دارفور :سوڈان کا جنگ زدہ شہر الفاشر اس وقت ایک ہولناک انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں قحط روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ خوراک کے ذخائر تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور مقامی آبادی انتہائی کربناک حالات میں جانوروں کے لیے مخصوص چارہ کھانے پر مجبور ہو چکی ہے تاکہ کسی طرح بھوک سے نجات حاصل کی جا سکے۔
اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ الفاشر میں قحط کی شدت آئی پی سی فیز 5 کی سطح تک پہنچ چکی ہے، جو کسی بھی غذائی بحران کی بدترین اور انتہائی تشویشناک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ درجہ اس بات کی علامت ہے کہ ہزاروں افراد شدید غذائی قلت کے باعث جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔
شہر کا مکمل محاصرہ جاری ہے۔ خوراک اور ادویات کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے، جس نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ مقامی افراد شدید بھوک کے ہاتھوں بے حال ہو چکے ہیں۔ کسی بھی طرف سے مدد نہ آنے کے باعث لوگ جان بچانے کے لیے جانوروں کے لیے مخصوص خوراک استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
مقامی شہری عثمان انگارو نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز میں عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی۔ اُن کا کہنا تھا: "ہم مر رہے ہیں، خدارا خوراک اور دوا فراہم کی جائے۔” ان کی آواز ان لاکھوں مجبور اور لاچار انسانوں کی نمائندہ تھی جو روزانہ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
الفاشر کے بے بس شہری مونگ پھلی کے چھلکوں سے تیار کردہ چارہ "امباز” پر گزارا کر رہے ہیں، جو عام طور پر جانوروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورت حال نہ صرف انسانیت کے لیے شرمناک لمحہ ہے بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی کافی ہونی چاہیے۔
طبی ماہرین کے مطابق قحط کے شکار شہریوں کی جسمانی حالت اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ معمولی بیماریاں جیسے ہیضہ، نزلہ یا دست بھی جان لیوا بن چکی ہیں۔ شہر میں ادویات کی سخت قلت ہے، اور جو چند اسپتال موجود ہیں، ان میں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔
صورتحال کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے امدادی قافلوں کو روک لیا۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق نہ صرف امدادی رسد کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں بلکہ کئی بار ان قافلوں پر حملے بھی کیے گئے ہیں، جس کے باعث انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔ جنگی حالات نے بین الاقوامی اداروں کو بھی بے بس کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیموں نے مشترکہ طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر خوراک اور طبی امداد نہ پہنچائی گئی تو الفاشر میں انسانی جانوں کا ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری سے ہنگامی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر انسانیت کے ناطے فوری کارروائی کرے۔
الفاشر کا موجودہ بحران صرف سوڈان یا افریقی براعظم کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے۔ یہ انسانی المیہ صرف قحط کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم جنگی و سیاسی صورتحال کی پیداوار ہے جس میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
جانوروں کا چارہ کھانے والے انسان اس صدی کی بدترین بے حسی اور غفلت کی علامت ہیں۔ دنیا بھر کے طاقتور ممالک اور بین الاقوامی ادارے اگر فوری طور پر حرکت میں نہ آئے تو الفاشر صرف ایک شہر نہیں رہے گا، بلکہ ایک اجتماعی قبرستان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یہ وقت عمل کا ہے، صرف بیانات کا نہیں۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب انسان بھوک سے مر رہا تھا، تو باقی دنیا کہاں تھی؟





















