بھارتی فوج میں ’’جگاڑ‘‘ کلچر مستقل روایت بن چکا

بھارت کا دفاعی نظام نہ صرف زوال کا شکار ہے بلکہ پرانے سوویت طیاروں اور "جگاڑ کلچر" پر انحصار آج بھی برقرار ہے

بھارت کی مودی سرکار نے برسراقتدار آتے ہی "میک اِن انڈیا” کا نعرہ بلند کیا، جس کا مقصد دفاعی خود انحصاری، صنعتی ترقی، اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کرنا تھا۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ بھارتی فوج میں ’’جگاڑ‘‘ کلچر ایک مستقل روایت بن چکا ۔دعووں اور اشتہاری مہمات کے باوجود بھارت کا دفاعی نظام نہ صرف زوال کا شکار ہے بلکہ پرانے سوویت طیاروں اور "جگاڑ کلچر” پر انحصار آج بھی برقرار ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا جدید ترین ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ چکی ہے۔

دفاعی خود انحصاری کا کھوکھلا نعرہ

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2014 میں "میک ان انڈیا” مہم کا آغاز کیا تھا، جسے دفاعی شعبے میں انقلاب کی نوید سمجھا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ بھارت مقامی طور پر ہتھیار اور دفاعی سازوسامان تیار کرے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو۔ لیکن دس سال بعد یہ مہم محض ایک سیاسی نعرہ ثابت ہوئی ہے۔ بھارت آج بھی پرانے اور ناکارہ ہتھیاروں پر انحصار کرتا نظر آتا ہے، خاص طور پر سوویت دور کے مشہور مگر اب پرانے MiG-21 طیاروں پر۔

62 سال پرانے طیارے اور دفاعی بحران

بھارت کے جنگی فضائی بیڑے کا انحصار اب تک 62 سال پرانے MiG-21 طیاروں پر رہا ہے۔ یہ طیارے 1963 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے اور اب تک تقریباً 450 MiG-21 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ہر دوسرا حادثہ جان لیوا ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں 170 سے زائد پائلٹ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا انہیں "اڑتا ہوا تابوت” اور "بیوائیں بنانے والا” جیسے ناموں سے یاد کرتا ہے۔

جگاڑ کلچر: وقتی حل یا خطرناک روایت؟

بھارتی فوج میں "جگاڑ” کلچر ایک مستقل روایت بن چکا ہے۔ "جگاڑ” کا مطلب ہے فوری اور سستا حل نکالنا، چاہے وہ دیرپا ہو یا نہیں۔ یہی کلچر بھارتی دفاعی اداروں میں بھی سرایت کر چکا ہے، جہاں ناکارہ طیاروں کو پیوند کاری کے ذریعے زبردستی قابلِ استعمال بنایا جاتا رہا۔ بھارتی فوج نے MiG-21 طیاروں کو جگاڑ کے ذریعے 62 سال تک فعال رکھا، جو کہ ٹیکنالوجی اور انسانی جانوں دونوں کے لیے ایک خطرناک روش ہے۔

LCA: ایک منصوبہ جو اب تک محض کاغذوں میں ہے

MiG-21 طیاروں کو تبدیل کرنے کے لیے بھارت نے 1983 میں "لائٹ کمبیٹ ایئر کرافٹ” (LCA) منصوبے کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد جدید اور مقامی ساختہ لڑاکا طیارہ تیار کرنا تھا۔ لیکن چار دہائیوں بعد بھی یہ منصوبہ مکمل شکل اختیار نہیں کر سکا۔ تاخیر، بیوروکریسی، تکنیکی مسائل، اور غیر موثر منصوبہ بندی نے اس پروگرام کو محض فائلوں تک محدود کر دیا ہے۔ نتیجتاً بھارتی فضائیہ کو مجبوری کے تحت MiG-21 جیسے پرانے طیارے استعمال کرتے رہنا پڑا۔

MiG-21 Bison: عارضی مرمت، مستقل مسئلہ

1990 کی دہائی کے اختتام پر بھارت نے 125 MiG-21 طیاروں کو "Bison” ماڈل تک اپ گریڈ کیا، جس میں روسی، بھارتی، فرانسیسی، اور اسرائیلی ٹیکنالوجی شامل کی گئی۔ اگرچہ یہ اپ گریڈ وقتی طور پر مؤثر ثابت ہوئی، مگر یہ دیرپا حل نہیں تھا۔ تکنیکی مسائل، محدود عمر، اور حادثات کی شرح میں کمی نہ آنے کے باعث یہ ماڈل بھی اپنی افادیت کھو بیٹھا۔

فضائیہ کی سکواڈرنز میں خطرناک کمی

ستمبر 2025 میں MiG-21 کے آخری اسکواڈرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی فضائیہ کی مجموعی سکواڈرنز کی تعداد 29 رہ جائے گی، جبکہ ضرورت 42.5 اسکواڈرنز کی ہے۔ یہ خلا نہ صرف بھارت کی جنگی تیاریوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ مودی سرکار کے دفاعی ماڈل کی ناکامی کا ثبوت بھی ہے۔

دفاعی پالیسی کی ناکامیاں

مودی حکومت نے "میک ان انڈیا” کو عالمی سطح پر خوب بیچا، لیکن اندرونی طور پر نہ تو مقامی پروڈکشن کو تقویت دی جا سکی اور نہ ہی دفاعی انحصار کو ختم کیا جا سکا۔ ڈیڑھ دہائی پرانا LCA منصوبہ اب تک پائلٹ پروازوں اور ٹرائلز سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ غیر ملکی دفاعی سازوسامان کی درآمدات بدستور جاری ہیں، جبکہ مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی رکی ہوئی ہے۔

میڈیا گمک یا دفاعی حقیقت؟

میک اِن انڈیا کے نام پر کروڑوں روپے اشتہارات پر خرچ کیے گئے، مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت آج بھی روسی ملبے اور جگاڑ پر چل رہا ہے۔ مودی سرکار کا نعرہ اب ایک کھوکھلا وعدہ بن چکا ہے، جس سے بھارتی سلامتی اور خودمختاری کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

جگاڑ سے دفاع نہیں ہوتا

ایک مضبوط اور جدید دفاعی نظام وقتی جگاڑ سے نہیں چلایا جا سکتا۔ انسانی جانوں کی قیمت پر پرانے طیارے اڑانا صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن ایک حقیقی خودمختار ملک کے لیے یہ طرز عمل خطرناک ہے۔ مودی سرکار کو چاہیے کہ محض نعرے لگانے کے بجائے دفاعی پالیسیوں کو عملی شکل دے، ورنہ بھارت کا دفاعی نظام صرف اشتہاری مہمات کا شکار رہے گا، اور جگاڑ کلچر بھارتی سلامتی کو مزید کمزور کرتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین