لاہور: پاکستانی شوبز انڈسٹری ایک بار پھر تنازعات کی زد میں ہے، جب اداکارہ اور ماڈل حفصہ بٹ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے سے پردہ اٹھایا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں حفصہ نے انکشاف کیا کہ انہیں کاسٹنگ کاؤچ کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ایک پروڈیوسر نے مرکزی کردار کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کیے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کے لیے ایک صدمے کا باعث بنا بلکہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں گہرے جڑیں رکھنے والی ہراسانی کی ثقافت کو ایک بار پھر منظر عام پر لایا۔
ایک ناخوشگوار تجربہ
حفصہ بٹ، جو اپنی بے باک طبیعت اور ڈراموں میں شاندار اداکاری کے لیے جانی جاتی ہیں، نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں پیش آنے والے ایک تلخ تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ شوبز انڈسٹری میں نئی تھیں، ایک پروڈیوسر نے ان سے رات گئے رابطہ کیا اور ایک وائس نوٹ کے ذریعے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی کسی ڈرامے یا فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جب حفصہ نے کہا کہ ان کا تجربہ محدود ہے اور انہوں نے ابھی تک کوئی لیڈ رول نہیں کیا، تو پروڈیوسر نے ایک شرمناک تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایک مرکزی کردار دینے کا فیصلہ کریں، تو اس کے بدلے میں انہیں "کچھ فائدہ” بھی ملنا چاہیے۔
حفصہ نے جب اس "فائدے” کی وضاحت مانگی، تو پروڈیوسر نے کھل کر ایک غیر مناسب اور غیر اخلاقی پیغام بھیجا، جس نے اداکارہ کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے، حفصہ نے اس پروڈیوسر کو واٹس ایپ پر بلاک کر دیا تاکہ مزید رابطہ نہ ہو سکے۔ تاہم، اگلے روز ایک مختلف نمبر سے پروڈیوسر کی کال موصول ہوئی، جس میں انہوں نے عجیب و غریب وضاحت پیش کی کہ وہ پیغام دراصل ان کے لیے نہیں تھا۔ اس عذر نے حفصہ کے غصے اور مایوسی کو مزید بڑھا دیا، کیونکہ یہ ایک واضح کوشش تھی کہ پروڈیوسر اپنی غلطی کو چھپائیں۔
انڈسٹری میں ایک "معمول” کی بات؟
اس واقعے نے حفصہ کو شدید دھچکا پہنچایا، اور انہوں نے اسے اپنی ایک ساتھی اداکارہ کے ساتھ شیئر کیا۔ حیران کن طور پر، ان کی ساتھی نے اسے ایک "معمولی” بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری میں اس قسم کے واقعات عام ہیں۔ اس جملے نے حفصہ کے لیے انڈسٹری کی تلخ حقیقت کو مزید واضح کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تجربہ ان کے لیے انتہائی خوفناک اور جذباتی طور پر پریشان کن تھا، کیونکہ وہ ایک ایسی انڈسٹری میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہی تھیں جہاں ٹیلنٹ سے زیادہ دیگر "شرائط” کو اہمیت دی جاتی ہے۔
کئی سال بعد، حفصہ کی اس پروڈیوسر سے دوبارہ ملاقات ہوئی، جو ایک عام سی ملاقات رہی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس واقعے نے ان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا، اور وہ اسے کبھی فراموش نہیں کر سکیں۔ حفصہ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنی کہانی شیئر کرنے سے نہیں ڈرتیں، کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ انڈسٹری کی اس گندی حقیقت کو بے نقاب کیا جائے تاکہ نئے آنے والوں کو تحفظ مل سکے۔
سوشل میڈیا پر ہنگامہ
حفصہ کے اس انکشاف نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا۔ ایکس پر صارفین نے اس موضوع پر گرم جوشی سے بحث کی، جہاں کچھ نے ان کی ہمت کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے ان کے ارادوں پر سوالات اٹھائے۔ ایک صارف نے لکھا، "حفصہ بٹ نے شوبز کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کر کے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ہمیں ایسی ہمت کی ضرورت ہے۔” دوسری طرف، کچھ صارفین نے اسے ایک پبلسٹی سٹنٹ قرار دیا، اور لکھا کہ "یہ سب تو ہر انڈسٹری میں ہوتا ہے، اسے اتنا بڑھاوا دینے کی کیا ضرورت ہے؟” ان متضاد ردعمل نے پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ہراسانی کے ایشو پر گہری تقسیم کو اجاگر کیا۔
حفصہ کے ساتھ ساتھ دیگر اداکاراؤں، جیسے کہ ژالے سرحدی اور مہر بانو، نے بھی حال ہی میں اسی طرح کے تجربات شیئر کیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کاسٹنگ کاؤچ پاکستانی شوبز میں ایک گہرا اور پھیلا ہوا مسئلہ ہے۔ ژالے سرحدی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہیں بھی کیریئر کے آغاز میں ایک ڈائریکٹر نے غیر مناسب تجویز دی تھی، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیا۔ ان واقعات نے انڈسٹری میں طاقت کے غلط استعمال اور خواتین کے استحصال کے بارے میں ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری
پاکستانی شوبز انڈسٹری، جو اپنی چمک دمک اور دلفریب کہانیوں کے لیے جانی جاتی ہے، کے اندر ایک تاریک پہلو بھی موجود ہے۔ کاسٹنگ کاؤچ، جسے انگریزی میں "casting couch” کہا جاتا ہے، ایک ایسی اصطلاح ہے جو انڈسٹری میں ملازمت یا کردار کے بدلے جنسی مطالبات کو بیان کرتی ہے۔ یہ صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ مرد اداکار بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ تاہم، پاکستانی معاشرے کی قدامت پسند فطرت کی وجہ سے اس موضوع پر کھل کر بات کرنا مشکل رہتا ہے، اور اکثر متاثرین خاموش رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
حفصہ بٹ کے انکشاف نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں نئے آنے والوں، خاص طور پر خواتین، کو غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں طاقتور شخصیات اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہیں، اور نئے ٹیلنٹ کو یا تو ایسی شرائط ماننی پڑتی ہیں یا پھر انہیں مسترد کر دیا جاتا ہے۔
حفصہ بٹ کا یہ انکشاف پاکستانی شوبز انڈسٹری کے ایک گہرے زخم کو کھولتا ہے۔ کاسٹنگ کاؤچ کا مسئلہ نہ صرف پاکستانی انڈسٹری تک محدود ہے بلکہ عالمی سطح پر ہالی ووڈ، بالی ووڈ، اور دیگر تفریحی صنعتوں میں بھی موجود ہے۔ تاہم، پاکستان میں اسے ایک اضافی چیلنج کا سامنا ہے، کیونکہ معاشرتی دباؤ اور بدنامی کے خوف کی وجہ سے متاثرین اکثر اپنی آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حفصہ کی ہمت قابل تحسین ہے، کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنا تجربہ شیئر کیا بلکہ اسے عوامی بحث کا حصہ بنایا، جو انڈسٹری میں اصلاحات کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، جہاں شوبز انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس قسم کے واقعات نئے ٹیلنٹ کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہ نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ ترقی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی جذباتی اور ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ حفصہ کے ساتھی کی طرف سے اسے "معمول کی بات” کہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈسٹری میں اس رویے کو کس حد تک قبول کر لیا گیا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے چند فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، انڈسٹری کو ایک واضح ضابطہ اخلاق اپنانا چاہیے، جس میں ہراسانی کے خلاف سخت پالیسیاں شامل ہوں۔ دوسرا، متاثرین کے لیے ایک محفوظ رپورٹنگ میکانزم بنانا ضروری ہے، جہاں وہ بغیر کسی خوف کے اپنی شکایات درج کر سکیں۔ تیسرا، پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز، اور دیگر طاقتور شخصیات کو جوابدہ بنانے کے لیے قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، میڈیا اور سوشل میڈیا کو اس بحث کو ذمہ داری سے آگے بڑھانا چاہیے تاکہ متاثرین کی حمایت کی جائے، نہ کہ ان کی کردار کشی کی جائے۔
حفصہ بٹ اور دیگر اداکاراؤں کی آواز پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ معاشرہ اور انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز اسے سنجیدگی سے لیں۔ یہ وقت ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری اپنی چمک دمک کے پیچھے چھپے اس تاریک رخ کو تسلیم کرے اور اسے ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا، تو نہ صرف ٹیلنٹ ضائع ہوگا بلکہ انڈسٹری کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔





















