آنتوں کا کینسر، جو ماضی میں زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں دیکھا جاتا تھا، اب تیزی سے نوجوانوں میں پھیل رہا ہے۔ حالیہ عالمی تحقیقات اور ماہرین کے مطابق، 20 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں آنتوں کے کینسر (کولوریکٹل کینسر) کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف طبی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ عوام الناس کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ طرز زندگی اور ماحولیاتی عوامل اس سنگین بیماری کے بڑھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس رجحان کی وجوہات، پس منظر، اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کا جائزہ لیں گے تاکہ قارئین اس مرض کے خطرات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
آنتوں کا کینسر کیا ہے؟
آنتوں کا کینسر، جسے کولوریکٹل کینسر بھی کہا جاتا ہے، بڑی آنت (کولن) یا ملاشی (ریکٹم) کے خلیات میں غیر معمولی نشوونما سے شروع ہوتا ہے۔ یہ کینسر اکثر پولیپس (غیر سرطانی گانٹھوں) سے شروع ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ سرطانی بن جاتے ہیں۔ علامات میں پیٹ میں درد، خونی پاخانہ، غیر معمولی وزن میں کمی، اور ہاضمے کے مسائل شامل ہیں، لیکن ابتدائی مراحل میں یہ علامات اکثر غیر واضح ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں یہ مرض زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں پایا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں نوجوانوں میں اس کے کیسز میں اضافہ ایک عالمی چیلنج بن گیا ہے۔
تاریخی سیاق و سباق
ماضی میں، آنتوں کا کینسر بنیادی طور پر عمر بڑھنے سے منسلک بیماری سمجھا جاتا تھا۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں، ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ امریکہ اور یورپ میں اس کے کیسز زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں رپورٹ ہوتے تھے۔ اس وقت، سکریننگ پروگرامز جیسے کہ کولونوسکوپی نے اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، 2000 کی دہائی کے بعد سے، خاص طور پر پچھلے دس سالوں میں، 20 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں اس کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق، 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 1950 کی دہائی میں پیدا ہونے والوں کے مقابلے میں دو سے چار گنا زیادہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی یہ رجحان نظر آ رہا ہے، جہاں صحت کے ڈھانچے اور سکریننگ کی سہولیات محدود ہیں۔
نوجوانوں میں اضافے کی وجوہات
ماہرین نے نوجوانوں میں آنتوں کے کینسر کے بڑھنے کی کئی ممکنہ وجوہات کی نشاندہی کی ہے، جو طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل، اور جینیاتی رجحانات سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
1. پروسیسڈ اور فاسٹ فوڈ کا بڑھتا استعمال
نوجوانوں میں برگر، فرائیز، پروسیسڈ گوشت (جیسے ساسیجز اور ہاٹ ڈاگ)، اور دیگر فاسٹ فوڈز کا بے تحاشا استعمال ایک بڑی وجہ ہے۔ ان غذاؤں میں موجود سیر شدہ چکنائی، مصنوعی اضافی اشیا، اور کیمیکلز آنتوں کی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پروسیسڈ گوشت کو "سرطان پیدا کرنے والا” قرار دیا ہے، کیونکہ یہ آنتوں میں سوزش اور خلیات کی غیر معمولی نشوونما کا باعث بنتا ہے۔
2. جسمانی سرگرمی کی کمی
جدید طرز زندگی میں بیک گراؤنڈ ورک، طویل دفتری اوقات، اور سکرین ٹائم نے جسمانی سرگرمی کو کم کر دیا ہے۔ آنتوں کی حرکت کے لیے جسمانی سرگرمی ضروری ہے، کیونکہ یہ زہریلے مادوں کو جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سست طرز زندگی آنتوں میں زہریلے مادوں کے قیام کو بڑھاتی ہے، جو کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
3. موٹاپا
موٹاپا نہ صرف آنتوں کے کینسر بلکہ دیگر کینسرز جیسے چھاتی اور جگر کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ زیادہ وزن جسم میں سوزش اور ہارمونل عدم توازن کا باعث بنتا ہے، جو خلیات کی غیر معمولی نشوونما کو فروغ دیتا ہے۔ پاکستان میں فاسٹ فوڈ کلچر اور غیر صحت مند طرز زندگی کی وجہ سے موٹاپے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جو اس رجحان کا ایک اہم عنصر ہے۔
4. سافٹ ڈرنکس اور مصنوعی مٹھاس
سافٹ ڈرنکس اور دیگر مشروبات میں موجود مصنوعی مٹھاس اور کیمیکلز آنتوں کے مائیکرو بایوم (فائدہ مند بیکٹیریا) کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنے اور کینسر سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا توازن بگڑنے سے سوزش اور کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
5. اینٹی بایوٹکس کا زیادہ استعمال
بار بار اینٹی بایوٹکس کا استعمال آنتوں کے قدرتی بیکٹیریا کو تباہ کرتا ہے، جو کینسر سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں اینٹی بایوٹکس بغیر نسخے کے آسانی سے دستیاب ہیں، ان کا غیر ضروری استعمال ایک بڑا مسئلہ ہے۔
6. دائمی تناؤ اور نیند کی کمی
جدید زندگی کا دباؤ اور نیند کی کمی جسم میں سوزش کو بڑھاتی ہے، جو آنتوں کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تناؤ ہارمونز جیسے کہ کورٹیسول جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں، جس سے کینسر کے خلیات کے خلاف لڑنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
7. جینیاتی عوامل
کچھ افراد میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ جینیاتی طور پر زیادہ ہوتا ہے، جیسے کہ لنچ سنڈروم یا فیمیلئل ایڈینومیٹس پولیپوسس (FAP)۔ یہ حالتیں پولیپس کی غیر معمولی نشوونما کا باعث بنتی ہیں، جو وقت کے ساتھ کینسر میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ عوامل کم عام ہیں، لیکن خاندانی تاریخ والے افراد کو باقاعدہ سکریننگ کروانی چاہیے۔
8. شراب اور تمباکو نوشی
نوجوانوں میں شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کا بڑھتا رجحان بھی آنتوں کے کینسر کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔ تمباکو میں موجود کیمیکلز اور الکحل آنتوں کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کا باعث بنتے ہیں۔
بچاؤ کے طریقے
آنتوں کے کینسر سے بچاؤ کے لیے طرز زندگی میں تبدیلیاں بہت ضروری ہیں۔ ماہرین درج ذیل اقدامات کی تجویز دیتے ہیں:
صحت مند غذا: تازہ پھل، سبزیاں، اور فائبر سے بھرپور غذائیں کھائیں۔ پروسیسڈ گوشت اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں۔
جسمانی سرگرمی: روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش کریں، جیسے کہ تیز چہل قدمی یا سائیکلنگ۔
وزن پر قابو: صحت مند وزن برقرار رکھیں اور موٹاپے سے بچیں۔
سکریننگ: اگر خاندان میں کینسر کی تاریخ ہے تو 40 سال سے کم عمر میں بھی کولونوسکوپی کرائیں۔
شراب اور تمباکو سے پرہیز: ان کا استعمال کم سے کم یا مکمل طور پر ختم کریں۔
ذہنی صحت: تناؤ کو کم کرنے کے لیے مراقبہ، یوگا، اور مناسب نیند کو ترجیح دیں۔
نوجوانوں میں آنتوں کے کینسر کا بڑھتا رجحان ایک سنگین طبی اور سماجی چیلنج ہے۔ غیر صحت مند طرز زندگی، ماحولیاتی عوامل، اور جینیاتی رجحانات اس کی اہم وجوہات ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں، عوام میں شعور بیدار کرنا اور سکریننگ پروگرامز کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ مرض خوفناک ہے، لیکن بروقت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی اپنانے سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔ ہر فرد کو اپنی صحت کی ذمہ داری لینی چاہیے اور چھوٹی تبدیلیوں سے بڑے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔





















