پشاور: شہریوں سے قیمتی موبائل فونز چوری میں ملوث گروہ گرفتار

ایس پی کینٹ ڈویژن اعتزاز عارف کی ہدایت پر ڈی ایس پی پشتخرہ محمد اشفاق خان کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ سربند فواد خان نے اہم کاروائی کی

پشاور (رپورٹ: کاشف جان)  ایس پی کینٹ ڈویژن اعتزاز عارف کی ہدایت پر ڈی ایس پی پشتخرہ محمد اشفاق خان کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ سربند فواد خان نے اہم کاروائی کے دوران شہریوں سے قیمتی موبائل فونز چوری میں ملوث گروہ کا سراغ لگا کر گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمان مختلف علاقوں کے رہائشی ہیں، جوکہ موقع ملتے ہی شہریوں سے قیمتی موبائل فونز چوری میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران موبائل فونز چوری کے وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، جن کے قبضے سے پانچ عدد مسروقہ موبائل فون برآمد کرلئے گئے ہیں، جن سے دوران تفتیش مزید انکشافات کی توقع کی جارہی ہے،

تفصیلات کے مطابق مدعی الماس خان نے تھانہ سربند پولیس کو موبائل فون چوری کی رپورٹ کی تھی، جس پر مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی،

ایس پی کینٹ ڈویژن اعتزاز عارف نے وارداتوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملوث ملزمان کا سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کی خاطر خصوصی ٹیم تشکیل دی،

ڈی ایس پی پشتخرہ سرکل محمد اشفاق خان کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ سربند فواد خان نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کے دوران کامیاب کارروائی کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا کر گرفتار کرلیا، جن کی شناخت اسماعیل ولد مدار خان، سربلند ولد خیالی گل، نور رحمان ولد نور محمد اور حارث ولد سجاد خان سے ہوئی، گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران موبائل فونز چوری کے وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، جن کے قبضے سے پانچ عدد مسروقہ موبائل فون برآمد کرلئے گئے ہے، جن سے دوران تفتیش مزید انکشافات کی توقع کی جارہی ہے،

روزنامہ تحریک کے رپورٹر محمد کاشف جان کا کہنا ہے کہ پشاور کے شہریوں کے لیے حالیہ دنوں میں موبائل چوری کی وارداتیں ایک تشویشناک مسئلہ بنتی جا رہی تھیں۔ ہر روز کسی نہ کسی شہری کو قیمتی موبائل فون سے محروم کر دیا جاتا، اور بیشتر واقعات میں یا تو ملزمان کا سراغ نہ لگایا جا سکتا یا کارروائی اس قدر تاخیر کا شکار ہو جاتی کہ متاثرہ شہری کو انصاف ملنا ممکن نہ رہتا۔ تاہم، تھانہ سربند کی حدود میں ہونے والی حالیہ پیشرفت نے پولیس کی ساکھ کو بہتر بنانے میں ایک مثبت مثال قائم کی ہے۔

ایس ایچ او فواد خان، ڈی ایس پی محمد اشفاق خان اور ایس پی کینٹ ڈویژن اعتزاز عارف کی مشترکہ کوششوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت ہو، ٹیم ورک مضبوط ہو، اور جدید تحقیقاتی طریقہ کار کو اپنایا جائے، تو مجرموں کو قانون کی گرفت میں لانا ممکن ہے۔

جس طرح سے موبائل چوری کے ایک کیس کو بنیاد بنا کر ایک پورے گروہ کا سراغ لگایا گیا اور پانچ قیمتی موبائل فونز برآمد کیے گئے، یہ پولیس کی تیزی، چابک دستی اور جانفشانی کا واضح ثبوت ہے۔ گرفتار کیے گئے ملزمان کا مختلف علاقوں سے تعلق ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ کوئی عام وارداتی گروہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا، جو شہر کے امن و امان کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان کا اعترافِ جرم ظاہر کرتا ہے کہ تھانہ سربند پولیس کی تفتیشی مہارت درست سمت میں جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر ان ملزمان سے مزید تفتیش کی جائے اور ان کے پیچھے موجود کسی ممکنہ بڑی تنظیم یا نیٹ ورک کا سراغ لگایا جائے تو شہر کو مستقبل میں مزید بڑی وارداتوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یہ کارکردگی صرف ایک کامیاب کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ شہری اگر خود کو محفوظ تصور کریں گے تو پولیس اور عوام کے درمیان خلیج کم ہوگی، اور جرائم کے خلاف ایک متحد محاذ بنے گا۔

تاہم، یہ بھی لازم ہے کہ پولیس ایسی کارروائیوں کو محض "ظاہری کامیابی” کے طور پر نہ لے بلکہ ان پر مزید تحقیق، مقدمات کو مضبوط قانونی بنیادوں پر آگے بڑھانے اور عدالتوں میں مؤثر پیروی کو بھی یقینی بنائے۔ صرف گرفتاری کافی نہیں، مجرموں کو سزائیں دلوانا اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنا اصل کامیابی ہوگی۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ ایس ایچ او فواد خان کی اس کارروائی نے ثابت کیا ہے کہ پشاور پولیس میں صلاحیت بھی ہے اور نیت بھی، بس ضرورت ہے ایسے اقدامات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین