پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ

پاکستان کا خلائی پروگرام 1961 میں سپارکو کے قیام کے ساتھ شروع ہوا

31 جولائی 2025 کو پاکستان نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی جب اس کا جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین کے شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کیا گیا۔ یہ لانچ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 7 سے 8 بجے کے درمیان ہوا، جسے پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ یہ سیٹلائٹ نہ صرف پاکستان کی تکنیکی خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے بلکہ قدرتی آفات کی نگرانی، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے اہم قومی منصوبوں کی حمایت میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس مضمون میں ہم اس لانچ کے پس منظر، اس کی اہمیت، اور پاکستان کے خلائی پروگرام کے تاریخی سیاق و سباق کا جائزہ لیں گے۔

لانچ کی تفصیلات

یہ جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ، جسے سپارکو نے تیار کیا، چین کے شیچانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ لانچ کی تقریب کو سپارکو کے کراچی ہیڈکوارٹر میں براہ راست نشر کیا گیا، جہاں پاکستانی سائنسدانوں اور حکام نے اس کامیابی کا جشن منایا۔ سپارکو کے ماہرین اور سائنسدان چین میں موجود تھے تاکہ اس مشن کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد یاسر نے چین سے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے قوم کو اس کامیابی پر مبارکباد دی۔ سپارکو کے ڈائریکٹر جنرل افتخار بھٹی نے اس موقع پر کہا کہ یہ لانچ پاکستان کی خلائی تحقیق میں ترقی اور اس کی تکنیکی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے اسے قومی فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سیٹلائٹ زراعت، قدرتی وسائل کے انتظام، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سیٹلائٹ کی صلاحیتیں

یہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ جدید امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو پاکستان کو متعدد شعبوں میں اعلیٰ معیار کا ڈیٹا فراہم کرے گی۔ اس کے اہم مقاصد میں شامل ہیں:

قدرتی آفات کی نگرانی: یہ سیٹلائٹ سیلاب، زلزلوں، لینڈ سلائیڈنگ، گلیشیئر کے پگھلنے، اور جنگلات کی کٹائی جیسے مسائل کی پیشگی انتباہ اور نگرانی کے لیے ڈیٹا فراہم کرے گا۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے شدید متاثر ہوتا ہے، اس سیٹلائٹ سے بروقت معلومات حاصل کر کے نقصانات کو کم کر سکے گا۔ مثال کے طور پر، 2022 کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کی معیشت اور انسانی جانوں کو بھاری نقصان پہنچایا تھا، اور ایسی ٹیکنالوجی
اس طرح کے حالات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

انفراسٹرکچر اور شہری منصوبہ بندی: سیٹلائٹ جغرافیائی خطرات کی نشاندہی، شہری پھیلاؤ کی نگرانی، اور نقل و حمل کے نیٹ ورکس کی میپنگ میں مدد کرے گا۔ یہ خاص طور پر سی پیک جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہم ہے، جو پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک اہم ستون ہے۔

زراعت اور ماحولیاتی نگرانی: یہ سیٹلائٹ فصل کی پیداوار کی نگرانی، زرعی ڈیٹا اکٹھا کرنے، اور پانی کے وسائل کے انتظام میں معاونت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات جیسے کہ گرمی کی شدت اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی نگرانی میں بھی مدد دے گا۔

سپارکو کے مطابق، یہ سیٹلائٹ پاکستان کی موجودہ خلائی فلیٹ، بشمول پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ-1 (پی آر ایس ایس-1) اور الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ای او-1، کے ساتھ مل کر کام کرے گا، جو بالترتیب 2018 اور جنوری 2025 میں لانچ کیے گئے تھے۔

تاریخی سیاق و سباق

پاکستان کا خلائی پروگرام 1961 میں سپارکو کے قیام کے ساتھ شروع ہوا، لیکن اس نے 21ویں صدی میں نمایاں ترقی کی۔ 2011 میں، پاکستان نے اپنا پہلا مواصلاتی سیٹلائٹ، پاک سیٹ-1آر، چین کے تعاون سے لانچ کیا، جو اس کے خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔ 2018 میں، پاکستان نے اپنا پہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ، پی آر ایس ایس-1، لانچ کیا، جو زراعت، شہری منصوبہ بندی، اور قدرتی آفات کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ رواں سال جنوری 2025 میں، پاکستان نے اپنا پہلا مکمل طور پر دیسی ساختہ سیٹلائٹ، ای او-1، لانچ کیا، جو پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

یہ تازہ ترین لانچ پاکستان کے اسپیس ویژن 2047 اور قومی خلائی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی میں ایک علاقائی رہنما بنانا ہے۔ اس ویژن کے تحت، سپارکو نے 2011 سے 2040 تک متعدد جیو سٹیشنری اور لو ارتھ ایوربٹ سیٹلائٹس لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جن میں سے کچھ پہلے ہی کامیابی سے خلا میں بھیجے جا چکے ہیں۔

چین کے ساتھ تعاون

پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تحقیق میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ چین کی خلائی ایجنسی، چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کارپوریشن (سی اے ایس سی)، اور اس کی ذیلی کمپنی چائنا گریٹ وال انڈسٹری کارپوریشن (سی جی ڈبلیو آئی سی) نے پاکستان کے متعدد سیٹلائٹ پروگراموں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ سیٹلائٹ لانچ کے لیے چین کے شیچانگ لانچ سینٹر کا انتخاب اس مضبوط شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔ سی پیک، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک اہم حصہ ہے، اس تعاون کا ایک کلیدی پہلو ہے۔ یہ سیٹلائٹ سی پیک کے تحت انفراسٹرکچر منصوبوں کی میپنگ اور جغرافیائی خطرات کی نشاندہی میں مدد دے گا، جو پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔

قومی ترقی پر اثرات

اس سیٹلائٹ کے لانچ سے پاکستان کی متعدد شعبوں میں صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ زراعت کے شعبے میں، یہ فصل کی پیداوار کی نگرانی اور پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کو ممکن بنائے گا، جو پاکستان جیسے زرعی معیشت والے ملک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے درست جغرافیائی ڈیٹا فراہم کر کے یہ سیٹلائٹ شہروں کے پھیلاؤ اور نقل و حمل کے نیٹ ورکس کی منصوبہ بندی میں مدد دے گا۔

قدرتی آفات کی نگرانی کے حوالے سے، یہ سیٹلائٹ پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرے گا۔ پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید متاثر ہوتا ہے، اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے سیلاب، زلزلوں، اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی تشکیل دے سکے گا۔

31 جولائی 2025 کو لانچ ہونے والا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک نیا سنگ میل ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی تکنیکی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ چین کے ساتھ اس کی مضبوط شراکت داری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ زراعت، انفراسٹرکچر، قدرتی آفات کی نگرانی، اور سی پیک جیسے منصوبوں کی حمایت کے لیے یہ سیٹلائٹ ایک اہم اثاثہ ثابت ہوگا۔ سپارکو کے ویژن 2047 کے تحت، پاکستان خلائی ٹیکنالوجی میں ایک علاقائی رہنما بننے کی طرف گامزن ہے، اور یہ لانچ اس سفر میں ایک اہم قدم ہے۔ پاکستانی قوم کے لیے یہ ایک فخر کا لمحہ ہے، جو اس کے سائنسدانوں اور انجینئرز کی لگن اور محنت کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین