عالمی اور ملکی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

مقامی سطح پر 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 1,300 روپے کا اضافہ ہوا

کراچی: عالمی اور مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں نے ایک روز کے مختصر وقفے کے بعد دوبارہ تیزی کا رجحان دکھایا ہے۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں نے بھی اوپر کی جانب سفر شروع کر دیا ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہے بلکہ مقامی صارفین اور زیورات کے خریداروں کے لیے بھی اہم خبر ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی معاشی حالات اور مارکیٹ کی طلب و رسد سے منسلک ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں کا جائزہ

لندن بلین مارکیٹ، جو عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں کا معیار طے کرتی ہے، میں فی اونس سونے کی قیمت میں 13 ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں یہ 3,366 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی۔ یہ اضافہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جیو پولیٹیکل تناؤ، اور سرمایہ کاروں کی جانب سے سونے کو ایک محفوظ اثاثے کے طور پر ترجیح دینے کی وجہ سے ہوا۔ سونے کی قیمتوں میں یہ تیزی عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں سرمایہ کار اپنی دولت کو کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی کے خطرات سے بچانے کے لیے سونے کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔

مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی مارکیٹ کے اثرات نے پاکستانی صرافہ مارکیٹوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق، مقامی سطح پر 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 1,300 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 3 لاکھ 59 ہزار 300 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح، 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت میں 1,114 روپے کا اضافہ دیکھا گیا، جس سے اس کی قیمت 3 لاکھ 8 ہزار 41 روپے ہو گئی۔ یہ قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب ہے، جو پاکستانی صارفین کے لیے زیورات کی خریداری کو ایک مہنگا سودا بنا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے ساتھ ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور مقامی طلب میں اضافہ ہے۔ شادیوں کے سیزن اور تہواروں کے قریب آنے کی وجہ سے زیورات کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے، جو قیمتوں کو مزید بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی تیزی

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 39 روپے بڑھ کر 4,010 روپے تک جا پہنچی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت میں 33 روپے کا اضافہ ہوا، جس سے اس کی قیمت 3,437 روپے ہو گئی۔ چاندی، جو سونے کے مقابلے میں کم مہنگی ہوتی ہے، زیورات اور صنعتی استعمال کے لیے مقبول ہے۔ اس کی قیمت میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی مانگ اور دھاتوں کی قیمتوں میں مجموعی تیزی کی عکاسی کرتا ہے۔

مارکیٹ کے رجحانات اور صارفین پر اثرات

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی صارفین کے لیے ایک اہم خبر ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو شادیوں، تہواروں، یا سرمایہ کاری کے لیے زیورات خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری اور ثقافتی اہمیت کا حامل اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام صارفین کے لیے سونے کی خریداری کو مشکل بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آنے والے ہفتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے، جو مقامی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہوگا۔

چاندی کی قیمتوں میں اضافہ اگرچہ سونے کے مقابلے میں کم ہے، لیکن اس نے بھی زیورات کی دکانوں اور سرمایہ کاری کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ چاندی کی نسبتاً کم قیمت کی وجہ سے یہ متوسط طبقے کے لیے ایک مقبول انتخاب ہے، لیکن حالیہ اضافے نے اس کی دستیابی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی خبر نے صارفین کی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، "سونے کی قیمت اب ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ شادی کے زیورات خریدنا اب عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "چاندی بھی اب مہنگی ہوتی جا رہی ہے، اب تو سرمایہ کاری کے لیے بھی سوچنا پڑے گا۔” کچھ صارفین نے قیمتوں میں اضافے کو عالمی معاشی حالات اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی سے جوڑا، جبکہ دیگر نے اسے سرمایہ کاروں کے لیے ایک موقع قرار دیا۔

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی اور مقامی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ عالمی سطح پر، سونا ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اور معاشی غیر یقینی، جیسے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں تبدیلی، اور مہنگائی کے خدشات، اس کی مانگ کو بڑھاتے ہیں۔ لندن بلین مارکیٹ میں 3,366 ڈالر فی اونس کی سطح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار روایتی کرنسیوں کے مقابلے میں سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں، سونے کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ کے اثرات سے منسلک ہے۔ پاکستانی صارفین کے لیے یہ اضافہ ایک چیلنج ہے، کیونکہ سونا نہ صرف زیورات کے طور پر بلکہ سرمایہ کاری کے طور پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ چاندی کی قیمتوں میں اضافہ، اگرچہ کم شدت کا ہے، زیورات کے شعبے اور صنعتی استعمال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مستقبل میں، اگر عالمی معاشی حالات غیر مستحکم رہتے ہیں، تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، پاکستانی صارفین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خریداری سے قبل مارکیٹ کے رجحانات کا بغور جائزہ لیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک موقع ہو سکتا ہے، لیکن عام صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ مالی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ کرنسی کی قدر کو مستحکم کرنے اور صارفین کے لیے سونے کی خریداری کو قابل رسائی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔ یہ اضافہ ایک طرف سرمایہ کاری کے مواقع کو نمایاں کرتا ہے، تو دوسری طرف پاکستانی معیشت کے لیے چیلنجز کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین