ہمیں اپنے خواب کیوں یاد نہیں رہتے؟

نیند کے دوران ہمارا دماغ کئی مراحل سے گزرتا ہے

کراچی: رات کو گہری نیند میں ہم رنگین اور عجیب و غریب خوابوں کی دنیا میں کھو جاتے ہیں، لیکن صبح جاگتے ہی یہ خواب دھندلی یادوں کی طرح غائب ہو جاتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہم اپنے خوابوں کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس کی وجہ ہمارے دماغ کا پیچیدہ نظام اور نیند کے دوران کیمیائی تبدیلیاں ہیں۔ نیند کی ایک خاص حالت، کیمیکلز کی کمی، اور دماغ کی ترجیحات اس راز کے پیچھے چھپے ہیں۔

خواب اور نیند کا رشتہ

نیند کے دوران ہمارا دماغ کئی مراحل سے گزرتا ہے، جن میں سے ایک اہم مرحلہ "ریپڈ آئی موومنٹ” (REM) ہے۔ یہ وہی وقت ہوتا ہے جب ہم سب سے زیادہ واضح اور داستان نما خواب دیکھتے ہیں۔ ریم نیند کے دوران دماغ کی سرگرمی جاگتے ہوئے دماغ سے ملتی جلتی ہوتی ہے، لیکن جسم مکمل طور پر آرام کی حالت میں ہوتا ہے۔ نیوروسائنسدانوں کے مطابق، خواب زیادہ تر ریم مرحلے میں دیکھے جاتے ہیں، جو رات بھر کئی بار آتا ہے، ہر بار 10 سے 30 منٹ تک رہتا ہے۔

تاہم، جب ہم صبح جاگتے ہیں تو یہ خواب اکثر ہماری یادداشت سے غائب ہو جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ دماغ کا میموری پروسیسنگ کا نظام ہے۔ جاگنے کے فوراً بعد، دماغ شارٹ ٹرم میموری سے لانگ ٹرم میموری میں معلومات منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خواب، جو اکثر بے ترتیب اور غیر منطقی ہوتے ہیں، اس منتقلی کے عمل میں "ضائع” ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، دماغ کی یہ صلاحیت کہ وہ معلومات کو فلٹر کرے اور صرف اہم چیزوں کو محفوظ کرے، خوابوں کے بھولنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔

کیمیکلز کی کمی

نیند کے دوران دماغ میں کیمیائی تبدیلیاں بھی خواب بھولنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ سیروٹونن اور نور ایپینیفرین (norepinephrine) جیسے نیورو ٹرانسمیٹرز، جو یادداشت کو مضبوط کرنے اور معلومات کو محفوظ کرنے میں مدد دیتے ہیں، ریم نیند کے دوران اپنی کم ترین سطح پر ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز جاگتے وقت دماغ کو اہم واقعات کو یاد رکھنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن ان کی کمی کی وجہ سے خواب دماغ کے مستقل میموری بینک میں محفوظ نہیں ہو پاتے۔

ماہر نیوروسائنسدان ڈاکٹر رابرٹ اسٹک گولڈ، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں نیند اور میموری پر تحقیق کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ "ریم نیند کے دوران دماغ ایک ایسی حالت میں ہوتا ہے جہاں وہ تخلیقی اور جذباتی پروسیسنگ پر توجہ دیتا ہے، لیکن میموری کنسولیڈیشن کے لیے ضروری کیمیکلز کی کمی کی وجہ سے خواب اکثر بھول جاتے ہیں۔” یہ کیمیائی عدم توازن خوابوں کو ایک عارضی تجربہ بناتا ہے جو جاگتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔

اچانک جاگنا

اگر آپ صبح الارم کی تیز آواز یا کسی اچانک خلل سے جاگتے ہیں، تو دماغ کو خواب کو میموری میں محفوظ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ نیند سے جاگنے کا عمل دماغ کے لیے ایک تیزی سے بدلتا ہوا مرحلہ ہوتا ہے، جہاں وہ ریم سے غیر ریم مراحل یا پھر مکمل ہوش کی حالت میں منتقل ہوتا ہے۔ اس دوران، دماغ کی توجہ فوری طور پر ماحول کو سمجھنے اور روزمرہ کے کاموں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، جس سے خواب کی یادداشت کمزور پڑ جاتی ہے۔

نیند کے ماہر ڈاکٹر ایلن ہابسن کے مطابق، "جب ہم اچانک جاگتے ہیں، تو دماغ کا فوکس خواب کی تفصیلات کو محفوظ کرنے کے بجائے فوری طور پر حقیقت سے جڑنے پر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے خواب کی یاد ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔” اس کے برعکس، اگر کوئی شخص آہستہ آہستہ جاگتا ہے، تو اسے خواب کی کچھ جھلکیاں یاد رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

خواب کیوں غیر اہم سمجھے جاتے ہیں؟

دماغ کا ایک اور دلچسپ رویہ یہ ہے کہ وہ صرف ان معلومات کو اہمیت دیتا ہے جو اسے بقا یا روزمرہ زندگی کے لیے ضروری لگتی ہیں۔ خواب، جو اکثر غیر منطقی، علامتی، یا بے ترتیب ہوتے ہیں، دماغ کے لیے "غیر ضروری” قرار پاتے ہیں۔ نیوروسائنس کے مطابق، دماغ کا ہپوکیمپس، جو میموری پروسیسنگ کا مرکز ہے، دن بھر کے اہم واقعات کو ترجیح دیتا ہے، جیسے کہ کام کے شیڈول، سماجی تعاملات، یا نئی معلومات۔ خوابوں کی عارضی اور غیر منطقی نوعیت کی وجہ سے دماغ انہیں نظرانداز کر دیتا ہے، جس سے وہ لانگ ٹرم میموری میں محفوظ نہیں ہوتے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ خواب دراصل دماغ کے لیے ایک "پریکٹس ایریا” ہوتے ہیں، جہاں وہ جذباتی اور تخلیقی پروسیسنگ کرتا ہے۔ یہ پروسیسنگ دماغ کو تناؤ سے نمٹنے، مسائل حل کرنے، یا نئی آئیڈیاز جنم دینے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دماغ ان خوابوں کی تفصیلات کو یاد رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس موضوع نے صارفین کی توجہ حاصل کی، جہاں لوگوں نے اپنے خواب بھولنے کے تجربات شیئر کیے۔ ایک صارف نے لکھا، "میں ہر رات خواب دیکھتا ہوں، لیکن صبح تک سب کچھ غائب! اب سمجھ آیا کہ دماغ کیوں یہ سب بھول جاتا ہے۔” ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں کہا، "اگر دماغ خوابوں کو غیر اہم سمجھتا ہے، تو پھر میرے امتحان کی تیاری کو کیوں یاد رکھتا ہے؟” کچھ صارفین نے تجویز دی کہ خوابوں کو یاد رکھنے کے لیے جاگتے ہی انہیں لکھ لیا جائے، جبکہ دیگر نے اسے ایک سائنسی راز قرار دیا جو ہر کسی کو متوجہ کرتا ہے۔

خواب بھولنے کا عمل دماغ کی پیچیدہ سائنس اور اس کی ترجیحات کی ایک دلچسپ جھلک پیش کرتا ہے۔ ریم نیند، کیمیکلز کی کمی، اور دماغ کی فلٹرنگ کی صلاحیت اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ ہم اپنے خوابوں کو کیوں نہیں یاد رکھ پاتے۔ یہ سائنسی انکشافات ہمیں نہ صرف دماغ کے کام کرنے کے طریقوں سے روشناس کراتے ہیں بلکہ نیند کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں نیند کی کمی اور تناؤ عام مسائل ہیں، یہ تحقیق ہمیں نیند کے معیار کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اگر ہم اپنی نیند کے پیٹرن کو بہتر بنائیں، جیسے کہ الارم کے بجائے قدرتی طور پر جاگنا یا نیند کے دوران پرسکون ماحول برقرار رکھنا، تو ہمارے خوابوں کو یاد رکھنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خوابوں کو لکھنے یا ان پر غور کرنے کی عادت بنانا تخلیقی صلاحیتوں اور جذباتی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔

تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خوابوں کا بھول جانا دماغ کا ایک فطری عمل ہے، جو ہمیں غیر ضروری معلومات سے آزاد رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ سائنسی طور پر ایک معمہ حل کرتا ہے، لیکن خوابوں کی عارضی اور جادوئی نوعیت انہیں ایک پراسرار تجربہ بناتی ہے جو ہر رات ہمیں ایک نئی دنیا کی سیر کراتی ہے۔ مستقبل میں، اگر نیوروسائنس خوابوں کو محفوظ کرنے کے طریقوں پر مزید تحقیق کرے، تو شاید ہم اپنے رات کے سفر کو زیادہ بہتر طریقے سے یاد رکھ سکیں گے۔ فی الحال، یہ راز ہمیں دماغ کی حیرت انگیز صلاحیتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین