لکی مروت میں دھماکا، 5 معصوم بچے شہید، خاتون سمیت 13 زخمی

یہ تباہ کن واقعہ ایک مارٹر گولے کے پھٹنے سے پیش آیا

پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ایک خوفناک دھماکے نے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا، جس کے نتیجے میں 5 معصوم بچے جاں بحق اور ایک خاتون سمیت 13 افراد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ تباہ کن واقعہ ایک مارٹر گولے کے پھٹنے سے پیش آیا، جس نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ پولیس اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا۔ یہ رپورٹ اس دلخراش واقعے کی تفصیلات، امدادی سرگرمیوں، اور جاری تحقیقات پر روشنی ڈالتی ہے۔

دھماکے کی تفصیلات

لکی مروت کے ایک گنجان آباد علاقے میں ہونے والے اس دھماکے نے مقامی باشندوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ اس نے آس پاس کے گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے اور لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ابتدائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دھماکا ایک مارٹر گولے کے پھٹنے سے ہوا، جو ممکنہ طور پر بچوں کے ہاتھ لگ گیا یا غیر محفوظ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اس گولے کی اصلیت اور اس کے مقام تک پہنچنے کے حالات ابھی تک واضح نہیں ہیں، لیکن مقامی افراد نے پولیس کو بتایا کہ بچوں نے اسے کھلونا سمجھ کر اٹھایا ہو گا، جس کے نتیجے میں یہ المناک حادثہ پیش آیا۔

دھماکے کے نتیجے میں پانچ بچوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ زخمی ہونے والوں میں سے بیشتر بچے ہیں۔ ایک خاتون بھی اس واقعے میں شدید زخمی ہوئیں۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور کئی افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔ مقامی حکام نے تصدیق کی کہ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت نازک ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں میں خون کے عطیات کی فوری اپیل کی گئی ہے۔

امدادی کارروائیاں اور پولیس کی فوری ردعمل

واقعے کی اطلاع ملتے ہی لکی مروت پولیس، ایف سی، اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر زخمیوں کو قریبی سٹی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں اور طبی عملے نے ہنگامی بنیادوں پر علاج شروع کیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، زخمیوں کو خون کی شدید ضرورت ہے، اور مقامی کمیونٹی سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔

پولیس نے جائے وقوع کو سیل کر دیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) لکی مروت کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مارٹر گولا کہاں سے آیا اور اس کے دھماکے کی وجوہات کیا تھیں۔ پولیس کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ "ہم تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں، اور جلد ہی اس واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کا پتہ لگایا جائے گا۔”

لکی مروت 

لکی مروت، جو خیبر پختونخوا کے حساس علاقوں میں سے ایک ہے، ماضی میں بھی دہشت گردی کے واقعات اور دھماکہ خیز مواد سے متعلق حادثات کا شکار رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس علاقے میں عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سے کئی گروہ غیر محفوظ دھماکہ خیز مواد، جیسے کہ مارٹر گولوں اور آئی ای ڈیز، کا استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں لکی مروت میں متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 13 جولائی 2025 کو ایک سیاسی رہنما کے قافلے پر آئی ای ڈی حملہ شامل ہے، جس میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

اسی طرح، دسمبر 2024 میں قریبی ضلع بنوں کے جانی خیل میں تین طلبہ ایک مارٹر گولے کے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے، جب وہ اسے کھلونا سمجھ کر کھیل رہے تھے۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غیر محفوظ دھماکہ خیز مواد کا موجود ہونا علاقے کے مکینوں، خاص طور پر بچوں، کے لیے ایک مسلسل خطرہ ہے۔

کمیونٹی کا ردعمل اور خون کے عطیات کی اپیل

دھماکے کے بعد مقامی کمیونٹی نے فوری طور پر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ لوگوں نے زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں مدد کی اور خون کے عطیات کے لیے اسپتال کے باہر قطار لگائی۔ ایک مقامی رہنما نے کہا، "یہ ہمارے بچوں کا نقصان ہے، ہماری کمیونٹی کا نقصان ہے۔ ہم سب کو مل کر اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔” سوشل میڈیا پر بھی خون کے عطیات کی اپیلوں نے زور پکڑا، جہاں ایکس پر کئی صارفین نے اسپتال کے پتے اور رابطہ نمبروں کے ساتھ پیغامات شیئر کیے۔

ایک صارف نے لکھا، "لکی مروت کے بچوں کے لیے ہم سب کو آگے آنا ہوگا۔ سٹی اسپتال میں خون کی فوری ضرورت ہے، براہ کرم اپنا حصہ ڈالیں۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ دلخراش ہے کہ ہمارے بچے اس طرح کی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکام کو اس دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔”

حکومتی اور سیکیورٹی اداروں کا کردار

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور تحقیقات کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی ایک بیان میں کہا کہ "لکی مروت کے معصوم بچوں کی ہلاکت ایک قومی سانحہ ہے۔ ہم اس واقعے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔”

سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اور دھماکہ خیز مواد موجود نہ ہو۔ مقامی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک اشیاء کو ہاتھ نہ لگائیں اور فوری طور پر حکام کو اطلاع دیں۔

لکی مروت کا یہ دلخراش واقعہ پاکستان کے سیکیورٹی چیلنجز اور غیر محفوظ دھماکہ خیز مواد کے مسلسل خطرے کی ایک واضح مثال ہے۔ مارٹر گولوں جیسے دھماکہ خیز آلات کی موجودگی، خاص طور پر رہائشی علاقوں میں، ایک سنگین مسئلہ ہے جو نہ صرف سیکیورٹی اداروں بلکہ مقامی کمیونٹیوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ بچوں کی ہلاکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس طرح کے دھماکہ خیز مواد تک بچوں کی رسائی کو روکنے کے لیے فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگرچہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے حالیہ برسوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے ہیں، لیکن غیر محفوظ دھماکہ خیز مواد کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرے بلکہ دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کے لیے ایک منظم پروگرام شروع کرے۔ اس کے علاوہ، عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں کو مشکوک اشیاء سے دور رہنے کی ترغیب دی جانی چاہیے، خاص طور پر بچوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے اسکولوں میں خصوصی پروگرامز شروع کیے جانے چاہئیں۔

لکی مروت کے اس سانحے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کو اپنی سیکیورٹی پالیسیوں اور عوامی تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ملک کے مستقبل کے تحفظ کے لیے فوری عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی اور خون کے عطیات کی اپیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی قوم مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، لیکن اس سانحے سے سبق سیکھ کر مستقبل میں ایسی تباہی کو روکنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین