مدینہ منورہ: سعودی عرب کا مقدس شہر مدینہ منورہ ایک بار پھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے ’صحت مند شہر‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جو اس کے شہریوں کے لیے صحت مند ماحول، بہترین بنیادی ڈھانچے، اور پائیدار ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، مدینہ نے ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ 80 سے زائد سخت معیارات کو کامیابی سے پورا کیا، جس کی بدولت اسے یہ باوقار سند دوبارہ حاصل ہوئی۔ یہ رپورٹ اس اہم کامیابی، اس کے پس منظر، اور سعودی عرب کے دیگر شہروں کی شمولیت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
صحت مند شہر کا معیار
عالمی ادارہ صحت کا ’صحت مند شہر‘ پروگرام شہروں کو ان کی عوامی صحت، ماحولیاتی پائیداری، اور شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی کوششوں کی بنیاد پر تسلیم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت شہروں کو صحت کی خدمات تک رسائی، صاف پانی اور ہوا، سبز مقامات کی فراہمی، محفوظ نقل و حمل، اور سماجی انصاف جیسے 80 سے زائد معیارات پر پرکھا جاتا ہے۔ مدینہ منورہ نے ان معیارات کو نہ صرف پورا کیا بلکہ اپنی ترقیاتی حکمت عملیوں کے ذریعے ایک مثالی ماڈل بھی پیش کیا۔
سعودی وزیر صحت فہد بن عبدالرحمن الجلاجل نے مدینہ کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کو یہ باوقار سند پیش کی۔ تقریب کے دوران، شہزادہ سلمان نے کہا کہ یہ اعزاز سعودی قیادت کے وژن 2030 کے تحت عوام کی فلاح و بہبود کو ترجیح دینے کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت کا نتیجہ قرار دیا، جو صحت، تعلیم، اور ماحولیاتی پائیداری کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔
مدینہ کی صحت مند شہر کے طور پر دوسری کامیابی
مدینہ منورہ کو پہلی بار 2019 میں ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ’صحت مند شہر‘ کا درجہ دیا گیا تھا، جو اسے مشرقی وسطیٰ میں اس اعزاز کو حاصل کرنے والا پہلا شہر بناتا ہے۔ اس بار، مدینہ نے نہ صرف اپنا یہ اعزاز برقرار رکھا بلکہ اپنی ترقیاتی کوششوں کو مزید وسعت دی۔ شہر نے جدید صحت کے مراکز، ماحول دوست پالیسیوں، اور شہریوں کے لیے بہتر طرز زندگی کے مواقع فراہم کرنے پر توجہ دی ہے۔
مدینہ کی انتظامیہ نے شہر کی سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ، اور ہسپتالوں کی سہولیات کو اپ گریڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، زائرین کی بڑی تعداد کو سنبھالنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، کیونکہ مدینہ ہر سال لاکھوں عازمین کی میزبانی کرتا ہے جو مسجد نبویؐ اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ شہر میں صاف پانی کی فراہمی، فضائی آلودگی پر قابو، اور سبز مقامات کی ترقی جیسے اقدامات نے ڈبلیو ایچ او کے معیارات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دیگر سعودی شہروں کی شمولیت
اس سال مدینہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے 14 دیگر شہروں کو بھی ’صحت مند شہر‘ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، جن میں طائف، تبوک، اور الدرعیہ نمایاں ہیں۔ یہ سعودی عرب کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سعودی شہروں نے یہ عالمی اعزاز حاصل کیا۔ ان شہروں نے صحت کے بنیادی ڈھانچے، ماحولیاتی تحفظ، اور شہری منصوبہ بندی کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔
سعودی وزارت صحت کے مطابق، یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت شروع کیے گئے ’ہیلتھ ان آل پالیسیز‘ پروگرام کا نتیجہ ہے، جو صحت کو شہری ترقی کے ہر پہلو میں شامل کرنے پر زور دیتا ہے۔ اس پروگرام نے نہ صرف شہریوں کی صحت کو بہتر بنایا بلکہ سعودی عرب کو عالمی صحت کے نقشے پر ایک نمایاں مقام بھی دلایا ہے۔
شہزادہ سلمان کا بیان اور سعودی قیادت کا وژن
مدینہ کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان نے اس موقع پر کہا کہ یہ اعزاز سعودی عرب کی ترقیاتی رفتار اور اس کی قیادت کے عظیم وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا، "مدینہ منورہ کی یہ کامیابی ہمارے شہریوں اور زائرین کے لیے ایک صحت مند اور خوشحال ماحول فراہم کرنے کے عزم کا ثبوت ہے۔ ہمارا شہر نہ صرف ایک روحانی مرکز ہے بلکہ ایک جدید، پائیدار، اور صحت مند شہری ماڈل بھی بن رہا ہے جو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مثال قائم کر رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی قیادت کے وژن 2030 نے مدینہ کو ایک عالمی شہر کے طور پر ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہر کی انتظامیہ نے نہ صرف صحت کے شعبے میں بہتری لائی بلکہ تعلیم، سیاحت، اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں بھی نمایاں اقدامات کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پلیٹ فارم، پر سعودی شہریوں اور عالمی صارفین نے مدینہ کی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "مدینہ منورہ ہمارے دلوں کا شہر ہے، اور اسے صحت مند شہر کے طور پر تسلیم کیا جانا ہمارے لیے فخر کا باعث ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "سعودی عرب کا وژن 2030 ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ مدینہ اور دیگر شہروں کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔”
پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک کے صارفین نے بھی اس خبر پر مثبت ردعمل دیا، اور کئی نے اسے سعودی عرب کی ترقی اور اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "مدینہ منورہ ہر مسلمان کے دل میں بستا ہے۔ اسے صحت مند شہر کا درجہ ملنا ہر امتی کے لیے خوشی کی بات ہے۔”
مدینہ منورہ کا دوبارہ ’صحت مند شہر‘ کا درجہ حاصل کرنا نہ صرف سعودی عرب کی ترقیاتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے وژن 2030 کی کامیابی کا بھی ثبوت ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سخت معیارات کو پورا کرنا ایک آسان کام نہیں، خاص طور پر ایک ایسے شہر کے لیے جو ہر سال لاکھوں زائرین کی میزبانی کرتا ہے۔ مدینہ کی انتظامیہ نے نہ صرف اپنے شہریوں کے لیے صحت مند ماحول کو یقینی بنایا بلکہ زائرین کے لیے بھی جدید سہولیات فراہم کی ہیں، جو اسے ایک عالمی روحانی اور ترقیاتی مرکز بناتا ہے۔
سعودی عرب کے 14 دیگر شہروں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وژن 2030 کے تحت صحت اور پائیداری کے شعبوں میں کیے گئے اصلاحات پورے ملک میں اثر انداز ہو رہی ہیں۔ یہ کامیابی سعودی قیادت کی اس حکمت عملی کی تصدیق کرتی ہے کہ صحت کو شہری ترقی کے ہر پہلو میں شامل کیا جائے۔ تاہم، اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، عوامی آگاہی، اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، مدینہ کی یہ کامیابی ایک سبق ہے کہ شہری ترقی اور عوامی صحت کو مل کر ترقی دی جا سکتی ہے۔ پاکستان، جو اپنے شہری علاقوں میں صحت کی سہولیات اور ماحولیاتی مسائل سے دوچار ہے، سعودی عرب کے اس ماڈل سے استفادہ کر سکتا ہے۔ خاص طور پر کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں، جہاں فضائی آلودگی اور صحت کی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، سعودی عرب کے ’ہیلتھ ان آل پالیسیز‘ کے ماڈل کو اپنایا جا سکتا ہے۔
مدینہ منورہ کی یہ کامیابی نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک فخر کا باعث ہے۔ یہ شہر، جو اسلامی تاریخ کا ایک اہم مرکز ہے، اب ایک جدید اور صحت مند شہر کے طور پر بھی عالمی شناخت حاصل کر رہا ہے۔ سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ اس کامیابی کو دیگر شعبوں میں بھی وسعت دے اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی کے ایک رول ماڈل کے طور پر اپنی شناخت کو مضبوط کرے۔





















