ٹرمپ کا روسی بیان پر ردعمل، جوہری آبدوزیں روس کے قریب تعینات کرنے کا حکم

امریکہ کے پاس 14 اوہائیو کلاس جوہری آبدوزیں ہیں، جن میں سے 8 سے 10 ہر وقت تعینات رہتی ہیں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق روسی صدر دیمتری میڈویڈوف کے اشتعال انگیز بیانات کے جواب میں دو جوہری آبدوزوں کو روس کے قریبی علاقوں میں تعینات کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور روس کے درمیان یوکرین جنگ کے تناظر میں سفارتی اور معاشی کشیدگی عروج پر ہے۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو ایک احتیاطی تدبیر قرار دیا، لیکن اس نے عالمی سطح پر جوہری تصادم کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ یہ رپورٹ اس واقعے کی تفصیلات، پس منظر، اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔

ٹرمپ کا فیصلہ اور اس کا پس منظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ، یکم اگست 2025 کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے دو جوہری آبدوزوں کو "مناسب علاقوں” میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ روس کی سیکیورٹی کونسل کے نائب چیئرمین اور سابق صدر دیمتری میڈویڈوف کے "انتہائی اشتعال انگیز” بیانات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا، "الفاظ بہت اہمیت رکھتے ہیں اور بعض اوقات غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ یہ بیانات محض الفاظ سے زیادہ کچھ نہیں ہوں گے۔”

میڈویڈوف، جو 2008 سے 2012 تک روس کے صدر رہ چکے ہیں، حالیہ برسوں میں اپنے سخت گیر اور مغرب مخالف بیانات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ جمعرات کو انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے پسندیدہ زومبی فلموں جیسے "دی واکنگ ڈیڈ” کو یاد کریں اور روس کے سوویت دور کے خفیہ جوہری نظام "ڈیڈ ہینڈ” کی طاقت کو نہ بھولیں۔ یہ نظام، جو سرد جنگ کے دور میں تیار کیا گیا تھا، ایک خودکار یا نیم خودکار کمانڈ سسٹم ہے جو دشمن کے حملے میں روسی قیادت کے خاتمے کی صورت میں جوہری ہتھیار لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈویڈوف نے مزید کہا کہ اگر ان کے بیانات امریکی صدر کو ردعمل دینے پر مجبور کر رہے ہیں تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس اپنی پالیسیوں پر صحیح سمت میں گامزن ہے۔

ٹرمپ اور میڈویڈوف کا سوشل میڈیا تنازع

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے 10 دن کا الٹی میٹم دیا، جو کہ ان کے پہلے اعلان کردہ 50 دن کے ڈیڈ لائن سے کافی کم تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس اس ڈیڈ لائن پر عمل نہیں کرتا تو وہ روس اور اس کے تیل خریدنے والے ممالک، جیسے کہ بھارت، پر سخت معاشی پابندیاں عائد کریں گے۔ اس کے جواب میں میڈویڈوف نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ٹرمپ "الٹی میٹم کا کھیل” کھیل رہے ہیں اور ہر نیا الٹی میٹم روس اور امریکہ کے درمیان جنگ کی طرف ایک قدم ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ وہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی طرح "غلط راہ” پر نہ چلیں۔

ٹرمپ نے اس تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے میڈویڈوف کو "ناکام سابق صدر” قرار دیا اور کہا کہ وہ "خطرناک علاقے” میں داخل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت اور روس کے معاشی تعلقات پر بھی طنز کیا، کہا کہ وہ دونوں اپنی "مردہ معیشتوں” کو ایک ساتھ لے ڈوبیں، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سوشل میڈیا جنگ نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تناؤ کو بڑھاوا دیا، جس کا نتیجہ ٹرمپ کے جوہری آبدوزوں کے تعیناتی کے اعلان کی صورت میں نکلا۔

یوکرین جنگ اور عالمی تناؤ

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یوکرین جنگ کے نقصانات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رواں ماہ روس کے تقریباً 20,000 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے 112,500 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے نقصانات کا بھی ذکر کیا، کہا کہ یکم جنوری 2025 سے اب تک 8,000 یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، اور اس میں لاپتہ فوجیوں کی تعداد شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اس جنگ کو "غیر ضروری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جو بائیڈن کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اور وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یوکرین پر روس کے حملوں میں حالیہ شدت نے عالمی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ جمعرات کو روس نے کیف پر سال کا بدترین فضائی حملہ کیا، جس میں 300 سے زائد ڈرونز اور آٹھ میزائل داغے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ ٹرمپ نے ان حملوں کو "نفرت انگیز” قرار دیا اور کہا کہ وہ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف کو روس بھیج رہے ہیں تاکہ امن مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکے۔ تاہم، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایک "مستقل اور مستحکم امن” چاہتے ہیں، لیکن انہوں نے اپنی شرائط پر کوئی لچک ظاہر نہیں کی، جن میں یوکرین کا نیٹو میں شمولیت سے دستبرداری اور مقبوضہ علاقوں کا حوالہ شامل ہے۔

جوہری آبدوزوں کی تعیناتی

امریکی بحریہ اور پینٹاگون نے ٹرمپ کے اعلان پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، کیونکہ جوہری آبدوزوں کی تعیناتی ایک انتہائی حساس فوجی راز ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس 14 اوہائیو کلاس جوہری آبدوزیں ہیں، جن میں سے 8 سے 10 ہر وقت تعینات رہتی ہیں۔ یہ آبدوزیں جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو سکتی ہیں، لیکن تمام آبدوزیں جوہری ہتھیار نہیں رکھتیں۔ ماہرین نے ٹرمپ کے اس اقدام کو زیادہ تر ایک "علامتی اشارہ” قرار دیا ہے، کیونکہ امریکی آبدوزیں پہلے ہی دنیا کے مختلف حصوں میں تعینات ہیں اور روس کے خلاف جوہری حملوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

فیدریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے ماہر ہانس کرسٹنسن نے کہا کہ "یہ آبدوزیں ہر وقت موجود ہوتی ہیں اور انہیں کسی خاص جگہ منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا یہ بیان میڈویڈوف کے بیانات کا جواب دینے کی کوشش ہے، لیکن اس سے فوجی حکمت عملی میں کوئی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔

عالمی ردعمل اور خدشات

ٹرمپ کے اس اعلان نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیرل کمبل نے اسے "غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا اور کہا کہ "کوئی رہنما، چاہے وہ موجودہ ہو یا سابق، کو جوہری جنگ کی دھمکی نہیں دینی چاہیے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس طرح کے غیر سنجیدہ انداز میں۔” ماسکو کے اسٹاک مارکیٹ میں ٹرمپ کے بیانات کے بعد تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی معاشی حلقوں میں بھی یہ فیصلہ پریشانی کا باعث بنا۔

دوسری طرف، روس کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، لیکن میڈویڈوف کی حالیہ پوسٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ "اگر میرے چند الفاظ امریکی صدر کو اتنا پریشان کر رہے ہیں تو روس صحیح راستے پر ہے۔”

ٹرمپ کا جوہری آبدوزوں کی تعیناتی کا اعلان ایک غیر معمولی اور خطرناک پیش رفت ہے، جو امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ کے بعد سے سب سے زیادہ کشیدہ لمحات کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ ماہرین اسے زیادہ تر ایک علامتی اشارہ سمجھ رہے ہیں، لیکن اس سے جوہری تصادم کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میڈویڈوف کے بیانات، جو اکثر کریملن کے سخت گیر موقف کی عکاسی کرتے ہیں، اور ٹرمپ کی فوری ردعمل کی حکمت عملی نے عالمی سطح پر عدم استحکام کو بڑھاوا دیا ہے۔

یہ تنازع یوکرین جنگ کے تناظر میں اور بھی سنگین ہو جاتا ہے، جہاں ٹرمپ کی جانب سے معاشی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ٹرمپ کے الٹی میٹم کو مسترد کر دیا ہے، اور میڈویڈوف جیسے رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اپنی پوزیشن پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔

ٹرمپ کا یہ اقدام ان کی غیر روایتی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن اس سے عالمی امن کے امکانات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی، چاہے وہ علامتی ہی کیوں نہ ہو، ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، اور اسے سوشل میڈیا پر اس طرح پیش کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے۔ پاکستان کے تناظر میں، جہاں جوہری صلاحیت ایک اہم دفاعی اثاثہ ہے، یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی رہنماؤں کو اپنے بیانات اور اقدامات میں تحمل سے کام لینا چاہیے۔

حکومتوں اور عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ٹرمپ اور میڈویڈوف کے درمیان سوشل میڈیا پر جاری یہ لفظی جنگ اگر عملی تنازع میں بدل گئی تو اس کے نتائج ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ سفارتی مذاکرات کو فروغ دے اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔ یہ وقت نہ صرف تحمل بلکہ حکمت عملی اور دور اندیشی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ عالمی امن کو برقرار رکھا جا سکے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین