پنجاب حکومت کا الیکٹرک بائیک خریدنے والوں کو ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان؟

شہریوں کو الیکٹرک بائیک خریدنے پر 10 گرین کریڈٹس دیے جائیں گے

لاہور: پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے اور صاف ستھرے سفر کو فروغ دینے کے لیے ایک انقلابی اقدام اٹھایا ہے، جس کے تحت الیکٹرک بائیک خریدنے والوں کو ایک لاکھ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ یہ اعلان سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کیا، جو وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر قیادت گرین کریڈٹ پروگرام کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف شہریوں کو ماحول دوست طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دینا ہے بلکہ فضائی آلودگی کو کم کرکے پنجاب کے شہروں، خاص طور پر لاہور، میں سموگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنا ہے۔ یہ رپورٹ پنجاب حکومت کے اس منصوبے کی تفصیلات، اہداف، اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالتی ہے، ساتھ ہی وفاقی حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی اور اس کے چیلنجز کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

گرین کریڈٹ پروگرام

پنجاب حکومت کے گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت، جو جولائی 2025 میں لاہور سے باقاعدہ شروع کیا گیا، شہریوں کو الیکٹرک بائیک خریدنے پر 10 گرین کریڈٹس دیے جائیں گے، جن کی مالی قیمت ایک لاکھ روپے ہے۔ یہ رقم براہ راست درخواست دہندگان کے بینک اکاؤنٹ یا موبائل والیٹ میں منتقل کی جائے گی۔ پروگرام کی سربراہ رضوانہ انجم کے مطابق، اس سکیم کا مقصد پنجاب کے شہریوں کو پٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں سے الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل کرنا ہے، جو کہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

یہ مالی انعام دو مراحل میں دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں، الیکٹرک بائیک کی خریداری کے بعد درخواست کی تصدیق پر 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں، درخواست دہندگان کو چھ ماہ کے اندر 6,000 کلومیٹر کا سفر مکمل کرنا ہوگا، جس کی نگرانی گرین کریڈٹ موبائل ایپ کے ذریعے کی جائے گی۔ اس ہدف کو پورا کرنے پر مزید 50 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت صرف 20 دسمبر 2024 کے بعد خریدی گئی نئی الیکٹرک بائیکس اہل ہیں، اور پرانی پٹرول بائیکس کو الیکٹرک موٹر یا بیٹری کے ساتھ تبدیل کرنے والے افراد اس انعام کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔

گرین کریڈٹ پروگرام صرف الیکٹرک بائیکس تک محدود نہیں ہے۔ شہری درخت لگانے، ایل ای ڈی لائٹس استعمال کرنے، یا دیگر ماحول دوست سرگرمیوں کے ذریعے بھی گرین کریڈٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ لاہور کے رہائشی 1399 پر کال کرکے مفت پودے حاصل کر سکتے ہیں، جو کہ وزیراعلیٰ کے "پلانٹ فار پاکستان” مہم کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب حکومت نے لاہور میں سات ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنز نصب کیے ہیں اور آسٹریلوی ٹیکنالوجی کے ذریعے درختوں کی نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا ہے تاکہ شجرکاری کے منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی

وفاقی حکومت نے بھی الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے ایک جامع پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کی منظوری منگل کے روز اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دی۔ اس پالیسی کے تحت مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سکیم کے تحت دو مراحل میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشوں یا لوڈرز کی فراہمی کا منصوبہ ہے۔

پہلے مرحلے میں، جو جلد وزیراعظم کے ہاتھوں باضابطہ شروع ہوگا، 40 ہزار الیکٹرک بائیکس اور ایک ہزار رکشوں یا لوڈرز متعارف کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے سرکاری کالجوں کے طلبہ کو مفت الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ وفاقی پالیسی کا ایک اہم حصہ کم آمدن والے طبقات کے لیے "کاسٹ شیئرنگ سبسڈی” ہے، جو الیکٹرک بائیکس کی زیادہ قیمت کو پورا کرنے میں مدد دے گی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ الیکٹرک وہیکلز کی قیمت پٹرول بائیکس کے مقابلے میں 100 فیصد زیادہ ہوتی ہے، جو کہ کم آمدن والے افراد کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ برسوں میں 22 لاکھ سے زائد بائیکس کو سبسڈی دینے کا ہدف ہے، جس پر 100 ارب روپے سے زائد خرچ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، 20 ارب روپے چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر چارجنگ کی سہولت میسر ہو۔

ہارون اختر نے تسلیم کیا کہ الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقلی ایک طویل عمل ہے، لیکن سبسڈی اور بلاسود قرضوں کے ذریعے اسے تیز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی مراعات کے بغیر الیکٹرک وہیکلز کی مقبولیت ممکن نہیں۔ ان کا ہدف ہے کہ 2030 تک پاکستان کی 30 فیصد ٹرانسپورٹ الیکٹرک وہیکلز پر مشتمل ہو۔

درخواست کا طریقہ کار

پنجاب حکومت کی گرین کریڈٹ ویب سائٹ کے مطابق، الیکٹرک بائیک خرید کر گرین کریڈٹ حاصل کرنے کا عمل درج ذیل ہے:

  1. اہلیت کا معیار: الیکٹرک بائیک 20 دسمبر 2024 کے بعد خریدی گئی ہو اور درخواست دہندہ کے نام پر رجسٹرڈ ہو۔

  2. دستاویزات کی فراہمی: خریداری کی رسید، رجسٹریشن بک کی کاپی، بائیک کا ماڈل، کمپنی، رجسٹریشن نمبر، چیسس نمبر، اور بائیک کی تصویر جمع کرائی جائے۔

  3. تصدیق کا عمل: درخواست جمع ہونے کے بعد پروگرام کا نمائندہ بائیک اور دستاویزات کی تصدیق کے لیے درخواست دہندہ کے پتے پر جائے گا۔ کامیاب تصدیق پر 50 ہزار روپے کی پہلی قسط ادا کی جائے گی۔

  4. ٹریکر ایپ کا استعمال: دوسری قسط کے لیے درخواست دہندہ کو گرین کریڈٹ ایپ کے ذریعے چھ ماہ میں 6,000 کلومیٹر کا سفر مکمل کرنا ہوگا، جس میں ہر ماہ کم از کم 1,000 کلومیٹر کا سفر لازمی ہے۔ اس ہدف کی تکمیل پر باقی 50 ہزار روپے ادا ہوں گے۔

درخواست دہندگان پنجاب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں بائیک رجسٹر کروا کر اور سرکاری پورٹل پر آن لائن درخواست جمع کروا کر اس پروگرام میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پنجاب ای پی اے سے تصدیق شدہ وینڈر سے بائیک خریدنا لازمی ہے، اور درخواست دہندگان کو موٹر کی قسم اور بیٹری کی تفصیلات کے ساتھ واضح انوائس رکھنی چاہیے۔

الیکٹرک بائیکس کی مقبولیت اور چیلنجز

پاکستان میں موٹر سائیکل کو "عام آدمی کی سواری” سمجھا جاتا ہے، لیکن الیکٹرک بائیکس کی قیمت اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی نے ان کی مقبولیت کو محدود کیا ہے۔ پاکستان موٹر سائیکل اسمبلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین صابر شیخ کے مطابق، ملک میں تقریباً 10 چینی کمپنیاں الیکٹرک سکوٹرز اور بائیکس اسمبل کر رہی ہیں، لیکن ان کی ماہانہ فروخت 50 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ عام 70 سی سی پٹرول بائیک کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب ہے، جبکہ چینی کمپنیوں کی الیکٹرک بائیکس کی قیمت ایک لاکھ 10 ہزار روپے تک ہے۔ تاہم، الیکٹرک بائیک کی بیٹری کی قیمت ہی ایک لاکھ روپے کے قریب ہوتی ہے، جو کہ کم آمدن والے افراد کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔

صابر شیخ نے بتایا کہ پنجاب کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں الیکٹرک سکوٹرز کی فروخت میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ گھروں میں رہنے والے افراد کے لیے چارجنگ اور پارکنگ آسان ہے۔ تاہم، کراچی جیسے شہروں میں، جہاں زیادہ تر لوگ اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں، چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایٹلس ہنڈا جیسی کمپنیاں بیٹری سویپنگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں، جس کے ذریعے صارفین بیٹری کو گھر پر چارج کرنے یا چارج شدہ بیٹری سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کی لاگت دو سے ڈھائی لاکھ روپے تک ہے، جو کہ عام صارفین کی قوت خرید سے باہر ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس پروگرام کے اعلان کے بعد شہریوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ ایک شاندار اقدام ہے۔ الیکٹرک بائیکس سے نہ صرف پیٹرول کی بچت ہوگی بلکہ لاہور کا سموگ بھی کم ہوگا۔” ایک اور صارف نے شکایت کی کہ "چارجنگ اسٹیشنز کی کمی کی وجہ سے الیکٹرک بائیک خریدنا مشکل ہے۔ حکومت کو پہلے انفراسٹرکچر پر توجہ دینی چاہیے۔” کچھ صارفین نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا، لیکن کئی نے اسے "سیاسی اسٹنٹ” کہہ کر تنقید کی اور کہا کہ سبسڈی کے بجائے چارجنگ اسٹیشنز کی تعداد بڑھائی جائے۔

پنجاب حکومت کا گرین کریڈٹ پروگرام اور وفاقی الیکٹرک وہیکل پالیسی ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ایک قابل ستائش اقدام ہیں۔ الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقلی نہ صرف فضائی آلودگی اور سموگ جیسے مسائل سے نمٹنے میں مدد دے گی بلکہ شہریوں کو بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں سے بھی نجات دلائے گی۔ تاہم، اس پروگرام کی کامیابی کئی عوامل پر منحصر ہے۔

سب سے بڑا چیلنج چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں چارجنگ اسٹیشنز کی تعداد انتہائی محدود ہے، اور دیہی علاقوں میں یہ سہولت تقریباً ناپید ہے۔ وفاقی حکومت کا ہر 50 کلومیٹر پر چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ ایک اہم قدم ہے، لیکن اسے عملی شکل دینے میں وقت اور سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ، الیکٹرک بائیکس کی زیادہ قیمت اور بیٹری کی لاگت کم آمدن والے طبقات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ ایک لاکھ روپے کی سبسڈی اس بوجھ کو کچھ حد تک کم کرتی ہے، لیکن بیٹری سویپنگ ٹیکنالوجی جیسے مہنگے حل اب بھی عام صارفین کی پہنچ سے باہر ہیں۔

پنجاب حکومت کا طلبہ کے لیے مفت الیکٹرک بائیکس اور بلاسود قرضوں کا اقدام قابل تحسین ہے، کیونکہ یہ نہ صرف تعلیمی مواقع کو بڑھائے گا بلکہ نوجوانوں کو ماحول دوست طرز زندگی اپنانے کی ترغیب بھی دے گا۔ تاہم، پروگرام کی شفافیت اور اس کے نفاذ میں تیزی لانا ضروری ہے۔ گرین کریڈٹ ایپ اور تصدیقی عمل کو صارف دوست بنانے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں موٹر سائیکل روزمرہ نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہے، الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقلی ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ اگر حکومت چارجنگ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، بیٹری کی قیمتوں کو کم کرنے، اور عوامی شعور بیدار کرنے پر توجہ دے، تو یہ پروگرام نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ معاشی فوائد بھی لا سکتا ہے۔ اس وقت، یہ پروگرام ایک امید افزا آغاز ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس کے موثر نفاذ اور شہریوں کی شرکت پر ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین