پاکستان کے معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ ایک بار پھر تنازعات کے گرداب میں پھنس گئے ہیں۔ 28 جولائی 2025 کو ایکسپریس اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، رجب بٹ کے قریبی دوستوں حیدر شاہ، مان ڈوگر، اور شہزی کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر لیک ہوگئی ہیں، جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ یہ ویڈیوز نہ صرف ٹک ٹاک بلکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ٹرینڈ کر رہی ہیں، جس سے صارفین میں شدید غم و غصہ اور حیرت پائی جا رہی ہے۔ رجب بٹ اور ان کے دوستوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے موبائل فونز ہیک کیے گئے، اور یہ ویڈیوز غیر قانونی طور پر لیک کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، رجب بٹ کے ٹک ٹاکر زارا ملک کے ساتھ مبینہ تعلقات اور ان کی حاملہ اہلیہ ایمان بٹ کے ساتھ دھوکہ دہی کے الزامات نے اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ یہ مضمون اس واقعے کے پس منظر، تاریخی سیاق و سباق، اور اس کے سماجی اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
رجب بٹ
رجب بٹ پاکستانی سوشل میڈیا کی ایک معروف شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنے وی لاگز اور ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ وہ اپنی فیملی بلاگنگ، طرز زندگی سے متعلق مواد، اور مذہبی موضوعات پر بات کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ تاہم، وہ اپنے کیریئر کے دوران متعدد تنازعات کا شکار بھی رہے ہیں۔ رواں سال جون میں، رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اغوا اور ریپ کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ، رجب بٹ کی دبئی منتقلی اور وہاں زارا ملک کے ساتھ مبینہ تعلقات نے بھی سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا۔ ان کی اچانک وطن واپسی اور جذباتی وی لاگ نے شائقین کی توجہ حاصل کی، لیکن یہ نیا تنازعہ ان کی ساکھ کے لیے ایک اور دھچکا ثابت ہو رہا ہے۔
نازیبا ویڈیوز کا تنازعہ
حال ہی میں لیک ہونے والی ویڈیوز میں رجب بٹ کے قریبی دوستوں حیدر شاہ، مان ڈوگر، اور شہزی کو مکمل برہنہ حالت میں دکھایا گیا ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ان ویڈیوز نے نہ صرف شائقین بلکہ عام صارفین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ یہ شخصیات اکثر مذہبی اقدار اور اخلاقیات کی بات کرتی رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ افراد مذہبی اقدار کے علمبردار ہیں تو انہوں نے ایسی ویڈیوز کیوں بنائیں؟ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز ان کے اپنے موبائل فونز سے بنائی گئی ہیں، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ ویڈیوز دانستہ طور پر لیک کی گئی ہیں یا واقعی کوئی سائبر حملہ ہوا ہے۔
رجب بٹ اور ان کے دوستوں کا موقف ہے کہ ان کے موبائل فونز ہیک کیے گئے، اور یہ ویڈیوز غیر قانونی طور پر وائرل کی گئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کوئی نامعلوم شخص یا گروہ ان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ویڈیوز کا وجود ہی ان کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔ ایکس پر کچھ صارفین نے یہ الزام بھی لگایا کہ حیدر شاہ کی ایک ویڈیو کال میں وہ رجب بٹ کو اپنا جسم دکھا رہے تھے، جو اس تنازعہ کو مزید سنسنی خیز بنا رہا ہے۔
زارا ملک اور ایمان بٹ کے ساتھ تنازعات
اس ویڈیو لیک کے تنازعہ کے ساتھ ساتھ، رجب بٹ کے ٹک ٹاکر زارا ملک کے ساتھ مبینہ تعلقات نے بھی سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ افواہوں کے مطابق، رجب بٹ دبئی میں زارا ملک کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، اور دونوں کے درمیان غیر معمولی قربت ہے۔ ان کے ایک ہی رنگ کے کپڑوں میں نظر آنے اور ایک قوالی نائٹ میں اکٹھے دیکھے جانے کی ویڈیوز نے ان افواہوں کو ہوا دی۔ صارفین نے الزام لگایا کہ رجب بٹ اپنی حاملہ اہلیہ ایمان بٹ کو دھوکہ دے رہے ہیں، جو اس وقت پاکستان میں ہیں۔ ان الزامات نے رجب بٹ کی ذاتی زندگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور شائقین کے درمیان ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پر اس تنازعہ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ صارفین رجب بٹ اور ان کے دوستوں کے دفاع میں سامنے آئے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ سائبر کرائم اور ڈیٹا ہیکنگ ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، کئی صارفین نے ان کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی ویڈیوز کا بننا ہی ان کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، "یہ لوگ مذہبی بنتے ہیں، لیکن ایسی ویڈیوز بناتے ہیں اور پھر ہیکنگ کا بہانہ کرتے ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟” اس تنازعہ نے ڈیجیٹل پرائیویسی اور سوشل میڈیا شخصیات کی ذمہ داریوں کے بارے میں بھی بحث کو جنم دیا ہے۔
تاریخی سیاق و سباق
پاکستان میں سوشل میڈیا شخصیات کی نازیبا ویڈیوز کا لیک ہونا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کئی معروف شخصیات، جیسے کہ مناہل ملک، حریم شاہ، اور خلیل الرحمان قمر، ایسی ہی ویڈیوز کے تنازعات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان واقعات نے نہ صرف ان افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ ماہرین کے مطابق، موبائل فونز میں سپائی ایپس یا مالویئر کے ذریعے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے، اور صارفین کو اپنے آلات کی حفاظت کے لیے اینٹی وائرس سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
سماجی اور قانونی اثرات
یہ تنازعہ نہ صرف رجب بٹ اور ان کے دوستوں کی ساکھ کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان میں سائبر کرائم سے متعلق قوانین موجود ہیں، اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ایسی شکایات کی تحقیقات کرتا ہے۔ ماضی میں سجل ملک جیسی شخصیات نے بھی ایف آئی اے میں جعلی ویڈیوز کے خلاف شکایات درج کی تھیں۔ رجب بٹ اور ان کے دوستوں کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ قانونی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امکان ہے کہ وہ اس معاملے کو ایف آئی اے کے سامنے لے جائیں۔
رجب بٹ اور ان کے دوستوں کی نازیبا ویڈیوز کا لیک ہونا ایک ایسا واقعہ ہے جو سوشل میڈیا پر شخصیات کی ذمہ داریوں اور ڈیجیٹل پرائیویسی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اگرچہ رجب بٹ اور ان کے ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے فونز ہیک کیے گئے، لیکن سوشل میڈیا صارفین کے سوالات اور الزامات نے اس تنازعہ کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ زارا ملک کے ساتھ مبینہ تعلقات اور ایمان بٹ کے ساتھ دھوکہ دہی کے الزامات نے رجب بٹ کی ذاتی زندگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی کی رازداری اور سائبر سیکیورٹی کو کس طرح یقینی بنایا جائے۔





















