الہدایہ 2025ء : ڈاکٹر غزالہ قادری کا واروک یونیورسٹی لندن میں خطاب

3روزہ تربیتی سیشن میں برطانیہ، یورپ ،امریکہ سے 13سو فیملیز نے شرکت کی

لاہور :منہاج القرآن ویمن لیگ انٹرنیشنل کی مرکزی صدر ڈاکٹر غزالہ قاری نے واروک یونیورسٹی لندن میں منعقدہ 3روزہ الہدایہ کیمپ 2025ء کے اختتامی سیشن سے ’’روحانی ترقی کے مدارج ‘‘ کے موضوع پر تربیتی لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ اچھا اخلاق انسان کو باوقار بناتا ہے اور مومن کبھی برے اخلاق کا مالک نہیں ہو سکتا۔ بلاجواز تنقید اور دوسروں میں عیب تلاش کرنے سے بچیں یہ گناہ والے افعال ہیں ان سے رشتے کمزور ہوتے ہیں۔ دوسروں کی بجائے اپنے اندر سے غلطیاں تلاش کریں اور پھر اصلاح پر توجہ دیں۔ انہوں نے اپنے لیکچر میں کہاکہ اس بات پر دھیان دیں کہیں جانے یا انجانے میں ہمارے اردگرد موجود لوگ ہماری تلخ نوائی یا غیر محتاط برتائو کی وجہ سے تکلیف میں تو نہیں ہیں؟ یہ احساس ہمیں اچھا انسان بنانے کے ساتھ ساتھ گھر، محلے اور ملک کو بھی پرامن بنا دے گا۔ انہوں نے الہدایہ کیمپ میں شریک خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات غیر شائستہ الفاظ بھی زخم کی طرح انسانی جسم اور روح کو گھائل کر دیتے ہیں لہٰذا جب بھی کسی سے مخاطب ہوں تو شیریں لہجہ اور مہذب الفاظ استعمال کریں اور سوچ سمجھ کر بولیں، یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں بڑے بڑے مسائل سے بچاتی ہیں۔

توبہ کیا ہے؟

انہوں نے توبہ کی فلاسفی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان اپنی ذات کا احتساب کرتا ہے تو اُس کے اندر توبہ کا جذبہ پیداہوتا ہے اور توبہ اللہ کی قربت کا ذریعہ ہے۔ سچی توبہ دلی ندامت سے جنم لیتی ہے۔ تکبر توبہ سے روکتا ہے۔ توبہ کرنے والے درحقیقت عاجزی والے ہوتے ہیںاور عاجزی جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ اہل جنت کی ایک خاص صفت عاجزی بتائی گئی ہے۔ غلطیوں کا ارتکاب بشری کمزوری ہے لیکن غلطیاں نہ دہرانے کا عہد بھی ایک مسلمان کے لئے ناگزیر ہے۔ اللہ اُسی توبہ کو قبول فرماتا ہے جس کا انسان اعادہ نہ کرے ۔انہوں نے کہا کہ باطنی تبدیلی کا آغاز غفلت اور معصیت کے اعتراف و ادارک سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص توبہ کے باوجود بار بار اسی غلطی کا ارتکاب کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بری صحبت میں ہے یا پھر ناپسندیدہ مواد کا مطالعہ اسے بار بار گناہ پر اکساتا ہے لہٰذا بری صحبتوں سے بچو اور اپنی تنہائیوں کو پاکیزہ بنائو۔ اپنے دل دماغ کو برے خیالات سے خالی کرو تاکہ ان کی جگہ اچھے خیالات لے سکیں۔

تقویٰ اللہ کے خوف سے حاصل ہوتا ہے

ڈاکٹر غزالہ قادری نے الہدایہ کیمپ میں شریک خواتین سے تقویٰ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ اللہ کے خوف کا نام ہے۔جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لئے جس قدر احتیاط سے کام لے گا اُسی قدر اُس کے دل میں نیک اعمال کرنے کی تحریک پیدا ہو گی۔ انہوں نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر حال میں علم حاصل کریں اور اس پر محنت کریں۔ علم کامیابی کی سیڑھی ہے۔ ایسی مصروفیات ترک کر دیں جو آپ کو اللہ کی قربت سے دور کردیں۔

گناہوں سے خود کو روکے رکھنا صبر ہے

انہوں نے صبر کی فلاسفی پر بھی بات کی اور کہا کہ صبر سے یہ مراد نہیں ہے کہ جب آپ بیمار ہو جائیں یا کسی مصیبت سے دو چار ہو جائیں تو آپ صبر سے کام لیں بلکہ حقیقی صبر یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو نفس کی اندھی پیروی سے روکیں اور خود پر کنٹرول حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے حد سے متجاوز استعمال نے انسان سے صبر اور قناعت چھین لی ہے۔ دوسروں کے ساتھ موازانہ یا مقابلہ کرنے کی بجائے اللہ نے جن نعمتوں سے آپ کو نوازا ہے اُن پر صبر اور شکر کرنا سیکھیں اس سے آپ کو دلی سکون اور قناعت حاصل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ روحانی ترقی محض اتفاق سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک شعوری مسلسل سفر اور جدوجہد کا نام ہے۔ یہ کامیابی خلوص، عاجزی، صبر اور محنت سے حاصل ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین