خسارے کا بجٹ ۔۔۔۔۔ایک نظر

جب تک ہم آمدن کے ذرائع نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک معیشت بہتر نہیں  ہو پائے گی اورجب تک خسارے کا بجٹ پیش ہوتا رہے گا ملک میں مہنگائی مزیدبڑھے گی

تحریر :پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ماہر معاشیات)

حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2025-26 کا17.573کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے، جسے معاشی استحکام اور ترقی کی خواہش کے درمیان توازن کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو 14.13کھرب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے، جو ملکی تاریخ کا بلند ترین ہدف ہے۔ معیشت کی شرحِ نمو 4.2 فیصد اور مہنگائی کی متوقع شرح 7.5فیصد رکھی گئی ہے، جو زمینی حقائق کے تناظر میں ایک چیلنج سے کم نہیں۔بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں (PSDP) کے لیے 1 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں بنیادی ڈھانچے، صحت، توانائی اور آبی وسائل کے منصوبے شامل ہیں۔

دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے 2.55 کھرب روپے رکھے گئے ہیں، جو گزشتہ برس کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے 8.2 کھرب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جو بجٹ کا نصف سے زائد حصہ کھا جاتی ہے۔سماجی تحفظ کے پروگرامز، خصوصاً احساس و بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 716 ارب روپے جبکہ سبسڈیز کے لیے 186 1.کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ تمام اقدامات بظاہر عوامی فلاح کی عکاسی کرتے ہیں ان اعدادو شمار کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیا ان اعداد و شمار کے پیچھے کوئی قابلِ عمل حکمت عملی بھی موجود ہے؟ یا یہ محض اعداد و شمار کا جادو ہے جو کہ وقتی طور پر معاشی دباؤ کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ان اعدادوشمار کی روشنی میں اگر بجٹ کے اغراض ومقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو ادائیگیوں میں توازن کو درست سمت میں رکھنے کے لیے حکومتی اقدامات بہتر نظر آتے ہیں لیکن کیا یہ بجٹ غربت، مہنگائی، بیروزگاری جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا اور عام آدمی کےریلیف کے لیے اس میں کیا ہے تو جمع خاطر رکھیے اس بار حکومت نے کم ازکم تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں کیا اوردوسری طرف کاربن لیوی کے نفاذ کے بعد پیٹرول 2.5 روپے فی لیٹر مہنگا ہوجائے گا۔

مڈل کلاس طبقہ جو ملکی آبادی کے بڑے حصہ پر مشتمل ہے۔ اس کے مسائل سستی رہائش، پانی اور بجلی کی فراہمی ہے جس کے لیے حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ پالیسی نظر نہیں آتی۔ اسی طرح انتہائی غریب اور پس ماندہ طبقات کے لیے” بینظیر انکم سپورٹ پروگرام” جیسے پروگرام وقتی ضروریات کی فراہمی کے لیے تو درست ہوسکتے ہیں لیکن طویل مدت کے لیے ضروری ہے کے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں،صنعتوں کی ترقی کے لیے مسابقت کو فروغ دیا جائے،امن و امان قائم کیا جائے اور چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔حالیہ بجٹ کے چند نکات انتہائی اہم ہیں اگر ہم ان نکات کا جائزہ لیں تو بجٹ کے اغراض و مقاصد واضح ہو جاتے ہیں۔

1۔انکم ٹیکس میں عوام کو ریلیف دیا گیا ہے لیکن سیونگ اکائونٹس پر مزید ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں ۔
2۔اصولی طور پر چھوٹی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ریلیف ملنا چاہیے تھا مگر ان پر اضافی سیلز ٹیکس لگا دیا گیا ہےاس کے علاوہ کاربن لیوی کی مد میں پٹرول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔
3۔نان فائلر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیےان کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہےگاڑیوں کی خرید وفروضت کرنی ہو یا بنک سے رقوم نکلوانی ہو یا پھر گھر ،سٹاکس یا میوچل فنڈز کی خردو فروخت پر ٹیکس بڑھا دئیے گئے ہیں ۔
4۔انرجی بحران پر ریلیف کی بجائے عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا گیاخاص طور پر سولر پینلزپر سیلز ٹیکس میں اضافہ اور عام آدمی کے لیے سلیب سسٹم ختم کر کے انتہائی مہنگا ریٹ یعنی 35 روپے فی یونٹ مقرر کردیا گیا ہے ۔
5۔کہا تو یہ جا رہا ہے کہ کہ گھروں کی خریداری یا تعمیر کے لیے قرضے دیں گے لیکن دوسری طرف جائیدادوں کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں اضافہ اور ایف بی آر کی کڑی شرائط کی وجہ سے رئیل سٹیٹ انڈسٹری بحران کا شکار ہو گئی ہے۔
6۔شرح نمو میں معمولی اضافہ لیکن مہنگائی بدستور بڑھتی جا رہی ہےایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ کے مطابق 2024-25پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 7.2فیصد رہی جو کہ ابتدائی تخمیونوں سے بہتر ہے اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بنک کی "ایشین ڈویلپمنٹ آئوٹ لک جولائی 2025ء میں پاکستان کی اقتصادی کارکردگی کو بہتر قرار دیا گیا ہےجس کے بعد اس رپورٹ کی بنیاد پر حکومت معاشی اعشاریوں میں بہتری کا پروپیگنڈہ کر رہی ہےبظاہر تو یہ معمولی کارکردگی معاشی استحکام قرار نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ 2023ءمیں مہنگائی کا تناسب 29 فیصد اور 2024 میں یہ تناسب 23 فیصد رہا ہےجبکہ شرح نمو 7.2 سے امسال کچھ بہتر ہونے کی توقع ہےجس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی کا تناسب انتہائی زیادہ اور شرح نمو اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔امسال بجٹ 2025ءخسارے کا بجٹ ہےجس میں 6501 ارب روپے کا خسارہ ہےجبکہ 8207ارب روپے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔بجٹ کا کل حجم، 17,573 ارب روپےہے۔اس خسارے کو پورا کرنے کے لیےمزید قرضے لیے جائیں گےاور آئی ایم ایف سے 7 بلین ڈالر قرض لینے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں جس سے مہنگائی اور ٹیکسز میں مزید اضافے کے علاوہ معاشی اعشاریوں کی ترتیب بھی بدل جائے گی ۔جب تک ہم آمدن کے ذرائع نہیں بڑھائیں گے اس وقت تک معیشت بہتر نہیں  ہو پائے گی اورجب تک خسارے کا بجٹ پیش ہوتا رہے گا ملک میں مہنگائی مزیدبڑھے گی ۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین