نیویارک کے علاقے مڈٹاؤن مین ہٹن میں ایک مسلح شخص کی اندھا دھند فائرنگ سے پولیس افسر دیدار الاسلام سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ بعد ازاں حملہ آور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
واقعہ پارک ایونیو پر واقع ایک بلند و بالا عمارت میں پیش آیا، جو نہ صرف اپنے 634 فٹ کے فلک بوس قامت کے لیے جانی جاتی ہے بلکہ یہاں نیشنل فٹبال لیگ (NFL) اور دنیا کی مشہور مالیاتی کمپنی بلیک اسٹون کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ یہ عمارت سیکیورٹی کے اعتبار سے بھی ہمیشہ سخت نگرانی میں رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک مسلح شخص کا وہاں داخل ہونا اور اندھا دھند فائرنگ کرنا امریکی سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔
واقعے کی تفصیل
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور، جس کی شناخت 27 سالہ شین تامورا کے طور پر ہوئی، ایک لمبی بندوق کے ساتھ عمارت میں داخل ہوا۔ وہ براہِ راست لابی کی طرف بڑھا اور بغیر کسی جھجک کے وہاں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ لمحوں میں لابی میدان جنگ کا منظر پیش کرنے لگی۔ چیخ و پکار، خون آلود فرش، اور خوفزدہ چہروں نے لمحاتی سکون کو بھی تہس نہس کر دیا۔
پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جن میں دیدار الاسلام نامی ایک پولیس افسر بھی شامل تھے۔ وہ ڈیوٹی پر موجود تھے اور موقع پر حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ دیدار الاسلام نہ صرف ایک فرض شناس اہلکار تھے بلکہ کئی برسوں سے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ سے منسلک تھے۔ ان کی شہادت نے محکمہ پولیس کو سوگوار کر دیا ہے۔
فائرنگ کے دوران ایک اور پولیس افسر اور ایک عام شہری بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے، اگرچہ ان کے جسم میں گولیاں پیوست ہو چکی تھیں۔
حملہ آور کی شناخت اور پس منظر
حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور شین تامورا لاس ویگاس کا رہائشی تھا۔ وہ پرائیویٹ تفتیش کار کے طور پر رجسٹرڈ تھا، تاہم اس کا لائسنس حال ہی میں معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اس کے پاس ہینڈگن رکھنے کا لائسنس موجود تھا، جو امریکی اسلحہ قوانین کی سست روی اور کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔
تامورا کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، نہ ہی وہ کسی شدت پسند تنظیم سے وابستہ پایا گیا۔ پولیس اور تحقیقاتی ادارے اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آخر اس نے یہ حملہ کیوں کیا؟ کیا وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھا؟ کیا کوئی ذاتی یا پیشہ ورانہ وجہ تھی؟ یا پھر اس حملے کے پیچھے کوئی اور محرکات تھے؟
امریکا میں بڑھتے فائرنگ کے واقعات
یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ 2025 کے دوران امریکا میں یہ اجتماعی ہلاکتوں کا 254 واں واقعہ ہے۔ صرف سات ماہ کے عرصے میں دو سو سے زائد اجتماعی فائرنگ کے واقعات ہونا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکی معاشرہ ایک گہرے بحران سے دوچار ہے۔ اسلحے تک آسان رسائی، ذہنی صحت کے مسائل، اور پالیسی سطح پر اصلاحات کا فقدان اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکا میں اسکولوں، دفاتر، مذہبی عبادت گاہوں، شاپنگ مالز اور حتیٰ کہ اسپتالوں تک میں فائرنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات کی کثرت نے عوام میں ایک دائمی خوف پیدا کر دیا ہے۔ لوگ اب معمول کی زندگی بھی اضطراب اور عدم تحفظ کے ساتھ گزارتے ہیں۔
سیکیورٹی اور قانون سازی کے تقاضے
مین ہٹن کے اس واقعے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ صرف بلند عمارات یا اہم دفاتر میں سیکیورٹی بڑھانا کافی نہیں۔ جب تک اسلحے کے قوانین میں سختی نہیں کی جاتی، اور ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، تب تک ایسے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکتی۔
امریکی کانگریس میں اسلحہ قوانین پر بحث تو ہوتی ہے، لیکن عملی طور پر اصلاحات کی رفتار بہت سست ہے۔ اس دوران ہر ہفتے، بلکہ بعض اوقات روزانہ، کوئی نہ کوئی واقعہ کسی خاندان کو اجاڑ رہا ہوتا ہے۔
خراج تحسین
پولیس افسر دیدار الاسلام کی قربانی کو سلام پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی جان دے کر یہ ثابت کیا کہ فرض کی راہ میں جان دینا ہی اصل بہادری ہے۔ ان کی قربانی کو نیویارک پولیس نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پورے شہر میں تعزیتی پیغامات اور علامتی دعاؤں کا اہتمام کیا ہے۔
مین ہٹن کا یہ واقعہ ایک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے امریکی معاشرے میں اسلحے کی آزادانہ دستیابی، ذہنی صحت کے بحران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی محدودات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں بلکہ المیوں کی فہرست بنتے جائیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فائرنگ کے ہر واقعے کو محض "ایک اور حادثہ” سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ اسے تبدیلی کے آغاز کے طور پر لیا جائے۔ عوامی سطح پر بیداری، قانون سازی میں اصلاحات، اور نفسیاتی مسائل پر سنجیدہ توجہ ہی ایسے سانحات کی روک تھام کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہے۔





















