کی، لیکن انتظامیہ نے کوئی ایکشن نہ لیا۔ آگ نے ہمارے بچے سمیت کئی معصوم جانوں کو نگل لیا۔”
اسی طرح، پاکپتن کے ایک اسپتال میں آکسیجن سلنڈرز کی تاخیر سے آمد کے باعث 20 نومولود بچوں کی اموات ہوئیں۔ اگرچہ اس واقعے کے دس دن بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا اور صحت کے حکام کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی، لیکن بعد میں یہ مقدمات ختم کر دیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کی جانیں گئیں، لیکن انہیں کوئی خاطر خواہ امداد یا انصاف نہیں ملا۔
اسپتالوں کی تعداد اور سہولیات کا فقدان
اک نجی اخبار کو حاصل دستاویزات کے مطابق، پنجاب میں چھوٹے اور بڑے اسپتالوں سمیت صحت کے مراکز کی مجموعی تعداد 4,572 ہے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں یہ تعداد 136 ہے۔ اس کے باوجود، ان اسپتالوں کی حالت تشویشناک ہے۔ نرسریوں میں ضروری طبی آلات، جیسے کہ وینٹی لیٹرز، آکسیجن سلنڈرز، اور ایمرجنسی کٹس کی شدید کمی ہے۔ اس کے علاوہ، تربیت یافتہ عملے کی کمی اور ناقص انتظامیہ نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نوید اکبر ہوتیانہ کے مطابق، نرسریاں گائناکالوجی وارڈز سے منسلک ہوتی ہیں، جہاں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں، سانس کے مسائل، یا انفیکشن کا شکار نومولود بچوں کو ابتدائی طور پر مستحکم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بڑے اسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ اور چھوٹے اسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی نرسریوں کی حالت کو خراب کر رہی ہے۔”
آکسیجن کی سپلائی میں مسائل
ایک آکسیجن سپلائر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری اسپتالوں کو آکسیجن کی ترسیل میں تاخیر کی بنیادی وجہ ادائیگیوں میں غیر معمولی تاخیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے بل تین سے چھ ماہ تک ادا نہیں کیے جاتے، بعض اوقات تو ایک سال تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود ہم سپلائی جاری رکھتے ہیں، لیکن ہمارے بھی اپنے اخراجات ہوتے ہیں۔ اگر حکومت بروقت ادائیگی کرے تو سپلائی چین بہتر ہو سکتی ہے۔”
اس حوالے سے پنجاب حکومت کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ گزشتہ سال صوبے کے مختلف اسپتالوں کی نرسریوں میں متعدد افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ "حکومت نے ذمہ دار ڈاکٹروں کو معطل کیا، صحت کے حکام کے خلاف مقدمات درج کیے، اور متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود ان شہروں کا دورہ کیا اور فوری اقدامات اٹھائے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کی نرسریوں کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی پر عمل پیرا ہے۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین نے پنجاب کے اسپتالوں کی حالت پر شدید تنقید کی۔ ایک صارف نے لکھا، "حکومت اربوں روپے خرچ کرنے کے دعوے کرتی ہے، لیکن نومولود بچوں کی جانیں بچانے کے لیے آکسیجن تک نہیں؟ یہ شرمناک ہے!” ایک اور صارف نے کہا، "ساہیوال اور پاکپتن جیسے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر نرسریوں کی حالت بہتر کرنی چاہیے۔” کچھ صارفین نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کی تعریف کی، لیکن اکثریت نے صحت کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
پس منظر
پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، جہاں صحت کے شعبے پر بجٹ کا ایک بڑا حصہ خرچ کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ فنڈز زیادہ تر بڑے شہروں کے اسپتالوں تک محدود رہتے ہیں، جبکہ دیہی اور چھوٹے شہروں کے اسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت اسپتالوں کی نجکاری کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے دیہی علاقوں کے غریب مریضوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
پنجاب میں زچگی اور نومولود بچوں کی شرح اموات (Neonatal Mortality Rate – NMR) دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن پھر بھی یہ 41 فی 1,000 زندہ پیدائشوں کے مقابلے میں ہے، جو کہ عالمی معیارات سے کہیں زیادہ ہے۔ آکسیجن کی کمی اور نرسریوں میں سہولیات کی عدم دستیابی اس شرح کو مزید بڑھا رہی ہے۔
پنجاب کے اسپتالوں میں گزشتہ دو سالوں میں 270 سے زائد نومولود بچوں کی اموات ایک ایسی المناک حقیقت ہے جو صوبے کے صحت عامہ کے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔ آکسیجن کی کمی، شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ، اور بروقت طبی امداد کی عدم دستیابی جیسے واقعات نہ صرف انتظامی نااہلی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔ حکومت کے اربوں روپے خرچ کرنے کے دعوے اس وقت کھوکھلے لگتے ہیں جب ساہیوال اور پاکپتن جیسے واقعات سامنے آتے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی نے معصوم جانیں چھین لیں۔
نرسریوں کی بدحالی کا ایک بڑا سبب وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہروں کے اسپتالوں کو جدید سہولیات ملتی ہیں، جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے اسپتالوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ آکسیجن سپلائی کے مسائل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مالیاتی انتظامات میں شدید خامی موجود ہے۔ اگر سپلائرز کے بل بروقت ادا کیے جائیں تو آکسیجن کی کمی جیسے مسائل کو بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی طرف سے ڈاکٹروں کی معطلی اور متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے جیسے اقدامات عارضی حل ہیں۔ اصل مسئلہ صحت کے نظام کی بنیادی اصلاحات کا فقدان ہے۔ نرسریوں میں جدید وینٹی لیٹرز، آکسیجن سلنڈرز، اور تربیت یافتہ عملے کی فراہمی کے بغیر اس طرح کے واقعات کو روکنا ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ، اسپتالوں میں برقی نظام کی باقاعدہ جانچ پڑتال اور فائر سیفٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ساہیوال جیسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے دوروں اور پالیسی اعلانات ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کا اثر تب ہی ہوگا جب ان پر عمل درآمد کیا جائے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل سے فائدہ اٹھانے کے لیے شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ یہ ماڈل غریب مریضوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔
پنجاب کے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے چند فوری اقدامات کی ضرورت ہے:
نرسریوں کی اپ گریڈیشن: ہر ضلعی اسپتال کی نرسری کو جدید آلات اور تربیت یافتہ عملے سے لیس کیا جائے۔
آکسیجن سپلائی چین کی بہتری: سپلائرز کے بلز کی بروقت ادائیگی اور آکسیجن سلنڈرز کی مستقل دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
فائر سیفٹی پروٹوکولز: اسپتالوں میں برقی آلات کی باقاعدہ جانچ اور فائر ایگزٹ سسٹم کی تنصیب لازمی قرار دی جائے۔
عوامی آگاہی: خاندانی منصوبہ بندی اور زچگی سے متعلق صحت کی آگاہی کے پروگرامز کو دیہی علاقوں تک وسعت دی جائے۔
یہ واقعات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان خاندانوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا۔ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے تو یہ اعداد و شمار بڑھتے رہیں گے، اور صحت کا نظام عوام کا اعتماد کھوتا رہے گا۔ پنجاب کو ایک ایسے صحت کے نظام کی ضرورت ہے جو نہ صرف دعوؤں بلکہ نتائج کے لحاظ سے بھی مثالی ہو۔





















