یوکرین میں پاکستانی جنگجو روس کے لیے لڑ رہے ہیں؟ زلنسکی کا حیران کن دعوی

ہم اس صورتحال کا مناسب جواب دیں گے۔زیلنسکی

کیف: یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ شمال مشرقی یوکرین کے محاذ پر روس کے ساتھ لڑنے والوں میں پاکستانی، چینی، اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔ اس الزام نے عالمی سطح پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ یہ دعویٰ روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی تعلقات کے لیے نئی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ یہ رپورٹ زیلنسکی کے دعوے کی تفصیلات، اس کے پس منظر، اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔

زیلنسکی کا دعویٰ 

یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے شمال مشرقی خارکیف ریجن کے ووفچانسک علاقے کا دورہ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فرنٹ لائن پر موجود فوجی کمانڈرز سے ملاقات کی اور ووفچانسک کے دفاع سمیت جنگ کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ زیلنسکی نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ یوکرینی فوجیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ روس کے ساتھ مل کر لڑنے والوں میں چین، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، اور کئی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے کرائے کے جنگجو شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ "ہم اس صورتحال کا مناسب جواب دیں گے۔”

یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے، اور دونوں فریقین محاذ پر برتری حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملیاں اپنا رہے ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق، یوکرینی فوج ووفچانسک کے دفاع میں مصروف ہے، جہاں شدید لڑائی جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کمانڈرز کے ساتھ ڈرونز کی سپلائی، فوجی بھرتیوں، اور بریگیڈز کے لیے براہ راست فنڈنگ کے مسائل پر بھی بات کی۔

پاکستان کا ردعمل اور ماضی کے الزامات

پاکستان کی وزارت خارجہ نے زیلنسکی کے اس تازہ دعوے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم، ماضی میں پاکستان پر یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں، جنہیں پاکستانی حکام نے سختی سے مسترد کیا تھا۔ 2023 میں بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دو امریکی نجی کمپنیوں کے ساتھ 364 ملین ڈالر کے ہتھیاروں کے معاہدے کیے، جن کے ذریعے مبینہ طور پر ہتھیار یوکرین پہنچائے گئے۔

اس وقت پاکستان کی وزارت خارجہ، سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، اور پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنی غیر جانبدار پوزیشن پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ روس-یوکرین تنازع میں کسی بھی فریق کو براہ راست فوجی امداد فراہم نہیں کر رہا۔ زیلنسکی کے حالیہ الزامات کے تناظر میں، پاکستان سے ایک مضبوط سفارتی ردعمل کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ دعویٰ پاکستانی شہریوں کی جنگ میں براہ راست شرکت کے حوالے سے ہے، جو کہ ایک سنگین الزام ہے۔

زیلنسکی کے ماضی کے الزامات

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ زیلنسکی نے روس پر غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی کا الزام عائد کیا ہو۔ اس سے قبل رواں سال اپریل میں، زیلنسکی نے دعویٰ کیا تھا کہ یوکرینی فوج نے روس کے لیے لڑنے والے دو چینی شہریوں کو ڈونیٹسک کے علاقے سے گرفتار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ ان کے پاس 155 سے زائد چینی جنگجوؤں کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں، جن میں ان کے پاسپورٹ ڈیٹا، بینک کارڈز، اور دیگر ذاتی معلومات شامل ہیں۔

چین نے ان الزامات کو "بے بنیاد” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو مسلح تنازعات سے دور رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اسی طرح، زیلنسکی نے شمالی کوریا پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے ہزاروں فوجی روس کے کرسک علاقے میں بھیجے ہیں، جو یوکرینی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ ان الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیلنسکی روس کی جنگی حکمت عملی کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے۔

عالمی تناظر اور سفارتی اثرات

زیلنسکی کا یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس-یوکرین جنگ عالمی سیاست میں ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کو اپنی دوسری مدت صدارت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے اور روس کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں روس کے خلاف سخت پابندیوں کی دھمکی دی ہے، اگر وہ جنگ بندی پر راضی نہ ہوا، جس میں چین اور بھارت جیسے ممالک پر ثانوی پابندیاں بھی شامل ہیں جو روس سے تیل خرید رہے ہیں۔

زیلنسکی کے الزامات سے پاکستان، چین، اور دیگر نامزد ممالک کے لیے سفارتی چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ پاکستان، جو روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، اس الزام سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبداری کی پالیسی اپنائی ہے، لیکن اس طرح کے الزامات اس کی عالمی ساکھ پر سوالات اٹھا سکتے ہیں۔

روس نے زیلنسکی کے تازہ الزامات پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا، جبکہ تاجکستان، ازبکستان، اور پاکستان کے سفارتخانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن ان کی جانب سے بھی کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

زیلنسکی کے دعوے کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس پر، پاکستانی صارفین نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ الزامات پاکستان کے لیے ایک نیا امتحان ہیں۔ ہماری حکومت کو فوری طور پر اس کی تردید کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہماری غیر جانبداری کی پالیسی کے خلاف ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "زیلنسکی ہر اس ملک کو نشانہ بنا رہے ہیں جو روس کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے۔ یہ سیاسی دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔”

کچھ صارفین نے اسے ایک پروپیگنڈا قرار دیا، جبکہ کچھ نے پاکستانی شہریوں کی ممکنہ شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "اگر کوئی پاکستانی واقعی کرائے کے جنگجو کے طور پر وہاں موجود ہیں، تو یہ ہمارے لیے شرمناک ہے۔ ہمیں اپنے شہریوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔”

زیلنسکی کا یہ دعویٰ روس-یوکرین جنگ کے وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ نہ صرف روس کی جنگی حکمت عملی پر سوالات اٹھاتا ہے بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی سفارتی چیلنجز پیش کرتا ہے۔ پاکستان کی غیر جانبداری کی پالیسی اس تنازع میں اس کا بنیادی موقف رہی ہے، اور ماضی میں ہتھیاروں کی فروخت کے الزامات کی طرح، یہ نیا الزام بھی اس پوزیشن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

تاہم، زیلنسکی کے دعوے کے ثبوت کی کمی ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں پاکستانی جنگجوؤں کی موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے، جیسے کہ انہوں نے چینی جنگجوؤں کے بارے میں پاسپورٹ ڈیٹا اور دیگر معلومات فراہم کی تھیں۔ اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ یہ الزامات سیاسی دباؤ ڈالنے یا عالمی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب امریکی ثالثی میں امن مذاکرات جاری ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس الزام کا فوری اور واضح جواب دے۔ اگر پاکستانی شہری واقعی کرائے کے جنگجوؤں کے طور پر یوکرین میں موجود ہیں، تو یہ نہ صرف پاکستان کی غیر جانبداری کی پالیسی کے منافی ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی تعلقات، خاص طور پر مغرب اور یوکرین کے ساتھ، کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستانی حکام کو چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے سخت اقدامات کریں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کے دعوؤں کے تناظر میں۔

دوسری جانب، یہ دعویٰ روس کی جنگی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر روس واقعی غیر ملکی کرائے کے جنگجوؤں کو بھرتی کر رہا ہے، تو یہ اس کی فوجی طاقت کی کمزوری اور وسائل کی کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زیلنسکی کا یہ بیان اس تنازع کو عالمی سطح پر ایک نیا رخ دینے کی کوشش ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب چین، پاکستان، اور دیگر ممالک کے شہریوں کی شمولیت کے الزامات سے عالمی برادری کی توجہ مبذول ہو رہی ہے۔

پاکستان کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک فعال سفارتی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ زیلنسکی کے دعوے کی تحقیقات کرے اور اس کے جواب میں ایک واضح بیان جاری کرے۔ اس کے علاوہ، روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھتے ہوئے، پاکستان کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس کی غیر جانبداری کی پالیسی پر کوئی سوال نہ اٹھے۔ یہ الزامات اگرچہ غیر مصدقہ ہیں، لیکن ان کے اثرات پاکستان کی عالمی ساکھ اور سفارتی تعلقات پر گہرے ہو سکتے ہیں، اور اس کا فوری جواب دینا ناگزیر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین