سیاحت کیلئے سری لنکا کا اہم اقدام، 40 ممالک کے لیے ویزا فیس ختم، پاکستان بھی شامل

حکومتی اندازے کے مطابق سری لنکا کو سالانہ 66 ملین ڈالر کی ویزا فیس کا نقصان ہوگا

سری لنکا، جو اپنی دلکش ساحلی پٹیوں، گھنے سبز جنگلات، بودھ مت کے قدیم مندروں اور تاریخی ورثے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، نے سیاحت کے شعبے کو ایک نئی جہت دینے کے لیے ایک بڑا اور جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے۔ اب پاکستانی شہری بھی دیگر 39 ممالک کے باشندوں کے ساتھ سری لنکا کا سفر بغیر ویزا فیس کے کر سکتے ہیں۔

ویزا فیس ختم، دروازے کھلے

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سری لنکا نے 40 ممالک کے لیے ویزا فیس کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے، جن میں پاکستان، بھارت، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور جرمنی سمیت کئی اہم ممالک شامل ہیں۔ اس اقدام سے سیاحتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے، جس کا براہ راست فائدہ سری لنکن معیشت کو پہنچے گا۔

سیاحت کو فروغ دینے کی حکومتی کوشش

سری لنکا کے وزیر سیاحت وجیتھا ہیراتھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس پیغام کا حصہ ہے کہ ’’سری لنکا دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہے۔‘‘ اگرچہ حکومتی اندازے کے مطابق سالانہ 66 ملین ڈالر کی ویزا فیس کا نقصان ہوگا، لیکن پالیسی ساز پُرامید ہیں کہ بڑھتی ہوئی سیاحتی آمد اس نقصان کو نہ صرف پورا کرے گی بلکہ معیشت کو بھی سہارا دے گی۔

پائلٹ پروگرام کی کامیابی کے بعد توسیع

یہ اسکیم دراصل 2023 کے دوران کیے گئے ایک تجرباتی منصوبے کی توسیع ہے، جس میں بھارت، چین اور روس کے شہریوں کو 30 دن کے مفت ویزا کی سہولت دی گئی تھی۔ اس پائلٹ پروگرام کو مثبت ردعمل ملا، جس کے بعد حکومت نے اسے وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ اب یہ اسکیم 40 ممالک پر محیط ہے۔

ویزا فیس سے مستثنیٰ ممالک کی مکمل فہرست

وہ ممالک جنہیں اب سری لنکا کے سفر کے لیے ویزا فیس ادا نہیں کرنی پڑے گی، درج ذیل ہیں:

پاکستان، بھارت، چین، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، عمان، کویت، نیپال، انڈونیشیا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا، اسرائیل، ایران، قازقستان، ترکی، امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، اسپین، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، سویڈن، فن لینڈ، ناروے، ڈنمارک، پولینڈ، بیلاروس، چیک جمہوریہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا۔

یہ ممالک نہ صرف عالمی سیاحتی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر ایسے ہیں جہاں سے سالانہ لاکھوں سیاح دنیا بھر کا سفر کرتے ہیں۔

عالمی سیاحتی مسابقت میں سری لنکا کی کوشش

سری لنکا کی سیاحتی صنعت گزشتہ برسوں میں شدید معاشی بحران، کورونا وبا، اور اندرونی بدامنی کے باعث زوال پذیر ہوئی تھی۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے حکومت نے بین الاقوامی سطح پر سیاحوں کو راغب کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ دنیا کے دیگر سیاحتی ممالک جیسے تھائی لینڈ، ملائیشیا، ترکی اور مالدیپ کے ساتھ مسابقت میں سری لنکا کے لیے یہ اقدام اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستانیوں کے لیے سنہری موقع

پاکستانی شہریوں کے لیے یہ خبر انتہائی خوش آئند ہے کیونکہ اب وہ بغیر ویزا فیس کے سری لنکا کی سیر کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے پڑوسی ہونے کے ناتے، پاکستانیوں کے لیے سفر کے اخراجات کم ہوں گے اور بغیر ویزا فیس کے سفری منصوبہ بنانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔

سیاحت اور معیشت کا تعلق

سری لنکا کی معیشت میں سیاحت کا حصہ کافی اہم ہے۔ کورونا سے قبل سیاحت کا شعبہ جی ڈی پی کا تقریباً 5 فیصد حصہ رکھتا تھا اور لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا تھا۔ ویزا فیس کا خاتمہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد سیاحوں کی تعداد بڑھا کر ملکی معیشت کو دوبارہ مستحکم بنانا ہے۔

سری لنکا کا ویزا فیس ختم کرنے کا فیصلہ ایک خوش آئند اور جرات مندانہ قدم ہے جو نہ صرف عالمی سیاحوں کے لیے اس ملک کو مزید پرکشش بنائے گا بلکہ مقامی معیشت کو بھی بحالی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ کم لاگت میں اپنے شہریوں کو جنوبی ایشیا کے خوبصورت، ثقافتی اور فطری مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرے۔

ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں ویزا پالیسیوں کو سخت کیا جا رہا ہے، سری لنکا نے نرمی کی پالیسی اپنا کر دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ اگر آپ بھی سفر اور فطرت کے دلدادہ ہیں، تو سری لنکا آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے اور وہ بھی بغیر کسی ویزا فیس کے!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین