ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ
خاندان، جو انسانی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے، صدیوں سے ہماری زندگیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس کا ڈھانچہ نہ صرف ہمارے سماجی تعلقات کو جکڑتا ہے بلکہ ہماری ثقافت، رسم و رواج اور شناخت کا بھی ضامن ہے۔ مگر آج کا زمانہ، جس میں جدیدیت نے ہر زاویے کو تبدیل کر دیا ہے، ہمارے خاندانی نظام کو بھی بے رحم تبدیلیوں کے سامنے لا کھڑا کر دیا ہے۔ وہ جو مضبوط بنیادیں تھیں، جو نسل در نسل چلتی آئیں، اب کہیں کہیں کمزور پڑتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ بکھرتا ہوا ڈھانچہ ہمیں نہ صرف ماضی کی قدروں سے دور کر رہا ہے بلکہ ہمارے مستقبل کی راہیں بھی دھندلا کر رہا ہے۔
پرانے وقتوں میں خاندان کی اہمیت ایسی تھی کہ ہر فرد کی شناخت اسی خاندان سے جُڑی ہوتی تھی۔ والدین، دادا دادی، چچا، پھوپھی، بھتیجے، بھانجے اور سارے رشتہ دار ایک دوسرے کے ساتھ ربط رکھتے تھے، جہاں محبت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی تھی۔ ہر کسی کی ذمہ داری تھی کہ وہ خاندان کے وقار کو بلند رکھے، اور ہر فرد کے فیصلے اسی اجتماعی سوچ کے مطابق ہوتے۔ آج کی دنیا میں جہاں فردیت نے جگہ بنائی ہے، وہاں یہ اجتماعی نظام کئی مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل نے اپنی راہیں الگ کی ہیں، اور اپنی شناخت کے لیے خاندانی رسم و رواج کو چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے.خاندانی نظام کی کمزوری کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تیز رفتار زندگی اور جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔ آج ہم اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ کم وقت گزارتے ہیں، اور ہر فرد اپنی دنیا میں مصروف ہو چکا ہے۔ بات چیت اور میل جول کی کمی نے خاندانی رشتوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، تعلیم، روزگار اور شہری زندگی کی پیچیدگیاں بھی خاندان کی ہم آہنگی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ لوگ نوکریوں کی تلاش میں دور دراز شہروں یا ملکوں کی طرف جا رہے ہیں، جس سے خاندانی روابط کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بکھرتا ہوا خاندانی ڈھانچہ ہمارے سماجی نظام پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ جہاں پہلے خاندان ہی افراد کی ہر مشکل کا حل ہوتا تھا، آج وہاں اجنبیت اور تنہائی کے احساسات بڑھ گئے ہیں۔ بزرگوں کی عزت و احترام میں کمی آئی ہے اور نوجوان نسل میں ذاتی آزادی اور خودمختاری کی بڑھتی ہوئی خواہش نے خاندانی حدود کو کمزور کیا ہے۔ ساتھ ہی، خاندانی جھگڑے، طلاق کی شرح میں اضافہ اور معاشرتی بے چینی بھی بڑھ رہی ہے۔ یہ سب چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ خاندانی نظام کے بکھرنے سے صرف ذاتی رشتے متاثر نہیں ہو رہے بلکہ پورا معاشرہ ایک خلا کا شکار ہو رہا ہے۔خاندانی نظام کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی قدروں کو دوبارہ زندہ کریں۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنی ذاتی خواہشات کو بعض اوقات پیچھے رکھ کر خاندانی نظام کی حفاظت کرے۔ والدین اور بزرگوں کا احترام، نوجوانوں کی سمجھداری اور مشترکہ مسائل کا حل مل کر نکالنا ہی ہماری روایات کو بچا سکتا ہے۔ تعلیمی ادارے، میڈیا اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی اقدار کو فروغ دیں اور اس نظام کی اہمیت کو اجاگر کریں تاکہ یہ بکھرتا ہوا ڈھانچہ دوبارہ مضبوط ہو سکے۔
آج کا جدید دور ہمیں آزادی اور ترقی کے نئے راستے دکھا رہا ہے، لیکن ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ یہ آزادی تبھی مکمل ہو سکتی ہے جب ہمارے روابط مضبوط ہوں، ہمارے خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں اور ہمارا خاندانی نظام ایک مضبوط اور متوازن ڈھانچہ بنے۔ ورنہ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھیں گے جہاں لوگ الگ تھلگ ہوں گے، اور رشتے صرف کاغذوں تک محدود رہ جائیں گے۔ خاندانی نظام کا بکھرتا ہوا ڈھانچہ دراصل ہماری زندگیوں میں بےچینی، ناامیدی اور الگ تھلگ پن کا گہرا سبب بن رہا ہے، اور اس کا سد باب کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔اگر ہم چاہیں تو اپنے خاندانی نظام کو پھر سے مضبوط کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے ہمیں محبت، برداشت اور قربانی کا جذبہ اپنانا ہوگا۔ کیونکہ خاندان وہ سنگ بنیاد ہے جس پر ہر فرد کی شخصیت، عزت اور خوشی قائم ہوتی ہے۔ خاندانی نظام کا بکھرتا ہوا ڈھانچہ اگر بدلے گا تو پورا معاشرہ روشن ہو گا، اور ہماری آنے والی نسلیں خوشحال اور مضبوط ہوں گی۔ اسی امید کے ساتھ ہمیں آج کی اس تبدیلی کے دور میں خاندانی بندھنوں کو بچانا ہوگا، تاکہ ہم ایک مضبوط اور یکجہت قوم بن سکیں۔





















