دنیا کا نایاب ترین 48واں بلڈ گروپ دریافت

گوادا نیگیٹو کی دریافت سے پہلے، سائنسدانوں نے 47 بلڈ گروپوں کی شناخت کی تھی

31 جولائی 2025 کو فرانسیسی سائنسدانوں نے ایک غیر معمولی سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے خون کا 48واں بلڈ گروپ دریافت کیا، جسے "گوادا نیگیٹو” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ بلڈ گروپ دنیا بھر میں صرف ایک خاتون میں پایا گیا ہے، جو فرانس کے کیریبین علاقے گواڈیلوپ میں رہتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف طبی تحقیق کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ انسانی جینیات کے عجائبات کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس خاتون کے خون کی انفرادیت 2011 میں اس وقت سامنے آئی جب ایک آپریشن کے دوران اس کے جسم نے کسی دوسرے انسان، حتیٰ کہ اس کے بہن بھائیوں کے خون کو بھی قبول نہیں کیا۔ چودہ سال کی طویل تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے اس کی وجہ ایک جینیاتی تبدیلی (mutation) کو قرار دیا، جو اس کے PIGZ نامی جین میں ہوئی۔ یہ مضمون اس دریافت کے پس منظر، اس کی سائنسی اہمیت، اور انسانی خون کے گروپوں کے تاریخی سیاق و سباق کا جائزہ لیتا ہے۔

گوادا نیگیٹو بلڈ گروپ کی دریافت

فرانسیسی سائنسدانوں نے 2011 میں گواڈیلوپ کی رہائشی ایک خاتون کے خون کی جانچ کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال دیکھی۔ اس خاتون کو ایک سرجری کے دوران خون کی ضرورت پڑی، لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے جسم نے نہ صرف عام بلڈ گروپوں (جیسے A، B، AB، یا O) بلکہ اس کے خاندان کے افراد کے خون کو بھی مسترد کر دیا۔ اس واقعے نے ماہرین کو حیران کر دیا اور انہوں نے اس کی وجہ جاننے کے لیے ایک طویل تحقیق شروع کی۔ چودہ سال کی گہری جینیاتی تحقیق کے بعد، سائنسدانوں نے پتہ چلایا کہ اس خاتون کے 20,000 جینز میں سے ایک، PIGZ نامی جین میں ایک نادر تبدیلی ہوئی ہے۔ اس تبدیلی نے اس کے خون کے خلیات کی ساخت کو اس قدر منفرد کر دیا کہ یہ کسی بھی معروف بلڈ گروپ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس نئے بلڈ گروپ کو "گوادا نیگیٹو” کا نام دیا گیا، جو اس خطے کے نام پر رکھا گیا جہاں یہ خاتون رہتی ہے۔

بلڈ گروپ کیا ہیں؟

بلڈ گروپ خون کے خلیات کی سطح پر موجود اینٹی جینز کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ سب سے عام نظام ABO ہے، جس میں چار بنیادی گروپ ہیں: A، B، AB، اور O۔ اس کے علاوہ، Rh فیکٹر (پازیٹو یا نیگیٹو) بھی بلڈ گروپ کا تعین کرتا ہے۔ ان کے علاوہ، کئی نایاب بلڈ گروپ بھی موجود ہیں، جیسے کہ بامبے بلڈ گروپ، جو ہندوستان میں دریافت ہوا اور دنیا بھر میں انتہائی کم پایا جاتا ہے۔ گوادا نیگیٹو کی دریافت سے پہلے، سائنسدانوں نے 47 بلڈ گروپوں کی شناخت کی تھی، لیکن یہ نیا گروپ اس فہرست میں 48واں اضافہ ہے۔ ہر بلڈ گروپ کی شناخت خون کے خلیات پر موجود مخصوص اینٹی جینز یا جینیاتی تغیرات کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جو خون کی منتقلی اور دیگر طبی عمل کے لیے اہم ہیں۔

تاریخی سیاق و سباق

انسانی خون کے گروپوں کی دریافت 20ویں صدی کے اوائل میں شروع ہوئی جب آسٹریائی سائنسدان کارل لینڈسٹائنر نے 1901 میں ABO سسٹم کی بنیاد رکھی۔ اس دریافت نے خون کی منتقلی کے عمل کو محفوظ بنایا اور انہیں 1930 میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس کے بعد، 1939 میں Rh فیکٹر کی دریافت نے بلڈ گروپ سسٹم کو مزید بہتر کیا۔ وقت کے ساتھ، سائنسدانوں نے کئی نایاب بلڈ گروپوں کی شناخت کی، جن میں بامبے بلڈ گروپ (1961 میں دریافت) سب سے مشہور ہے۔ بامبے بلڈ گروپ، جو ہندوستان کے شہر ممبئی (اس وقت بامبے) کے نام پر رکھا گیا، اس قدر نایاب ہے کہ ہندوستان میں ہر 10,000 افراد میں سے صرف ایک اس کا حامل ہوتا ہے۔ اس گروپ کے لوگ O نیگیٹو کے طور پر غلط شناخت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا خون صرف اسی گروپ کے افراد سے مطابقت رکھتا ہے۔

