مون سون بارشیں،ایک مہینے میں 289ہلاکتیں، پنجاب سرفہرست

ہلاکتوں میں 136 بچے، 102 مرد اور 51 خواتین شامل ہیں، این ڈی ایم اے

پاکستان میں رواں سال مون سون سیزن نے قہر برپا کر دیا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 26 جون سے 30 جولائی تک کی مدت میں ملک بھر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں 289 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جب کہ 698 افراد زخمی ہوئے۔ اس موسمی طوفان نے نہ صرف انسانی جانوں کو متاثر کیا بلکہ انفراسٹرکچر، رہائش، اور لائیو اسٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کی صورتحال

این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک شخص جان کی بازی ہار گیا جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے۔ یہ صورتحال گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہلاکت خیز بارشوں کے تسلسل کا حصہ ہے جو کہ پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔

مجموعی جانی نقصان

26 جون سے اب تک ہونے والی 289 ہلاکتوں میں 136 بچے، 102 مرد اور 51 خواتین شامل ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ آفات معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 698 زخمی افراد میں کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

صوبہ وار تفصیلات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پنجاب ہے، جہاں 158 افراد جاں بحق اور 556 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 64 ہلاکتیں اور 81 زخمی رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 28 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے، جبکہ بلوچستان میں 20 ہلاکتیں اور 4 زخمی ریکارڈ کیے گئے۔ گلگت بلتستان میں 9 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے، آزاد کشمیر میں 2 ہلاکتیں اور 10 زخمی رپورٹ ہوئے، اور اسلام آباد میں 8 اموات اور 3 افراد زخمی ہوئے۔

املاک اور انفراسٹرکچر کو نقصان

مون سون بارشوں نے صرف انسانی جانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ مالی و مادی نقصان بھی پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 1,580 گھروں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچ چکا ہے۔ دیہی علاقوں میں کچے مکانات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جو شدید بارشوں کی تاب نہ لا سکے۔

لائیو اسٹاک اور سڑکوں کو نقصان

بارشوں کے نتیجے میں 372 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، جو کہ ان خاندانوں کے لیے بڑا مالی نقصان ہے جو زراعت یا مویشی پروری پر انحصار کرتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 651 کلومیٹر طویل سڑکوں اور 53 پلوں کو بارشوں اور سیلابی پانی نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باعث کئی علاقوں کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

مون سون اور پاکستان کی تاریخ

پاکستان میں مون سون سیزن ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ گلوبل وارمنگ، غیر متوازن شہری ترقی، نکاسی آب کے ناقص نظام، اور لینڈ یوز پلاننگ کی عدم موجودگی جیسے مسائل نے ان بارشوں کے نقصانات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھی مون سون بارشوں نے پاکستان میں تباہی مچائی، جس میں 2022 کا سیلاب عالمی خبروں کی زینت بنا، جب لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

حکومتی ردعمل اور آئندہ کا لائحہ عمل

این ڈی ایم اے کی جانب سے مختلف صوبوں کو الرٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور صوبائی حکومتیں ریسکیو ٹیمیں، میڈیکل سہولیات اور خوراک کے انتظامات کر رہی ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہنگامی اقدامات کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔ شہری منصوبہ بندی، نکاسی آب کا نظام، اور سیلابی علاقوں کی از سر نو شناخت جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

وقت کا تقاضا

رواں سال مون سون نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور ناقص منصوبہ بندی ایک مہلک امتزاج بن چکے ہیں۔ اگرچہ این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں، لیکن پورے ملک میں مربوط حکمت عملی کے بغیر ان آفات پر قابو پانا ممکن نہیں۔

عوامی شعور بیدار کرنا، انفراسٹرکچر کی بہتری، اور فوری امدادی نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والے دنوں میں قیمتی جانوں اور مالی وسائل کے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین