پاکستان میں اقتصادی بحالی اور ترقی کی کوششیں اب ثمر آور ثابت ہوتی نظر آ رہی ہیں، خصوصاً اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی جانب سے کیے گئے عملی اقدامات کے نتیجے میں۔ مالی سال 2025 کے دوران ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 4.7 فیصد کا مثبت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو نہ صرف اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی معاشی حیثیت کا ثبوت بھی ہے۔
ایس آئی ایف سی کا کردار اور پس منظر
ایس آئی ایف سی کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی تھی جب پاکستان کو معاشی چیلنجز، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، درآمدات پر انحصار اور مالیاتی بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا تھا۔ ان حالات میں بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ایک مشکل ترین ہدف تھا۔ تاہم، ایس آئی ایف سی نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک ہی چھت تلے سہولت دینے، بیوروکریسی میں کمی، تیز رفتار منظوریوں اور شفافیت کو یقینی بنانے جیسے اقدامات کیے۔ یہ اقدامات نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا باعث بنے بلکہ سرمایہ کاری کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا گیا۔
چین: قابلِ ذکر شراکت دار
چین نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر سبقت حاصل کی ہے۔ مالی سال 2025 میں چین نے 1224.3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 90.3 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہے۔ یہ سرمایہ کاری مختلف شعبوں میں کی گئی، جن میں توانائی، صنعتی ترقی، انفراسٹرکچر، اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے شامل ہیں۔ چین کی یہ دلچسپی نہ صرف CPEC منصوبے کی توسیع کا حصہ ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط میں نئی جہتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔
ہانگ کانگ: تکنیکی و صنعتی تعاون
ہانگ کانگ نے پاکستان میں 496.9 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کا بڑا حصہ توانائی، انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں لگایا گیا۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد دے گی بلکہ پاکستان میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کرے گی۔
جنوبی کوریا، جاپان اور ترکیہ کی شراکت
جنوبی کوریا کی جانب سے 96.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور تکنیکی تعاون میں اضافے کی علامت ہے۔ جاپان نے پاکستانی معیشت پر اعتماد کرتے ہوئے 40.1 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو کہ گاڑیوں، الیکٹرانکس اور دیگر تکنیکی شعبوں میں کی گئی۔
ترکیہ نے 9.2 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلایا، جو کہ اگرچہ کم مالیت کی سرمایہ کاری ہے، مگر اس سے دونوں ممالک کے مابین تجارتی اور اقتصادی روابط کو تقویت ملی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری اور پاکستان کی معیشت
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہے پائیدار معاشی ترقی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نہ صرف زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لاتی ہے بلکہ صنعتی پیداوار، انفرا اسٹرکچر کی بہتری اور روزگار کے نئے مواقع کی تخلیق کا باعث بھی بنتی ہے۔ ایس آئی ایف سی جیسے ادارے اس عمل کو تیز اور شفاف بنانے کے لیے ضروری ہیں، تاکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد دیا جا سکے کہ ان کی سرمایہ کاری محفوظ اور منافع بخش ہوگی۔
اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی ادارے بھی ایسے اشارے دیکھ کر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر نظرِثانی کرتے ہیں، جو کہ بیرونی قرضوں کے حصول اور رعایتی شرح سود پر مالی معاونت کے لیے اہم ہے۔
مستقبل کی سمت
اگر پاکستان ایس آئی ایف سی جیسے اداروں کے تعاون سے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بناتا رہے، تو آئندہ چند برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ خاص طور پر اگر زرعی، آئی ٹی، منیوفیکچرنگ اور معدنیات جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے تو نہ صرف اقتصادی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے بلکہ پاکستان کو خطے کی ایک مضبوط معیشت کے طور پر بھی اُبھارا جا سکتا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر حکمت عملی اور بین الاقوامی اعتماد کے نتیجے میں مالی سال 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں جو مثبت تبدیلی آئی ہے، وہ پاکستان کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور حکومتی پالیسیاں شفاف، مستقل اور سرمایہ کار دوست رہیں تو آنے والے برس پاکستان کی معیشت کے لیے خوش آئند ثابت ہو سکتے ہیں۔





