2018 میں، ایک پاکستانی نژاد امریکی بچی زینب مغل کی کہانی نے بامبے بلڈ گروپ کو عالمی توجہ دلائی، جب اس کے کینسر کے علاج کے لیے اس نایاب گروپ کے خون کی ضرورت پڑی۔ اس وقت دنیا بھر سے صرف چند عطیہ دہندگان مل سکے تھے۔ گوادا نیگیٹو کی دریافت اسی طرح کی ایک نادر صورتحال کو اجاگر کرتی ہے، لیکن یہ اس سے بھی زیادہ منفرد ہے کیونکہ فی الحال یہ صرف ایک شخص میں پایا گیا ہے۔

جینیاتی تبدیلی اور اس کی اہمیت

گوادا نیگیٹو بلڈ گروپ کی دریافت کی بنیاد ایک جینیاتی تبدیلی ہے جو PIGZ جین میں ہوئی۔ یہ جین خون کے خلیات کی سطح پر موجود مخصوص پروٹینز کو بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ اس تبدیلی نے خاتون کے خون کے خلیات کو اس قدر منفرد بنا دیا کہ وہ کسی بھی دوسرے بلڈ گروپ سے مماثلت نہیں رکھتے۔ سائنسدانوں کے مطابق، ایسی جینیاتی تبدیلیاں (mutations) نہ صرف نایاب ہوتی ہیں بلکہ وہ انسانی ارتقاء اور جینیاتی تنوع کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کرتی ہیں۔ یہ دریافت خون کی منتقلی، جینیاتی تحقیق، اور ممکنہ طور پر نئے علاج کے طریقوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ تاہم، چونکہ یہ بلڈ گروپ صرف ایک شخص میں پایا گیا ہے، اس لیے اس کی طبی افادیت محدود ہے، لیکن اس کا مطالعہ جینیاتی بیماریوں اور خون کے امراض کے بارے میں گہری سمجھ فراہم کر سکتا ہے۔

طبی اور سماجی اثرات

گوادا نیگیٹو کی دریافت نے خون کی منتقلی کے نظام پر نئے سوالات اٹھائے ہیں۔ چونکہ یہ خاتون دنیا کی واحد شخص ہے جس کا بلڈ گروپ گوادا نیگیٹو ہے، اس لیے اس کے لیے خون کا عطیہ دینا یا حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ 2011 کے آپریشن کے دوران اس کی یہ انفرادیت سامنے آئی، جب اس کے جسم نے ہر قسم کے خون کو مسترد کر دیا۔ اس صورتحال نے سائنسدانوں کو اس بات پر غور کرنے پر مجبور کیا کہ نایاب بلڈ گروپوں کے حامل افراد کے لیے خصوصی بلڈ بینک یا جینیاتی ڈیٹابیس بنانے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ، یہ دریافت عوام میں جینیاتی تنوع کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ نایاب بلڈ گروپوں کی شناخت اور ان کے حامل افراد کی مدد کے لیے عالمی نیٹ ورکس کی ضرورت ہے، جیسا کہ بامبے بلڈ گروپ کے لیے ہندوستان کی سنکلپ انڈیا فاؤنڈیشن نے کیا۔ مستقبل میں، ایسی تنظیمیں گوادا نیگیٹو جیسے نایاب گروپوں کے لیے بھی ڈیٹابیس تیار کر سکتی ہیں۔

گوادا نیگیٹو بلڈ گروپ کی دریافت سائنسی دنیا کے لیے ایک عظیم کامیابی ہے جو انسانی جینیات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ فرانس کے گواڈیلوپ کی ایک خاتون دنیا کی واحد شخص ہے جس کے رگوں میں یہ خون دوڑ رہا ہے، جو قدرت کے کرشموں کی ایک زندہ مثال ہے۔ PIGZ جین میں ہونے والی تبدیلی نے اسے ایک منفرد بلڈ گروپ کا حامل بنایا، اور اس کی دریافت خون کی منتقلی اور جینیاتی تحقیق کے شعبوں میں نئی راہیں کھول سکتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سائنس ہر روز نئے عجائبات سے پردہ اٹھاتی ہے، اور انسانی جسم اب بھی بہت سے رازوں سے بھرپور ہے۔ اس دریافت سے نہ صرف طبی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ یہ نایاب بلڈ گروپوں کے حامل افراد کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین