امریکی حکومت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ Pay.gov کے ذریعے عوام سے غیر معمولی اپیل کی ہے: وہ PayPal یا Venmo جیسے آن لائن ادائیگی پلیٹ فارمز کے ذریعے قومی قرضہ کم کرنے میں مدد کریں۔ یہ اپیل اُس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا قومی قرضہ 36.7 کھرب ڈالر کی خطرناک حد کو عبور کرچکا ہے، اور اس میں ہر لمحہ اضافہ ہورہا ہے۔
قرضے کا بوجھ اور عوامی شراکت
امریکی محکمہ خزانہ نے اس مقصد کے لیے اپنی ویب سائٹ پر Gifts to Reduce the Public Debt کے نام سے ایک سیکشن مخصوص کیا ہے۔ یہاں کوئی بھی شہری بینک ٹرانسفر، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے چندہ دے سکتا ہے، تاکہ قومی قرضے کے بوجھ کو کچھ حد تک کم کیا جاسکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پروگرام نیا نہیں بلکہ 1996 سے جاری ہے۔ تاہم تقریباً 28 سال گزرنے کے باوجود عوام کی جانب سے دیے گئے مجموعی عطیات صرف 67.3 ملین ڈالر تک ہی پہنچے ہیں۔ اس رقم کا حجم اگر 36.7 کھرب ڈالر کے قرضے سے موازنہ کیا جائے تو یہ سمندر میں ایک قطرہ ہی کہا جا سکتا ہے۔
حالیہ مالی شراکت کی تفصیل
سال 2024 میں امریکی شہریوں نے تقریباً 2.7 ملین ڈالر حکومت کو قرض چکانے میں مدد کے لیے دیے، جب کہ 2025 کے ابتدائی پانچ مہینوں میں یہ رقم 434,500 ڈالر رہی۔ اگرچہ یہ جذبہ تحسین کے لائق ہے، مگر معاشی حجم کو دیکھتے ہوئے یہ عطیات قرضے کی رفتار کے مقابلے میں بےحد معمولی ہیں۔
لمحہ بہ لمحہ بڑھتا بوجھ
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ پر قرضہ ہر سیکنڈ میں تقریباً 55,000 ڈالر کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایک عام شہری چند ڈالر عطیہ کرتا ہے، اتنی دیر میں لاکھوں ڈالر کا مزید قرض امریکی معیشت پر چڑھ چکا ہوتا ہے۔
ماہرین کی تنبیہ
متعدد ماہرین معاشیات اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے قرضوں کی رفتار کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی سخت اور دیرپا حکمتِ عملی نہ اپنائی تو امریکہ کو مستقبل میں ایک بدترین مالیاتی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔
شرح سود میں اضافہ، بجٹ خسارے اور دفاعی و سماجی اخراجات میں بے تحاشہ اضافہ جیسے عوامل اس بوجھ کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی اب ایک علیحدہ اور بڑا خرچ بن چکی ہے، جو سالانہ درجنوں ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔
طنز، تنقید اور بے بسی
سوشل میڈیا پر عوام کا ردِعمل اس اپیل پر کافی تنقیدی رہا۔ ایک صارف نے لکھا:
"حکومت ویسے ہی ہماری کمائی سے تقریباً 40 فیصد ٹیکس کے ذریعے لے لیتی ہے، اوپر سے اب ہمیں کہہ رہی ہے کہ قرضہ بھی ہم اتاریں۔ یہ سراسر مذاق ہے۔”
کئی صارفین نے اسے پالیسی ناکامی اور معاشی بدنظمی کا ثبوت قرار دیا۔ کچھ نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی قرض چکانا چاہتی ہے تو وہ اپنی شاہانہ مراعات، فوجی بجٹ اور سبسڈی اسکیموں میں کمی کیوں نہیں کرتی؟
پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ
یہ صورتحال صرف امریکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ان ممالک کے لیے بھی ایک تنبیہ ہے جو غیر ضروری قرضوں اور بجٹ خسارے پر انحصار کرکے اپنی معیشت کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عوام سے قرض اتارنے کی اپیل بظاہر ایک اخلاقی کوشش ضرور ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی معاشی ذمہ داری عوام پر ڈالنا ایک خطرناک نظیر قائم کر رہی ہے۔
حل کیا ہوسکتا ہے؟
فوری مالیاتی اصلاحات: دفاعی، انتظامی اور غیر پیداواری اخراجات میں کمی۔
ٹیکس نظام کی شفافیت: امیروں پر حقیقی ٹیکس لگانا اور ٹیکس چوری روکنا۔
عوامی اعتماد کی بحالی: ایسے اقدامات جو عوام کو یقین دلائیں کہ ان کے عطیات واقعی قرض چکانے میں استعمال ہو رہے ہیں، نہ کہ دیگر سرکاری سرگرمیوں میں۔
سود پر انحصار کم کرنا: قرض لینے کی رفتار اور شرائط کا ازسرنو جائزہ لینا۔
امریکی حکومت کی طرف سے قرض اتارنے کے لیے عوام سے مدد کی اپیل ایک علامتی قدم ضرور ہے، مگر اس سے موجودہ بحران کا حل ممکن نہیں۔ جب تک حکومت اپنی پالیسیوں میں بڑی اور مؤثر تبدیلیاں نہیں لاتی، صرف عطیات سے امریکہ کو قرض کے دلدل سے نکالنا ایک خواب ہی رہے گا۔ اس اقدام نے ایک گہری حقیقت کو عیاں کر دیا ہے: کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بھی غیر ذمہ دار مالی نظم و ضبط کے بغیر دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے۔





















