اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ماہِ اگست کے ابتدائی پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی رد و بدل کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ عوام کو پیٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں وقتی ریلیف دیا گیا ہے، تاہم دوسری جانب ڈیزل مہنگا کردیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، جو مستقبل قریب میں قیمتوں پر مزید بوجھ ڈالنے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
نئی قیمتیں اور ان میں تبدیلی
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 7 روپے 54 پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 264 روپے 61 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیٹرول 272 روپے 15 پیسے میں فروخت ہو رہا تھا۔
دوسری طرف، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 48 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 285 روپے 93 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران یہ 284 روپے 35 پیسے میں دستیاب تھا۔
قیمتوں میں ردوبدل کی وجوہات
قیمتوں میں یہ تبدیلیاں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں معمولی بہتری، اور اوگرا سمیت متعلقہ وزارتوں کی سفارشات کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت حالیہ ہفتوں میں کچھ حد تک کم ہوئی ہے، جس سے حکومت کو پیٹرول کی قیمت میں کمی کا موقع ملا۔ تاہم، ڈیزل کی درآمدی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم لیوی میں اضافہ: ایک نیا بوجھ
قیمتوں میں رد و بدل کے ساتھ ہی حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول پر لیوی کو 78 روپے سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 77 روپے سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
پیٹرولیم لیوی ایک غیر براہ راست ٹیکس ہے جو صارفین سے فی لیٹر مصنوعات پر لیا جاتا ہے۔ یہ رقم حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اگرچہ اس لیوی سے حکومتی آمدن میں اضافہ ممکن ہے، تاہم عام صارف کے لیے یہ ایک بوجھ ہی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کا براہ راست اثر صارفین کی جیب پر پڑتا ہے۔
معاشی تناظر اور حکومت کی مجبوری
پاکستان اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، مالی خسارہ، آئی ایم ایف کی شرائط اور ٹیکس آمدن میں کمی جیسے مسائل نے حکومت کو محدود اختیارات تک محدود کر دیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کا اضافہ دراصل حکومت کی کوشش ہے کہ وہ غیر ٹیکس آمدن کے ذرائع سے محصولات میں اضافہ کرے تاکہ بجٹ خسارہ کم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے میں بھی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے محصولات میں اضافہ کرے گی اور سبسڈی کو بتدریج ختم کرے گی۔ اسی تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں "ایڈجسٹمنٹ” درحقیقت ایک معاشی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہے۔
عوامی ردعمل اور اثرات
اگرچہ پیٹرول کی قیمت میں کمی عوامی سطح پر خوش آئند خبر ہے، لیکن پیٹرولیم لیوی میں اضافے نے اس ریلیف کو قدرے بے اثر کر دیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ حکومت قیمتوں میں کمی کا اعلان کر کے وقتی ریلیف دیتی ہے لیکن ساتھ ہی غیر محسوس انداز میں ٹیکس یا لیوی بڑھا دیتی ہے۔
مزید برآں، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ زرعی، صنعتی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر منفی اثرات ڈالے گا۔ پاکستان میں زیادہ تر سامان کی ترسیل ہائی اسپیڈ ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر ہوتی ہے، اس لیے ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ مہنگائی کے اس چکر کو مزید گہرا کر سکتا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
اگر گزشتہ چند مہینوں کا جائزہ لیا جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ حکومت نے کئی مواقع پر بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا، مگر پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی غیر موجودگی میں لیوی کے ذریعے ہی محصولات بڑھانے پر توجہ مرکوز رکھی۔
مثال کے طور پر، رواں مالی سال کے آغاز پر حکومت نے پیٹرول پر لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 70 اور پھر 80 روپے تک کی، جو اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ اس اقدام نے آئی ایم ایف کو تو مطمئن کیا، مگر عوام کو مسلسل مہنگائی کی چکی میں پیستا رہا۔
مستقبل کی پیشگوئیاں
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی جاری رہی، تو حکومت کو اگلی قسط میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا موقع مل سکتا ہے، لیکن یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہ کرے۔ اگر حکومت لیوی یا جی ایس ٹی میں مزید اضافہ کرتی ہے، تو عوام کو بین الاقوامی سطح پر سستی ہوتی مصنوعات کا فائدہ نہیں پہنچے گا۔
مجموعی طور پر حکومت کے حالیہ فیصلے کو متوازن قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف پیٹرول کی قیمت میں کمی کی گئی ہے تو دوسری جانب ڈیزل مہنگا کر کے اور لیوی میں اضافہ کر کے حکومتی آمدن کو مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم یہ حکمت عملی عوامی سطح پر مقبول نہیں ہو سکتی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی بے یقینی سے دوچار ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی فیصلوں میں شفافیت اور توازن برقرار رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں مرتب کرے جو عام آدمی کے لیے قابل قبول ہوں، اور ساتھ ہی ریاست کے مالی استحکام کو بھی یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر عوامی بےچینی اور احتجاج کی صورت میں سیاسی و معاشی مسائل مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔





















