بیجنگ: چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا جدید پانچویں نسل کا J-20 ’مائٹی ڈریگن‘ اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ آبنائے سوشیما سے گزرا، جو جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک انتہائی حساس اور سخت نگرانی والا سمندری راستہ ہے، اور اس دوران یہ کسی بھی امریکی، جاپانی یا جنوبی کوریائی ریڈار سسٹم کی گرفت میں نہیں آیا۔ چین کے سرکاری میڈیا نے اس پرواز کو ایک بڑی فوجی کامیابی قرار دیا ہے، جو اس خطے میں مغربی اتحادیوں کے فضائی دفاع کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ رپورٹ اس غیر معمولی دعوے، اس کے پس منظر، اور اس کے ممکنہ عالمی اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
چین کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل CCTV نے حال ہی میں ایک رپورٹ نشر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس (PLAAF) کی ’فرسٹ فائٹر بریگیڈ‘ نے J-20 اسٹیلتھ طیاروں کے ساتھ آبنائے سوشیما اور باشی چینل کے اوپر پروازیں کیں، اور یہ مشن تائیوان کے گرد چکر لگانے کے بعد کامیابی سے مکمل ہوا۔ رپورٹ میں واضح طور پر J-20 کا نام نہیں لیا گیا، لیکن اس دوران دکھائی جانے والی فوٹیج میں J-20 طیاروں کی واضح تصاویر شامل تھیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ مشن اسی جدید اسٹیلتھ طیارے نے انجام دیا۔
آبنائے سوشیما، جو جاپان کے جزیرہ کیوشو اور جنوبی کوریا کے درمیان واقع ہے، بحری اور فضائی ٹریفک کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ یہ آبنائے بحرالکاہل سے بحر جاپان (یا مشرقی سمندر) کو ملاتی ہے اور اسے ایک اسٹریٹجک ’چوک پوائنٹ‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ امریکی THAAD (Terminal High Altitude Area Defense) اینٹی میزائل سسٹم سمیت جاپان، جنوبی کوریا، اور امریکہ کے جدید ریڈار نیٹ ورکس کی سخت نگرانی میں ہے۔ اس کے علاوہ، جاپان کی 24 اور جنوبی کوریا کی 8 پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں بھی اس علاقے کی فضائی نگرانی کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
چینی میڈیا کے مطابق، J-20 نے نہ صرف آبنائے سوشیما سے گزر کر اپنا مشن مکمل کیا بلکہ اس دوران کسی بھی اتحادی فوج کی طرف سے اس کی موجودگی کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔ یہ دعویٰ، اگر درست ہے، تو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین کا J-20 اسٹیلتھ طیارہ مغربی ممالک کے جدید فضائی دفاع کے نظام کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جے۔20 چین کا جدید اسٹیلتھ ہتھیار، جسے ’مائٹی ڈریگن‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، چین کا پہلا پانچویں نسل کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے، جو Chengdu Aircraft Corporation نے تیار کیا۔ اس نے اپنی پہلی پرواز 11 جنوری 2011 کو کی اور مارچ 2017 میں PLAAF میں باضابطہ طور پر شامل ہوا۔ یہ طیارہ اپنی کم ریڈار کراس سیکشن (RCS)، جدید ایویونکس، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلوں کے لیے مشہور ہے۔ حالیہ برسوں میں، چین نے J-20 کے ریڈار سسٹم کو سلیکون کاربائیڈ (SiC) سیمی کنڈکٹرز کے ذریعے اپ گریڈ کیا ہے، جس سے اس کی پکڑنے کی صلاحیت تقریباً 1,000 کلومیٹر تک بڑھ گئی ہے، جو امریکی F-35 کے 200-300 کلومیٹر کے مقابلے میں ایک بڑی پیش رفت ہے
J-20 کی اسٹیلتھ صلاحیتوں میں اس کا فلیٹ فیوزلیج، اندرونی ہتھیاروں کی خفیہ جگہ، اور ریڈار جذب کرنے والے مواد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس کے نئے WS-10C انجنوں میں سیرٹڈ نوزلز اور ٹائلز شامل کیے گئے ہیں، جو اس کی پچھلی طرف سے اسٹیلتھ صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، PLAAF کے پاس 2024 تک 400 سے زائد J-20 طیارے ہیں، اور یہ تعداد 2030 کی دہائی کے اوائل تک 1,000 تک پہنچنے کی توقع ہے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی اسٹیلتھ فائٹر فلیٹ بنا سکتی ہے۔
مغربی اتحادیوں کی خاموشی
چین کے اس دعوے کے باوجود کہ J-20 آبنائے سوشیما سے ’غائب‘ رہ کر گزرا، جاپان کی سیلف ڈیفنس فورس (JSDF)، جنوبی کوریا کی وزارت دفاع، یا امریکی فوج کی طرف سے اس پرواز کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ خاموشی کئی سوالات اٹھاتی ہے۔ کیا واقعی مغربی اتحادیوں کے ریڈار سسٹمز J-20 کو پکڑنے میں ناکام رہے؟ یا پھر انہوں نے اسے دیکھا لیکن اس کی تصدیق نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ چین کو اس کی صلاحیتوں پر زیادہ اعتماد نہ ہو؟
دفاعی ماہرین اس دعوے پر منقسم ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ پرواز چین کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کی برتری کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ دیگر اسے چینی پروپیگنڈے کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک ماہر نے کہا کہ اسٹیلتھ طیارے مکمل طور پر ’غائب‘ نہیں ہوتے؛ وہ مخصوص فریکوئنسی کے ریڈارز، جیسے کہ VHF، یا سیٹلائٹس اور دیگر طیاروں کی براہ راست نظر سے پکڑے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ممکن ہے کہ مغربی اتحادیوں نے J-20 کو ٹریک کیا ہو لیکن اسے عوامی طور پر تسلیم نہ کیا تاکہ اپنی حکمت عملی کو خفیہ رکھا جا سکے۔
آبنائے سوشیما
آبنائے سوشیما ایک تنگ سمندری گزرگاہ ہے جو بحری اور فضائی ٹریفک کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ نہ صرف جاپان اور جنوبی کوریا کو الگ کرتی ہے بلکہ بحر جاپان کو مشرقی بحیرہ چین سے جوڑتی ہے۔ 1905 میں یہ آبنائے روس-جاپان جنگ کے دوران ایک تاریخی بحری جنگ کا میدان بنی تھی، اور آج بھی یہ خطے کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا ایک اہم نقطہ ہے۔ یہ آبنائے جاپان اور جنوبی کوریا کے ایئر ڈیفنس آئیڈنٹیفکیشن زونز (ADIZ) کے اندر آتی ہے، اور اسے اقوام متحدہ کے قانون بحر کے تحت بین الاقوامی نیویگیشن کے لیے کھلا سمجھا جاتا ہے، جو طیاروں کو ’ٹرانزٹ پاسج رائٹس‘ دیتا ہے۔
تاہم، اس علاقے کی سخت نگرانی کی وجہ سے کوئی بھی غیر اعلانیہ پرواز فوری توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔ ماضی میں، جب 2017 میں چین کے H-6K بمبار اور J-11 لڑاکا طیاروں نے اس آبنائے سے گزرا تھا، جاپانی فوج نے انہیں فوری طور پر ٹریک کیا تھا۔ لیکن J-20 کی حالیہ پرواز، اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے، تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی نے مغربی ریڈارز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت
یہ پرواز چین کی بڑھتی ہوئی فوجی جارحیت اور اسٹریٹجک عزائم کا ایک مظہر ہے۔ J-20 کو نہ صرف آبنائے سوشیما اور باشی چینل کے اوپر پرواز کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ اس نے تائیوان کے گرد بھی چکر لگائے، جو چین کی علاقائی بالادستی کے دعووں کا ایک اور اشارہ ہے۔ PLAAF کے 12 ایئر بریگیڈز اب J-20 سے لیس ہیں، اور 2026 تک یہ طیارہ چین کے تمام پانچ تھیٹر کمانڈز میں مکمل طور پر تعینات ہو جائے گا۔
چین کی حالیہ ٹیکنالوجیکل ترقی، خاص طور پر سلیکون کاربائیڈ سیمی کنڈکٹرز میں، نے J-20 کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی اس کے AESA (Active Electronically Scanned Array) ریڈار کی رینج کو تین گنا بڑھاتی ہے، جس سے یہ امریکی F-35 اور F-22 جیسے طیاروں کے مقابلے میں زیادہ فاصلے سے دشمن کو پکڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، نئے دو سیٹوں والے J-20S ویرینٹ کی تعیناتی سے چین کی فضائی جنگی حکمت عملی میں مزید لچک پیدا ہوئی ہے، جو ممکنہ طور پر ڈرونز کے ساتھ مربوط مشنوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
عالمی ردعمل اور دفاعی ماہرین کے خدشات
دفاعی ماہرین نے اس دعوے کو مغربی فضائی دفاع کے لیے ایک ’بڑی ناکامی‘ قرار دیا ہے، اگر یہ درست ثابت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ J-20 کی اسٹیلتھ صلاحیتوں نے امریکی THAAD سسٹم اور دیگر جدید ریڈارز کی حدود کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تاہم، کچھ ماہرین اس دعوے پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ چین کی سرکاری میڈیا اکثر پروپیگنڈے کے لیے مبالغہ آرائی کرتی ہے۔
جاپان اور جنوبی کوریا کی خاموشی بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یا تو وہ اس پرواز سے بے خبر تھے، یا انہوں نے اسے جان بوجھ کر رپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکی فوج، جو اس خطے میں ایک بڑی موجودگی رکھتی ہے، نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مغربی اتحادیوں نے J-20 کو ٹریک کیا ہو گا لیکن اس کی تصدیق نہ کرنے کو ترجیح دی تاکہ چین کو اپنی صلاحیتوں پر زیادہ اعتماد نہ ہو۔
چین کا یہ دعویٰ کہ اس کا J-20 اسٹیلتھ طیارہ آبنائے سوشیما سے کسی کی نظروں میں آئے بغیر گزر گیا، عالمی فوجی توازن اور انڈو-پیسفک خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے لیے اہم مضمرات رکھتا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے، تو یہ نہ صرف چین کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مغربی اتحادیوں کے فضائی دفاع کے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ THAAD اور پیٹریاٹ جیسے جدید سسٹمز کو اسٹیلتھ طیاروں کی پکڑ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن J-20 کی مبینہ ’غائب‘ پرواز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین نے کم ریڈار کراس سیکشن اور الیکٹرانک وارفیئر میں نمایاں ترقی کی ہے۔
تاہم، اس دعوے کی صداقت پر کئی سوالات ہیں۔ چین کی سرکاری میڈیا کی تاریخ پروپیگنڈے کے لیے مبالغہ آرائی کی رہی ہے، اور یہ ممکن ہے کہ یہ دعویٰ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہو۔ مغربی اتحادیوں کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یا تو وہ اس پرواز سے بے خبر تھے، یا انہوں نے اسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا تاکہ اپنی حکمت عملی کو خفیہ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اسٹیلتھ طیاروں کی پکڑ کے لیے کم فریکوئنسی والے VHF ریڈارز یا انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک (IRST) سسٹمز استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو چین کے دعوے کو مشکوک بناتے ہیں۔
یہ واقعہ چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور خطے میں اس کے جارحانہ رویے کا ایک اور مظہر ہے۔ تائیوان کے گرد J-20 کی پرواز اور اس کی آبنائے سوشیما سے گزرنے کی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین اپنی فضائی بالادستی کو نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اس سے جاپان، جنوبی کوریا، اور امریکہ کو اپنے فضائی دفاع کے نظام کو اپ گریڈ کرنے اور نئی ٹیکنالوجیز، جیسے کہ چھٹی نسل کے لڑاکا طیاروں اور جدید اینٹی اسٹیلتھ ریڈارز، کی تیاری پر توجہ دینے کی ضرورت پڑے گی۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ واقعہ خطے کی بدلتی ہوئی فوجی حرکیات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ پاکستان، جو چین کا قریبی اتحادی ہے، J-20 جیسی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص طور پر اگر چین اپنی جدید JY-27V ریڈار ٹیکنالوجی اس کے ساتھ شیئر کرے، جو F-22 اور F-35 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کی پکڑ کے لیے بنائی گئی ہے۔ تاہم، پاکستان کو اپنی فضائی دفاع کی صلاحیتوں کو بھی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی اسٹیلتھ جنگی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں تیار رہا جا سکے۔
یہ دعویٰ، خواہ سچ ہو یا پروپیگنڈا، انڈو-پیسفک خطے میں فوجی مقابلے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں مغربی اتحادیوں کے لیے ایک واضح چیلنج ہیں، اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسٹیلتھ اور الیکٹرانک وارفیئر کی دوڑ میں کوئی بھی پیچھے رہنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔





















