توثیق حیدر شادی نہ کرنے کے باوجود خوش کیوں ہیں؟ انٹرویو میں اہم انکشافات

بچے سہارا نہیں بلکہ اللہ کی نعمت ہوتے ہیں، انھیں کسی انشورنس کی طرح مت دیکھا جائے کہ وہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت کریں گے یا ان کا سہارا بنیں گے

پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے نامور میزبان، اداکار اور صداکار توثیق حیدر نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے وہ خیالات بیان کیے جو عام طور پر سوشل میڈیا یا ٹی وی پر کم ہی سننے کو ملتے ہیں۔ 55 سالہ توثیق حیدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے شادی نہ کرنے کا جو فیصلہ جوانی میں کیا تھا، وہ وقت کے ساتھ بالکل درست ثابت ہوا اور آج وہ اس فیصلے پر مکمل طور پر مطمئن ہیں۔
توثیق حیدر نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک عام مگر اہم سوال سے کیا، جو اکثر تنہا زندگی گزارنے والوں سے پوچھا جاتا ہے: ’’بڑھاپے میں سہارا کون ہوگا؟‘‘ اس پر انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بچے سہارا نہیں بلکہ اللہ کی نعمت ہوتے ہیں۔ انھیں کسی انشورنس کی طرح مت دیکھا جائے کہ وہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت کریں گے یا ان کا سہارا بنیں گے۔

جذباتی سچائیاں اور معاشرتی دباؤ

اداکار نے اپنی زندگی کے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی جو عام طور پر نجی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول، جوانی میں ایک بار کسی کے ساتھ جذباتی تعلق قائم ہوا تھا، مگر وہ رشتہ شادی تک نہ پہنچ سکا۔ اس تجربے نے انھیں گہرائی سے سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا صرف معاشرتی توقعات یا رسم و رواج کی پیروی کرتے ہوئے زندگی کے اتنے اہم فیصلے کیے جانے چاہئیں؟

انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ معاشرہ چاہے جو مرضی کہے، انھوں نے اپنی زندگی میں وہی فیصلہ کیا جو ان کے اصولوں کے مطابق تھا۔ "صرف اس لیے شادی کرنا کہ لوگ توقع کر رہے ہیں، میرے اصولوں کے خلاف ہے،” توثیق حیدر نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔

ایک مختلف زندگی کا انتخاب

توثیق حیدر کا شمار اُن چند شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کے روایتی راستے کے بجائے ایک مختلف اور ذاتی طور پر موزوں راہ اختیار کی۔ اُن کے بقول، وہ بہت سے ایسے افراد کو جانتے ہیں جو شادی اور اولاد کے بغیر بھی نہایت پُرسکون، باوقار اور با مقصد زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف، وہ ایسے لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو شادی شدہ اور بچوں والے ہونے کے باوجود شدید تنہائی، جذباتی خالی پن اور معاشرتی لاتعلقی کا شکار ہیں۔

انھوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ شادی یا اولاد کا ہونا کسی بھی انسان کی خوشی، ذہنی سکون یا معاشرتی قدر کا معیار نہیں ہونا چاہیے۔ خوشی کا تعلق اندرونی اطمینان اور فیصلوں کی سچائی سے ہوتا ہے، نہ کہ رواجی رسموں کی تکمیل سے۔

معاشرتی سوچ پر تنقیدی نظر

توثیق حیدر کی گفتگو میں پاکستانی معاشرے کی اُس روایتی سوچ پر بھی تنقید محسوس ہوتی ہے جو زندگی کے ہر مرحلے کو شادی سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ شادی نہ کرنے والے افراد کو اکثر سوالات، مشوروں اور ہمدردی کے لبادے میں چھپی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے کہ ان کی زندگی کسی کمی یا خلا کا شکار ہے۔

لیکن اُن کے نزدیک اصل کمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی فرد خود کو دوسروں کی توقعات پر قربان کر کے اپنی مرضی اور اصولوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے لیے ذاتی اطمینان، آزادی اور ذہنی سکون زیادہ اہم ہیں، اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر وہ آج اپنے فیصلے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

مستقبل کے دروازے کھلے ہیں

اگرچہ توثیق حیدر شادی نہ کرنے کے اپنے ماضی کے فیصلے پر مطمئن ہیں، لیکن انھوں نے واضح کیا کہ وہ مستقبل کے لیے دروازے بند نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی رشتوں کی باتیں چلتی رہتی ہیں، لیکن فیصلہ ہمیشہ وہی ہوگا جس کی گواہی اُن کا دل دے گا۔

یہ بیان اُن کی شخصیت کی اس پہلو کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ زندگی کو ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند دیکھتے ہیں، جہاں ممکنات ہمیشہ موجود رہتی ہیں، لیکن راستہ وہی اختیار کیا جاتا ہے جو باطن سے سچ لگے۔

سیاق و سباق اور ثقافتی پس منظر

پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں شادی کو صرف سماجی روایت ہی نہیں بلکہ مذہبی، معاشی اور جذباتی اعتبار سے بھی ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے، وہاں توثیق حیدر جیسے افراد کی گفتگو ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ وہ اُن آوازوں میں سے ہیں جو روایت سے ہٹ کر سوچنے، جینے اور فیصلے کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

ان کی گفتگو نہ صرف انفرادی آزادی کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ ایک بڑے سماجی ڈائیلاگ کو جنم دیتی ہے کہ کیا زندگی کے اہم فیصلے صرف معاشرتی قبولیت کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں؟ یا کیا انسان کو خود اپنی زندگی کی گاڑی کا ڈرائیور ہونا چاہیے، چاہے راستہ مختلف کیوں نہ ہو؟

توثیق حیدر کا یہ انٹرویو بظاہر ایک ذاتی زندگی کا تذکرہ ہے، لیکن اس کے ذریعے انھوں نے بہت سے ایسے افراد کو آواز دی ہے جو اپنی انفرادیت، ذاتی آزادی اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انھوں نے یہ پیغام دیا کہ شادی زندگی کا حصہ ہو سکتی ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر انسان کے لیے وہی راستہ خوشی، سکون اور مقصد کا ضامن ہو۔

ان کا انداز فکر اور لب و لہجہ ایک ایسے بالغ، باشعور اور خودمختار انسان کا عکس پیش کرتا ہے جو اپنی زندگی کے ہر فیصلے کا بوجھ خود اٹھاتا ہے — بغیر کسی پچھتاوے کے، بغیر کسی خوف کے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین