مصنوعی مٹھاس کینسر کے علاج میں رکاوٹ بن سکتی ہے، تحقیق

آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے درمیان ایک گہرا تعلق موجود ہے

کراچی: مصنوعی مٹھاس، جو عام طور پر مشروبات اور کھانوں میں چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، اب سائنسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا باعث بن رہی ہے۔ حالیہ مطالعات سے پتا چلا ہے کہ بعض مصنوعی مٹھاس، خاص طور پر سکرالوز (Sucralose)، کینسر کے علاج کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ یہ مٹھاس نہ صرف مدافعتی نظام کی کارکردگی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ آنتوں کے جراثیمی توازن کو بھی بگاڑ سکتی ہیں، جو کینسر کے علاج کی تاثیر کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ یہ رپورٹ اس اہم سائنسی دریافت کی تفصیلات، اس کے صحت پر اثرات، اور مریضوں کے لیے رہنما اصول پیش کرتی ہے۔

مصنوعی مٹھاس اور کینسر کے علاج پر اثرات

سکرالوز، جو عام طور پر مشروبات، ڈیزرٹس، اور شوگر فری پراڈکٹس میں استعمال ہوتی ہے، حالیہ سائنسی تحقیق کا مرکز بنی ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا کہ سکرالوز کی زیادہ مقدار مدافعتی نظام کے اہم جزو، ٹی سیلز (T-cells)، کی فعالیت کو کم کر سکتی ہے۔ ٹی سیلز کینسر کے خلیوں سے لڑنے اور امیونوتھراپی کے دوران مدافعتی ردعمل کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب یہ سیلز کمزور ہوتے ہیں، تو امیونوتھراپی کی تاثیر خطرے میں پڑ جاتی ہے، جس سے کینسر کے مریضوں کے علاج کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔

امیونوتھراپی ایک جدید علاج ہے جو کینسر کے خلاف جسم کے قدرتی مدافعتی نظام کو متحرک کرتا ہے۔ یہ علاج خاص طور پر پھیپھڑوں، جلد، اور خون کے کینسر کے مریضوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم، سکرالوز جیسے مصنوعی مٹھاس کے استعمال سے اس علاج کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ مدافعتی خلیوں کی کارکردگی کو دباتا ہے۔ سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو، جو امیونوتھراپی پر ہیں، مصنوعی مٹھاس سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔

آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کا تعلق

آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے درمیان ایک گہرا تعلق موجود ہے، جو کینسر کے علاج کے نتائج پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ آنتوں میں موجود جراثیمی ماحول (gut microbiome) جسم کے مدافعتی ردعمل کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ جراثیم نہ صرف خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ کینسر کی دواؤں کی تاثیر کو بھی بڑھاتے ہیں۔ تاہم، مصنوعی مٹھاس جیسے سکرالوز اس جراثیمی توازن کو خراب کر سکتی ہیں، جس سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا کی تعداد کم ہوتی ہے اور نقصان دہ بیکٹیریا کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، سکرالوز کا زیادہ استعمال آنتوں کے مائکرو بایوم کو تبدیل کر دیتا ہے، جو کینسر کی دواؤں کے جذب اور تاثیر کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف امیونوتھراپی بلکہ کیموتھراپی اور دیگر علاجوں کی کارکردگی کو بھی کم کر سکتی ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آنتوں کی صحت کو برقرار رکھنا کینسر کے مریضوں کے لیے انتہائی ضروری ہے، اور مصنوعی مٹھاس اس صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

تمام مصنوعی مٹھاس ایک جیسی نہیں

اگرچہ سکرالوز پر تحقیق نے تشویشناک نتائج دکھائے ہیں، لیکن ماہرین نے واضح کیا کہ تمام مصنوعی مٹھاس ایک جیسی نہیں ہیں۔ ایسی دیگر مٹھاس، جیسے کہ ایسیسلفیم پوٹاشیم (Acesulfame-K) یا ایسپارٹیم (Aspartame)، کے اثرات مختلف ہو سکتے ہیں اور ان پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، مریض کی مجموعی صحت، کینسر کی قسم، علاج کا طریقہ، اور خوراک کے دیگر اجزا بھی اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ مصنوعی مٹھاس کا استعمال کس حد تک نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو اپنے ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ ان کی خوراک کو ان کے علاج کے مطابق ترتیب دیا جا سکے۔ خاص طور پر امیونوتھراپی کے مریضوں کے لیے، مصنوعی مٹھاس سے پرہیز ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے جو ان کے علاج کے نتائج کو بہتر بنا سکتا ہے۔

مریضوں کے لیے رہنما اصول

سائنسدانوں نے کینسر کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی خوراک سے مصنوعی مٹھاس کو مکمل طور پر ختم کریں یا کم سے کم کریں، خاص طور پر اگر وہ امیونوتھراپی پر ہیں۔ اس کے بجائے، قدرتی متبادل جیسے شہد، میپل سیرپ، یا پھلوں سے حاصل ہونے والی مٹھاس کو ترجیح دی جانی چاہیے، بشرطیکہ وہ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہوں۔ اس کے علاوہ، آنتوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے پروبائیوٹک اور پری بائیوٹک غذائیں، جیسے دہی، کیلے، اور سبزیاں، کھانے کی تجویز دی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس تحقیق نے ایکس پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "مصنوعی مٹھاس تو ویسے بھی صحت کے لیے اچھی نہیں، لیکن یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ یہ کینسر کے علاج کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "کینسر کے مریضوں کے لیے یہ ایک اہم وارننگ ہے، لیکن کیا ہر قسم کی مٹھاس سے پرہیز کرنا ممکن ہے؟” کچھ صارفین نے اسے ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے کینسر کے مریضوں کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر دیکھا۔

یہ تحقیق کینسر کے علاج اور روزمرہ کی خوراک کے درمیان ایک اہم تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔ سکرالوز جیسے مصنوعی مٹھاس کا کینسر کے علاج، خاص طور پر امیونوتھراپی، پر منفی اثر ایک ایسی حقیقت ہے جو مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے ایک نئی سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔ آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے درمیان گہرا تعلق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہماری خوراک ہمارے علاج کے نتائج پر کتنا اثر انداز ہوتی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں، جہاں مصنوعی مٹھاس والے مشروبات اور پراڈکٹس جیسے ڈائیٹ سوڈا، شوگر فری مٹھائیاں، اور پروسیسڈ غذائیں عام ہیں، یہ تحقیق ایک اہم پیغام دیتی ہے۔ پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اور امیونوتھراپی جیسے جدید علاج ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ اس لیے، مریضوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک پر خصوصی توجہ دیں اور ڈاکٹروں کے مشورے سے اپنی غذا کو ترتیب دیں۔

تاہم، اس تحقیق کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ سب سے پہلے، یہ صرف سکرالوز پر مرکوز ہے، اور دیگر مٹھاس کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ دوسرا، ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایک عمومی ہدایت سب کے لیے موزوں نہیں ہو سکتی۔ تیسرا، مصنوعی مٹھاس سے مکمل پرہیز پاکستانی معاشرے میں مشکل ہو سکتا ہے، جہاں ڈائیٹ پراڈکٹس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

اس کے باوجود، یہ تحقیق کینسر کے مریضوں، ڈاکٹروں، اور غذائی ماہرین کے لیے ایک اہم رہنما ہے۔ اگر پاکستانی ہسپتال اور کینسر سینٹرز اس تحقیق کو سنجیدگی سے لیں اور مریضوں کے لیے غذائی ہدایات جاری کریں، تو یہ علاج کے نتائج کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں، اس قسم کی تحقیق کو وسعت دینے اور مریضوں کے لیے عملی حل پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کینسر کے علاج کو زیادہ موثر بنایا جا سکے۔ یہ تحقیق ہمیں ایک بار پھر یاد دلاتی ہے کہ صحت مند خوراک نہ صرف ہماری روزمرہ کی زندگی بلکہ ہمارے علاج کے لیے بھی ایک اہم ستون ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین