بھارتی فوج میں خودکشیوں کی شرح میں تشویشناک اضافہ ،مودی سرکار خاموش

چھتیس گڑھ آرمڈ فورس کے افسر دینیش سنگھ چندیل نے اپنی سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی

نئی دہلی: بھارتی سیکیورٹی فورسز میں ذہنی تناؤ کے باعث خودکشیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو وزیراعظم نریندر مودی کی جنگی پالیسیوں اور فوجی حکمت عملیوں کے تباہ کن اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ حالیہ واقعات نے اس سنگین مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوجی اہلکار شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہیں۔

چھتیس گڑھ میں افسوسناک واقعہ

دی ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، چھتیس گڑھ کے ضلع کونڈاگاؤں کے بایانار کیمپ میں اتوار کی رات ایک دلخراش سانحہ پیش آیا۔ چھتیس گڑھ آرمڈ فورس کے افسر دینیش سنگھ چندیل نے اپنی سرکاری رائفل سے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے بیان کے مطابق، چندیل نے تنہائی میں اپنے کمرے میں یہ قدم اٹھایا۔ گولی کی آواز سن کر ساتھی اہلکار فوراً موقع پر پہنچے، لیکن وہ چندیل کی جان نہ بچا سکے۔ پولیس نے اس واقعے کی مکمل چھان بین شروع کر دی ہے، اور ابتدائی تحقیقات خودکشی کی تصدیق کرتی ہیں۔

خودکشیوں کی شرح میں ہولناک اضافہ

رپورٹ کے مطابق، 2019 سے جون 2025 تک چھتیس گڑھ میں 177 سیکیورٹی اہلکار اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر چکے ہیں۔ یہ اعدادوشمار بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز میں ذہنی تناؤ کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل غیر معمولی حالات میں کام، طویل تعیناتیوں، اور ناقص انتظامی پالیسیوں نے فوجیوں کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف چھتیس گڑھ بلکہ دیگر شورش زدہ علاقوں میں بھی نمایاں ہے، جہاں فوجی اہلکار نفسیاتی طور پر ٹوٹ رہے ہیں۔

مودی کی جنگی حکمت عملیوں کا کردار

نریندر مودی کی سربراہی میں بنائی گئی فوجی پالیسیاں اور جنگی حکمت عملیاں بھارتی فوج کے لیے ایک بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ فوجی اہلکاروں کو نہ صرف شورش زدہ علاقوں میں خطرناک حالات کا سامنا ہے، بلکہ ان پر سیاسی دباؤ اور غیر حقیقت پسندانہ اہداف بھی مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال فوجیوں کی ذہنی صحت پر کاری ضرب لگا رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ انتہائی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مودی کی انتہاپسند پالیسیوں نے فوج کو ایک ایسی مشین میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں سپاہیوں کی فلاح و بہبود کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر تنقید اور مودی کی ساکھ

مودی کی جنگی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ فوجیوں کی ذہنی صحت کے مسائل کو نظرانداز کرنے اور انہیں سیاسی ایجنڈوں کے لیے استعمال کرنے کے الزامات نے مودی حکومت کی ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ فوج کی فلاح کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھانا نہ صرف فوجیوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال نے مودی کی قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا ان کی ترجیحات واقعی قومی مفادات کے تحفظ کی طرف ہیں؟

ایک گہرے سماجی و نفسیاتی بحران کی عکاسی

بھارتی فوج میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ ایک گہرے سماجی اور نفسیاتی بحران کی علامت ہے۔ مودی حکومت کی جنگی جنونیت اور انتہاپسند پالیسیوں نے فوجی اہلکاروں کو ایک ایسی صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جہاں وہ نہ صرف بیرونی خطرات سے لڑ رہے ہیں بلکہ اندرونی طور پر شدید ذہنی کرب سے بھی دوچار ہیں۔ چھتیس گڑھ جیسے علاقوں میں طویل تعیناتیوں، ناکافی وسائل، اور ذہنی صحت کے لیے سہولیات کی کمی نے فوجیوں کو تنہائی اور مایوسی کے گھیرے میں دھکیل دیا ہے۔
یہ صورتحال صرف فوجی اہلکاروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا اثر پوری فوج کے مورال اور کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے فوجیوں کی ذہنی فلاح کے لیے کوئی جامع منصوبہ بندی نہ ہونا ایک سنگین غفلت ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ فوج میں ذہنی صحت کے پروگرامز، کاؤنسلنگ سروسز، اور مناسب آرام کے اوقات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اگر حکومت نے اس بحران کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو یہ رجحان نہ صرف فوج بلکہ پورے بھارتی معاشرے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ مودی سرکار اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور فوجیوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو ترجیح دے، ورنہ یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، جس کے نتائج بھارت کے لیے ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین