سوات( رپورٹ: محمد کاشف جان)پاک فوج نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، جذبہ ایثار اور عوامی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سوات کے علاقے بابوزئی میں زمرد کی کان میں پھنسے چار مزدوروں کو کامیابی کے ساتھ بحفاظت نکال لیا۔
کان بیٹھنے کا واقعہ
تفصیلات کے مطابق، سوات کے علاقے بابوزئی میں گزشتہ رات زمرد کی ایک کان اچانک بیٹھ گئی، جس کے باعث وہاں کام کرنے والے چار مزدور ملبے تلے دب کر کان کے اندر پھنس گئے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی گئی، جس پر پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر حرکت میں آئیں اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔
زمینی تودہ اور مزدوروں کا پھنس جانا
حادثہ رات گئے پیش آیا جب مزدور کان کے اندر اپنے معمول کے مطابق کام کر رہے تھے۔ اچانک زمینی تودہ گرنے سے کان کی چھت کا ایک بڑا حصہ دھماکے سے منہدم ہو گیا اور مزدوروں کے پاس نکلنے کا کوئی راستہ نہ بچا۔ مقامی افراد نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جس پر پاک فوج نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ایکشن لیا۔
چیلنجنگ ریسکیو آپریشن
ریسکیو آپریشن ایک نہایت چیلنجنگ صورتحال میں کیا گیا۔ علاقے کی دشوار گزار زمین، کان کی غیر محفوظ ساخت اور مسلسل خطرہ موجود ہونے کے باوجود پاک فوج کے جوانوں نے نہ صرف بہادری کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی مہارت، نظم و ضبط اور جدید آلات کے استعمال سے ریسکیو کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔

تکنیکی مہارت اور مربوط حکمت عملی
پاک فوج کے ماہر انجینئرز، میڈیکل ٹیم، اور امدادی کارکنوں نے مربوط حکمت عملی کے تحت کان میں داخل ہونے کے لیے پہلے ملبے کو ہٹانے کا کام شروع کیا۔ جدید مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹایا گیا اور ایک محفوظ راستہ نکالا گیا جس کے ذریعے مزدوروں تک رسائی ممکن بنائی گئی۔ آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا، مگر بالآخر تمام مزدوروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
مزدوروں کا ردِعمل
ریسکیو کئے گئے مزدوروں میں شامل عبدالرشید، سمیع اللہ، نادر خان اور حبیب الرحمن نے باہر آتے ہی پاک فوج کے اہلکاروں کو گلے لگا لیا اور آبدیدہ ہو کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مایوسی کی کیفیت میں تھے اور انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ باہر آ سکیں گے، لیکن پاک فوج کی آمد نے ان میں نئی امید پیدا کی۔

عوام کا جوش و خروش
علاقے کے عوام نے پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی کو سراہتے ہوئے ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ اور ’’پاکستان پائندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ کئی متاثرہ خاندانوں کے افراد نے ریسکیو آپریشن کے دوران پاک فوج کے اہلکاروں کو دعائیں دیں اور ان کی جرات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ضلعی انتظامیہ کی رائے
سوات کے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ قدرتی آفات یا حادثات کی صورت میں عوام کی امیدوں کا واحد مرکز پاک فوج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک فوج کی موجودگی نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو تسلی دی بلکہ پورے علاقے میں امن و تحفظ کا احساس بھی پیدا کیا۔
طبی امداد اور مزدوروں کی حالت
ریسکیو آپریشن کے دوران نکالے گئے تمام مزدوروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی اور بعدازاں مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق تمام مزدور ذہنی دباؤ کا شکار تھے لیکن جسمانی طور پر محفوظ رہے۔
عوامی اعتماد کا اظہار
اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ پاک فوج نہ صرف دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے بلکہ قدرتی آفات، حادثات اور ہر آزمائش کے وقت قوم کا سہارا بھی ہے۔ سوات جیسے دشوار گزار علاقے میں فوری کارروائی، تکنیکی مہارت، اور انسانی ہمدردی کے جذبے نے اس آپریشن کو ایک مثالی مثال بنا دیا ہے۔
مطالبہ برائے حفاظتی اقدامات
علاقہ مکینوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور صحافی برادری نے بھی پاک فوج کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات میں فوج کی شمولیت سے عوام کو اعتماد، تحفظ اور اطمینان میسر آتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے کانوں کے معائنے اور حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔





















