آلواور ٹماٹر کا مشترکہ پودے سےاگنے کاانوکھا انکشاف

یہ مشترکہ آبائی پودا سولانیسی خاندان کا ایک قدیم رکن تھا

واشنگٹن: آلو اور ٹماٹر، جو ہمارے کھانوں کی میز پر الگ الگ سبزیوں کے طور پر جگہ رکھتے ہیں، دراصل ایک ہی پودے کے ارتقائی ’بہن بھائی‘ ہیں۔ ایک تازہ سائنسی تحقیق نے یہ حیران کن انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 90 لاکھ سال قبل یہ دونوں ایک مشترکہ آبائی پودے سے وجود میں آئے تھے۔ جینیاتی تجزیوں سے پتہ چلا ہے کہ آلو اور ٹماٹر کی جڑیں ایک ہی پودے سے ملتی ہیں، جو ارتقائی عمل کے دوران الگ الگ شاخوں میں تقسیم ہو گیا۔ یہ دریافت نہ صرف زرعی سائنس کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ پودوں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ رپورٹ اس تحقیق کی تفصیلات، اس کے زرعی فوائد، اور ارتقائی سائنس پر اس کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔

جینیاتی تحقیق کا حیرت انگیز نتیجہ

بین الاقوامی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے آلو (Solanum tuberosum) اور ٹماٹر (Solanum lycopersicum) کے ڈی این اے سیکونسنگ کا گہرائی سے موازنہ کیا، جو سولانیسی (Solanaceae) خاندان کے دو اہم پودوں ہیں۔ اس تحقیق میں جدید جینومک ٹیکنالوجیز، جیسے کہ اگلی نسل کی سیکونسنگ (NGS)، کا استعمال کیا گیا تاکہ ان پودوں کے جینومز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ نتائج سے پتہ چلا کہ تقریباً 90 لاکھ سال قبل ایک مشترکہ آبائی پودے سے یہ دونوں پودے ارتقائی طور پر الگ ہوئے، جس سے آلو اور ٹماٹر اپنی موجودہ شکلوں میں وجود میں آئے۔

یہ مشترکہ آبائی پودا سولانیسی خاندان کا ایک قدیم رکن تھا، جو اپنی جڑوں اور زمین سے اوپر کے حصوں میں مختلف خصوصیات کے ساتھ ارتقا پذیر ہوا۔ تحقیق کے مطابق، اس پودے کی ایک شاخ نے جڑوں میں خوراک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ترقی دی، جو آج کے آلو کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ دوسری طرف، دوسری شاخ نے پھل دینے کی صلاحیت کو فروغ دیا، جو ٹماٹر کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ یہ ارتقائی تقسیم پودوں کی ماحولیاتی موافقت اور بقا کی حکمت عملی کا ایک شاندار مظہر ہے۔

آلو اور ٹماٹر کی ارتقائی کہانی

سائنسدانوں نے پایا کہ آلو اور ٹماٹر کے جینومز میں تقریباً 92 فیصد مماثلت موجود ہے، جو ان کی مشترکہ جینیاتی میراث کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں پودوں میں ایک جیسے جینز موجود ہیں جو پودوں کی نشوونما، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، اور ماحولیاتی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تاہم، جینیاتی تغیرات اور ماحولیاتی عوامل نے ان پودوں کو الگ الگ خصوصیات عطا کیں۔

آلو نے اپنی جڑوں (تندوں یا tubers) میں نشاستہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو ترقی دی، جو اسے غذائی توانائی کا ایک بڑا ذریعہ بناتا ہے۔ دوسری جانب، ٹماٹر نے اپنے پھلوں میں وٹامنز (خاص طور پر وٹامن سی) اور اینٹی آکسیڈنٹس، جیسے کہ لائکوپین، کی پیداوار کو بڑھایا، جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ یہ ارتقائی فرق پودوں کی ماحول کے ساتھ موافقت کی ایک دلچسپ مثال ہے، جہاں ایک ہی خاندان کے پودوں نے اپنی بقا کے لیے مختلف راستے اپنائے۔

زرعی سائنس کے لیے امکانات

اس تحقیق سے زرعی سائنسدانوں کو آلو اور ٹماٹر کی ایسی نئی اقسام تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو بیماریوں، کیڑوں، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف زیادہ مزاحم ہوں۔ چونکہ دونوں پودوں کی جینیاتی مماثلت بہت زیادہ ہے، اس لیے آلو کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جینز کو ٹماٹر میں، یا ٹماٹر کی غذائی خصوصیات کو آلو میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، آلو کو ’لےٹ بلائیٹ‘ (Late Blight) نامی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے، جو فنگس کی وجہ سے پھیلتی ہے اور فصلوں کو تباہ کر سکتی ہے۔ ٹماٹر کے کچھ جینز، جو اس بیماری کے خلاف قدرتی مزاحمت رکھتے ہیں، آلو کی اقسام کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح، ٹماٹر کی پیداوار کو موسمیاتی تبدیلیوں، جیسے کہ خشک سالی یا زیادہ درجہ حرارت، کے مطابق ڈھالنے کے لیے آلو کے جینز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، یہ تحقیق جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GMO) فصلوں کی ترقی کے بجائے قدرتی کراس بریڈنگ کے ذریعے مضبوط فصلیں بنانے پر زور دیتی ہے۔ یہ نقطہ نظر نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ کسانوں کے لیے بھی سستا اور پائیدار ہے۔

ارتقائی سائنس کے لیے اہمیت

یہ تحقیق پودوں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ آلو اور ٹماٹر کی مشترکہ جینیاتی میراث سے پتہ چلتا ہے کہ پودوں نے لاکھوں سالوں میں اپنے ماحول کے مطابق کس طرح موافقت کی۔ سولانیسی خاندان، جس میں آلو، ٹماٹر، بینگن، اور مرچیں شامل ہیں، زراعت اور غذائی تحفظ کے لیے ایک اہم پودوں کا گروہ ہے۔ اس تحقیق سے سائنسدانوں کو اس خاندان کے دیگر پودوں کی ارتقائی تاریخ کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید برآں، یہ دریافت ارتقائی حیاتیات کے بنیادی اصولوں، جیسے کہ ’مشترکہ آبائی اصل‘ (common ancestry) اور ’اختلافی ارتقا‘ (divergent evolution) کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ پودوں کی جینیاتی تنوع کو سمجھنے اور اسے زرعی فوائد کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لوگوں نے اسے دلچسپ اور حیرت انگیز قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "آلو اور ٹماٹر ایک ہی پودے سے؟ یہ تو سائنس کی جادوئی دنیا ہے! اب اپنی پلیٹ میں آلو اور ٹماٹر کو دیکھ کر ایک نئی کہانی نظر آئے گی۔” ایک اور صارف نے کہا، "یہ تحقیق پاکستانی کسانوں کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ اگر ہم مضبوط آلو اور ٹماٹر کی اقسام بنا سکتے ہیں، تو یہ ہماری زراعت کے لیے گیم چینجر ہوگا۔”

کچھ صارفین نے اس دریافت کو کھانوں کے تناظر میں دیکھا۔ ایک پاکستانی صارف نے لکھا، "اب جب آلو کی سبزی اور ٹماٹر کی چٹنی بنائیں گے، تو سوچیں گے کہ یہ دونوں کتنے قریب ہیں! سائنس نے ہمارے کھانوں کو ایک کہانی سے جوڑ دیا۔”

آلو اور ٹماٹر کے مشترکہ آبائی پودے کا انکشاف سائنسی تحقیق کی طاقت اور جینیاتی مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ دریافت نہ صرف ہماری روزمرہ کی خوراک کی دو اہم سبزیوں کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ زرعی سائنس کے لیے نئے امکانات بھی کھولتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں آلو اور ٹماٹر زراعت اور خوراک کے اہم اجزاء ہیں، یہ تحقیق غذائی تحفظ اور فصلوں کی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں آلو کی سالانہ پیداوار تقریباً 6 ملین ٹن ہے، جبکہ ٹماٹر بھی مقامی کھانوں کا ایک لازمی حصہ ہے۔ تاہم، دونوں فصلیں بیماریوں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس تحقیق سے پاکستانی زرعی ماہرین کو نئی اقسام تیار کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے جو لےٹ بلائیٹ، خشک سالی، اور کیڑوں کے خلاف زیادہ مزاحم ہوں۔ اس کے علاوہ، یہ تحقیق کسانوں کے لیے سستی اور پائیدار حل پیش کر سکتی ہے، کیونکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلوں کے بجائے قدرتی ہائبرڈ اقسام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

تاہم، اس تحقیق کے عملی اطلاق کے لیے پاکستانی زرعی اداروں، جیسے کہ ایوب ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، کو جدید جینیاتی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، کسانوں کو نئی اقسام اور ان کے فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے تربیتی پروگرامز شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ دریافت نہ صرف سائنسی بلکہ ثقافتی طور پر بھی اہم ہے۔ آلو اور ٹماٹر ہمارے کھانوں کی شناخت کا حصہ ہیں، اور ان کی مشترکہ جینیاتی تاریخ اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ فطرت کس طرح تنوع اور اتحاد کو یکجا کرتی ہے۔ یہ تحقیق پاکستان کے زرعی شعبے کو مضبوط کرنے اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک نئی سمت فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ اسے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین