31 جولائی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک جامع تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے مل کر کام کریں گے، جو نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ خطے میں توانائی کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس معاہدے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی آئل کمپنی اس شراکت داری کی قیادت کرے گی، اور یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں پاکستان بھارت کو تیل فروخت کر سکتا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانوں کا اعلان کیا، جو بھارت کے روس سے تیل اور ہتھیاروں کی خریداری کے ردعمل میں کیا گیا۔ یہ مضمون اس معاہدے کی تفصیلات، اس کے پس منظر، اور خطے پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں کہا، "ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکا مل کر اس کے وسیع تیل کے ذخائر کی ترقی کریں گے۔ ہم اس وقت ایک آئل کمپنی کے انتخاب کے مرحلے میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی۔ کون جانتا ہے، شاید ایک دن پاکستان بھارت کو تیل فروخت کر رہا ہو!” اس معاہدے کی تصدیق پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سوشل میڈیا پر کی، اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ پاکستان کی وزارت خزانہ نے بیان جاری کیا کہ یہ معاہدہ پاکستانی برآمدات پر امریکی ٹیرف میں کمی کا باعث بنے گا، اور توانائی، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور کرپٹو کرنسی جیسے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھولے گا۔
یہ معاہدہ گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد حتمی شکل اختیار کر گیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے تیل کے ذخائر، جو زیادہ تر سمندری حدود میں موجود ہیں، کو ترقی دینے کے لیے امریکی سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا۔ پاکستان فی الحال اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ سے تیل درآمد کرتا ہے، لیکن اس کے اپنے ذخائر کی دریافت اور ترقی اسے توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنا سکتی ہے۔
تاریخی سیاق و سباق
پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کی تاریخ اتار چڑھاؤ سے بھری رہی ہے۔ 1950 کی دہائی سے دونوں ممالک نے فوجی اور اقتصادی تعاون کے متعدد معاہدے کیے، خاص طور پر سرد جنگ کے دور میں جب پاکستان امریکا کا اہم اتحادی تھا۔ تاہم، 21ویں صدی میں افغانستان کی جنگ اور دیگر علاقائی مسائل کی وجہ سے یہ تعلقات کبھی گرمجوشی اور کبھی تناؤ کا شکار رہے۔ حالیہ برسوں میں، امریکا نے پاکستان کو ایک "بڑا غیر نیٹو اتحادی” کے طور پر تسلیم کیا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھ رہا ہے۔
2024 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارت کا حجم 7.3 بلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں 6.9 بلین ڈالر سے کچھ زیادہ ہے۔ تاہم، پاکستان کے ساتھ امریکی تجارت میں 3 بلین ڈالر کا خسارہ بھی رہا، جو ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک اہم نکتہ ہے۔ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت میں عالمی تجارت کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے جارحانہ ٹیرف پالیسی اپنائی ہے، جس کا مقصد امریکی تجارت کے خسارے کو کم کرنا ہے۔ اس تناظر میں، پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ ایک اسٹریٹجک اقدام ہے، جو نہ صرف اقتصادی بلکہ جغرافیائی سیاسی فوائد بھی لا سکتا ہے۔
بھارت پر ٹیرف اور جغرافیائی سیاسی اثرات
ٹرمپ کے اعلان سے چند گھنٹے قبل، انہوں نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور اضافی جرمانوں کا اعلان کیا تھا، جو یکم اگست سے نافذ العمل ہوں گے۔ یہ فیصلہ بھارت کے روس سے تیل اور ہتھیاروں کی خریداری اور اس کی بلند ٹیرف پالیسیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔ ٹرمپ نے بھارت کو "دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، اور اس کی روس کے ساتھ تجارت یوکرین جنگ کے تناظر میں ناقابل قبول ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کے ساتھ معاہدہ اور ٹرمپ کا یہ بیان کہ "شاید ایک دن پاکستان بھارت کو تیل فروخت کرے”، خطے میں نئی جغرافیائی سیاسی حرکیات کی نشاندہی کرتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں، اور مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مختصر فوجی تصادم بھی ہوا، جس کا اختتام 10 مئی کو جنگ بندی کے ساتھ ہوا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس دعوے کی تردید کی، یہ کہتے ہوئے کہ بھارت کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو قبول نہیں کرتا۔ اس تناظر میں، پاک-امریکا معاہدہ اور ٹرمپ کا بھارت سے متعلق بیان خطے میں نئے اتحادوں اور تناؤ کو جنم دے سکتا ہے۔
معاشی اور اسٹریٹجک فوائد
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے تیل کے ذخائر کی ترقی سے نہ صرف اس کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ یہ عالمی منڈی میں تیل برآمد کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا، جو پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، کان کنی، اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی کو فروغ دے گا۔
مزید برآں، یہ معاہدہ چین کے مقابلے میں ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پاکستان، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم شراکت دار ہے، اب امریکی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی معاشی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بھارت امریکی ٹیرف کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان طے پانے والا یہ تجارتی معاہدہ نہ صرف اقتصادی بلکہ جغرافیائی سیاسی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ تیل کے ذخائر کی ترقی کے لیے امریکی تعاون پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ پاکستان ایک دن بھارت کو تیل فروخت کر سکتا ہے، خطے میں نئے اقتصادی تعلقات کی امکان کو ظاہر کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھارت کے ساتھ تناؤ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنہری موقع ہے، بشرطیکہ اسے موثر طریقے سے عملی جامہ پہنایا جائے





















