مکہ مکرمہ مسجد الحرام کے ممتاز امام و خطیب شیخ یاسر الدوسری نے اپنے حالیہ خطبہ جمعہ میں سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر شدید تنقید کرتے ہوئے امت مسلمہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی خبر یا معلومات کو شیئر کرنے سے قبل اس کی صداقت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں اور فتووں کو معاشرے میں فساد اور علما کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ قرار دیا۔
جھوٹے اکاؤنٹس اور معاشرتی انتشار
شیخ الدوسری نے اپنے خطبے میں زور دیا کہ جھوٹے یا خریدے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی معلومات اور من گھڑت بیانات نہ صرف علما کی عزت کو داغدار کر رہے ہیں بلکہ معاشرے میں انتشار اور بدگمانی کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اکاؤنٹس جو دانستہ طور پر افواہوں اور جھوٹ کا پرچا ر کرتے ہیں، معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہیں اور ان سے نمٹنے کی فوری ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا کی ذمہ داری
امام کعبہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر شائع یا شیئر کی جانے والی ہر بات کی ذمہ داری اس کے پھیلانے والے پر عائد ہوتی ہے، اور اس کا حساب روز قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے دینا ہوگا۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کو استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں اور غیر مصدقہ معلومات کو آگے نہ بڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ معاشرے میں نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کو فروغ دیتا ہے۔
اسمارٹ فونز کا منفی اثر
شیخ یاسر الدوسری نے اسمارٹ فونز کے غلط استعمال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی، جو لوگوں کو قریب لانے کا ذریعہ بن سکتی تھی، اب تنہائی، حسد اور ناشکری جیسے منفی جذبات کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا پر جعلی زندگیوں اور غیر ضروری تقابل نے لوگوں میں مادی خواہشات اور روحانی خلا کو بڑھایا ہے، جو معاشرتی اور نفسیاتی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔
جعلی فتووں اور پروپیگنڈے کی مذمت
خطبے میں شیخ الدوسری نے خاص طور پر جعلی فتووں اور علما کے خلاف پروپیگنڈے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اسے اسلام دشمن قوتوں کی ایک منظم مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں امت مسلمہ کے اتحاد اور مذہبی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتیں اور صرف معتبر ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر بھروسہ کریں۔
شیخ یاسر الدوسری کا یہ خطبہ موجودہ دور کے سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک، یعنی سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال، پر روشنی ڈالتا ہے۔ ان کا پیغام نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں ذمہ داری اور احتیاط ناگزیر ہے۔ سوشل میڈیا، جو ایک طرف علم و آگہی پھیلانے کا ذریعہ ہے، وہیں غلط استعمال کی صورت میں معاشرتی ہم آہنگی اور مذہبی اقدار کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ خطبہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے معاشرے کو نہ صرف بیداری کی ضرورت ہے بلکہ اخلاقی اور مذہبی اقدار پر مبنی رہنمائی بھی درکار ہے۔ شیخ الدوسری کا پیغام امت مسلمہ کے لیے ایک واضح رہنمائی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال میں تحمل اور تحقیق کو اپنائیں، تاکہ معاشرتی اور روحانی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ یہ خطبہ نہ صرف ایک تنبیہ ہے بلکہ ایک دعوت ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔





















