بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے پہلگام حملے کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف کر کے بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں بلکہ ابتدائی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی شہری تھے، جنہوں نے ملک کے اندر ہی دہشتگردی کی تربیت حاصل کی۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی میڈیا میں تہلکہ مچا دیا بلکہ سرکاری بیانیے کی شفافیت پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پہلگام حملہ: ایک مختصر پس منظر
اپریل 2025 میں مقبوضہ کشمیر کے معروف سیاحتی مقام، پہلگام میں ایک ہولناک دہشت گرد حملہ ہوا جس میں 26 افراد جان سے گئے۔ یہ حملہ ایسے وقت پر کیا گیا جب علاقے میں سیاحت کا موسم عروج پر تھا، اور بڑی تعداد میں مقامی و غیر ملکی سیاح وادی کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ حملے کے فوری بعد بھارتی حکومت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزام عائد کر دیا، اور روایتی طرز پر اپنی افواج کو متحرک کر کے ’آپریشن سندور‘ کا آغاز کر دیا۔
چدمبرم کا سوال: ثبوت کہاں ہیں؟
پی چدمبرم نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے برملا کہا کہ حکومت بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام کیوں ٹھہرا رہی ہے؟ اگر واقعی حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، تو ان کی نقل و حرکت، سرحد پار داخلہ، تربیت، اور معاونت سے متعلق شواہد کیوں عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے؟ ان کے مطابق تاحال حملے کے پیچھے کسی بیرونی ہاتھ کی تصدیق نہیں ہوئی بلکہ تحقیقات کے ابتدائی اشارے حملہ آوروں کے بھارتی ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف: مذمت اور شفاف تحقیقات کی پیشکش
پاکستان نے پہلگام حملے کے فوراً بعد اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ چاہے تو اس واقعے کی شفاف اور مشترکہ تحقیقات کے لیے تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، بھارت نے حسب معمول اس پیشکش کو رد کرتے ہوئے پاکستان پر روایتی انداز میں الزام تراشی کو ترجیح دی۔
سیاسی اور سفارتی مضمرات
چدمبرم کا یہ بیان نہ صرف بھارت کے داخلی سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی گونج سنائی دی ہے۔ بھارت کی جانب سے ہر دہشت گرد واقعے کے فوراً بعد بغیر تحقیق پاکستان پر الزام لگانے کی پالیسی اب سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔ عالمی برادری میں بھارت کی شبیہ ایک جمہوری اور ذمہ دار ریاست کی ہو سکتی ہے، لیکن بغیر ثبوت الزام تراشی نہ صرف اس شبیہ کو دھندلا کرتی ہے بلکہ دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی کو بھی ہوا دیتی ہے۔
داخلی تربیت یافتہ دہشتگرد: ایک سنگین خطرہ
اگر واقعی چدمبرم کے انکشافات درست ہیں، تو یہ بھارت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہیے کہ ملک کے اندر ہی ایسے عناصر موجود ہیں جو دہشتگردی کی تربیت حاصل کر کے شہریوں کی جانوں سے کھیلنے پر آمادہ ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے انٹیلیجنس نظام، داخلی سلامتی اور پالیسی سازی پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔
میڈیا اور سچ کا گلا گھونٹا گیا؟
بھارت کا مرکزی دھارے کا میڈیا عرصہ دراز سے سرکاری بیانیے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں مشغول ہے۔ پہلگام حملے کے بعد بھی میڈیا نے تحقیقاتی رپورٹوں اور آزاد تجزیوں کے بجائے صرف پاکستان مخالف بیانات کو نمایاں کیا۔ لیکن چدمبرم جیسے سابق وزیر داخلہ کا کھل کر بولنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سچ دبایا تو جا سکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
سچائی کی روشنی یا اندھیر نگری؟
پی چدمبرم کا انکشاف صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ بھارت میں کئی بار داخلی ناکامیوں اور انتظامی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ پہلگام حملہ ایک المیہ تھا جس میں بے گناہ لوگ مارے گئے، اور ان کے اہلِ خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ اس حملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے، شفاف تحقیقات، بین الاقوامی تعاون، اور سچائی کی روشنی میں اصل مجرموں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔





















