پاکستان میں مون سون کا پانچواں سلسلہ برسنے کو تیار ہے، اور ملک بھر میں موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی نے ایک مرتبہ پھر شہریوں اور اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف بارشیں موسم کو خوشگوار بنانے اور زراعت کے لیے سودمند ثابت ہوتی ہیں، وہیں دوسری طرف ناقص انفراسٹرکچر، نکاسی آب کے مسائل، اور کمزور حفاظتی انتظامات کی بدولت یہ بارشیں انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن جاتی ہیں۔
پی ڈی ایم اے کی الرٹ وارننگ
پنجاب کے مختلف اضلاع میں آج شام سے موسلادھار بارشوں کا آغاز متوقع ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) نے لاہور، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، گجرات، جہلم، اور گوجرانوالہ کے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان کے علاوہ فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر، اور ملتان میں بھی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ بارشیں 31 جولائی تک جاری رہیں گی، اور اس دوران نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے، لینڈ سلائیڈنگ، اور بجلی کی بندش جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے حالات
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پشاور اور دیگر میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ ایسے میں شدید گرمی کے بعد ہونے والی بارشیں آندھی یا طوفانی صورت بھی اختیار کر سکتی ہیں، جو کہ درختوں کے گرنے، کمزور عمارتوں کو نقصان پہنچنے، اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے جیسے مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔
انسانی جانوں کا ضیاع
مون سون بارشیں جہاں فطرت کا ایک حسین تحفہ ہیں، وہیں ان کی شدت اور ہمارا ناقص شہری ڈھانچہ بار بار انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے باعث مزید 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 21 افراد زخمی ہوئے۔ یوں رواں مون سون سیزن میں اب تک 279 افراد جاں بحق اور 676 زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ اعدادوشمار ایک لمحہ فکریہ ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے، سیلابی ریلوں میں بہہ جانے، یا ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے ہوئیں۔ بارش کے پانی کے ساتھ جب بجلی کے ننگے تار، کھلے مین ہول، اور کمزور دیواریں ملتی ہیں تو یہ ایک جان لیوا امتزاج بن جاتا ہے۔
مون سون کی رحمت یا زحمت؟
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں مون سون ایک پیچیدہ مظہر بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ زراعت کے لیے آکسیجن کی مانند ہے، جہاں فصلیں بارش کے پانی سے سیراب ہو کر پیداوار میں اضافہ کرتی ہیں۔ دوسری طرف یہی بارش جب شہروں میں آتی ہے تو ٹوٹے ہوئے سڑکوں، بند نالوں، اور کمزور پلوں کے باعث شہریوں کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔
کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور جیسے بڑے شہروں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث صرف آدھے گھنٹے کی بارش بھی گھنٹوں کی اذیت میں بدل جاتی ہے۔ ٹریفک جام، پانی بھرنے سے گاڑیوں کا بند ہو جانا، اور عوامی نقل و حرکت میں مشکلات ایک معمول بن چکا ہے۔
اداروں کی تیاری اور عوام کی ذمہ داری
پنجاب اور خیبرپختونخوا کی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات کا دعویٰ کیا ہے۔ ریسکیو 1122، واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (WASA)، اور مقامی بلدیاتی ادارے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے متحرک کر دیے گئے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کی مشینری نصب کی جا رہی ہے، جبکہ چھوٹے ڈیموں اور نہروں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ طغیانی سے بروقت نمٹا جا سکے۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، برقی آلات کو احتیاط سے استعمال کریں، اور چھتوں یا کمزور دیواروں کے نیچے کھڑا ہونے سے بچیں۔ بارش کے دوران بچوں کو باہر کھیلنے نہ دیا جائے اور خطرناک مقامات جیسے کہ کھلے نالوں یا بجلی کے کھمبوں سے دور رکھا جائے۔
آنے والے دن: احتیاط یا غفلت؟
مون سون سیزن کا ابھی اختتام نہیں ہوا۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگست میں بھی مزید اسپیلز کا امکان موجود ہے۔ ایسے میں ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا، مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا، اور شہری و دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں قدرتی آفات اکثر آتی ہیں، وہاں ان کے ساتھ جینے اور مقابلہ کرنے کے لیے منظم حکمت عملی اور بروقت ردعمل کی اشد ضرورت ہے۔ ہر سال بارش کے پانی میں بہنے والی قیمتی جانیں، اگر کچھ ادارہ جاتی اصلاحات اور اجتماعی احتیاطی رویوں سے بچائی جا سکتی ہوں، تو یہ ہمارے لیے ایک قومی فریضہ بن جاتا ہے۔





















