لاہور (تحریک سپیشل) منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے آسٹریلیا کینبرا میں ’’اسلام ،مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین المذاہب تعلقات کا مطلب مکالمہ بازی ہر گز نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے دل اور معاشرے میں عزت و احترام کے ساتھ جگہ بنانا ہے اور یہی اسلام کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان تمام الہامی کتابوں کو برحق مانتے ہیں اور انبیاء پر ایمان لاتے ہیں۔ حضور نبی اکرمؐ کو اللہ رب العزت نے رحمۃ اللعالمین کے مقام کے ساتھ مبعوث فرمایا، جو ہستی ہر ایک کے لئے باعث رحمت ہو اُس کی تعلیمات کسی کے لئے تکلیف دہ کیسے ہو سکتی ہیں، انہوں نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام ؐ نے بین المذاہب مکالمہ کی بنیادیں رکھیں اور میثاق مدینہ اس کی روشن دلیل ہے۔ اسلام کی تعلیمات باہمی احترام، عدل و انصاف اور بین المذاہب رواداری کے اصول فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کسی مذہب، ملک اور فرد سے نفرت کرنا نہیں سکھاتا، جو ریاست عدل و انصاف، شخصی آزادی، تحفظ اور مساوات فراہم کرے وہ دارالاسلام ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ دین کے معاملہ میں کوئی سختی اور تنگی نہیں ہے۔ ان قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کوئی مسلمان متشدد یا انتہا پسند نہیں ہو سکتا۔فرقہ واریت، نسلی امتیاز اور تنگ نظری بین الاقوامی بھائی چارہ کے فروغ کے راستے کی بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 45 سال قبل بین المذاہب رواداری اور فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے منہاج القرآن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منہاج یونیورسٹی بین المذاہب مکالمہ اور رواداری کی ایک عملی مثال ہے جہاں پاکستان کی تمام اقلیتوں کو اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق ایم اے سے لیکر پی ایچ ڈی تک کے ڈگری پروگرامز کی تعلیمی سہولت میسر ہے ۔کانفرنس میں دیپک راج گپتا، چیف ایمونیل، امر دیپ سنگھ، روی کرشن مورتی، رانا عبدالرحیم، مرزا محمد عباس، شیخ محی الدین، ظہیرعلوی، فیصل شیخ، محمد علی، اسد خان ودیگر نے شرکت و اظہار خیال کیا۔
تجزیہ:
دنیا اس وقت شدید نظریاتی، مذہبی، نسلی اور تہذیبی تقسیم سے گزر رہی ہے، جہاں انتہا پسندی اور تعصب نے انسانیت کے بنیادی اقدار کو چیلنج کر رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کسی علمی، فکری اور روحانی تحریک کی طرف سے بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی یکجہتی اور باہمی احترام کے عالمی اصولوں پر مبنی نظریہ پیش کیا جائے تو یہ بلا شبہ قابلِ قدر اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی آسٹریلیا، کینبرا میں ’’اسلام، مذہبی ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی‘‘ کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب اسی روشن پیغام کا تسلسل ہے جو ادارے کے بانی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے عشروں قبل پیش کیا تھا۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا خطاب اسلام کی اُن حقیقی تعلیمات کی ترجمانی کرتا ہے جنہیں آج کے شور زدہ عالمی بیانیے میں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے نہایت بصیرت افروز انداز میں واضح کیا کہ بین المذاہب تعلقات کا مطلب محض مکالماتی نعرہ بازی یا سطحی گفت و شنید نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دل و دماغ میں عزت، وقار، اور بامعنی مقام پیدا کرنا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جو اسلامی تعلیمات کے بنیادی ستونوں میں شامل ہے۔ قرآن پاک میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ دین میں جبر نہیں” ایک ایسا اصول جو مذہبی آزادی اور باہمی احترام کی اعلیٰ ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر حسین نے اپنے خطاب میں میثاقِ مدینہ کا حوالہ دے کر نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے مدینہ کی کثیر المذاہب، کثیرالثقافتی ریاست میں جو نظامِ حکومت قائم کیا، وہ نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کا ضامن تھا بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال بھی تھا۔ میثاقِ مدینہ کوئی مجرد تاریخی دستاویز نہیں بلکہ آج کے عہدِ جدید کے لئے ایک قابلِ عمل ماڈل ہے، جس پر اگر جدید ریاستیں عمل کریں تو دنیا بہت سے تنازعات سے محفوظ ہو سکتی ہے۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی بنیاد ہی بین المذاہب ہم آہنگی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر اسلام کے پرامن پیغام کی ترویج پر رکھی گئی تھی۔ ڈاکٹر حسین کا اس بات پر زور دینا کہ منہاج یونیورسٹی پاکستان میں اقلیتوں کو اُن کی مذہبی تعلیمات کے مطابق اعلیٰ تعلیم کی سہولت دے رہی ہے، بذاتِ خود ایک عملی ماڈل ہے جس کی مثالیں دنیا میں کم ہی نظر آتی ہیں۔
ایم اے سے لے کر پی ایچ ڈی تک کے ڈگری پروگرامز میں اقلیتوں کی شمولیت منہاج القرآن کی بین المذاہب برداشت پر مبنی سوچ کو عملی جامع پہناتی ہے۔ ایسے ادارے آج کے دور میں نئی نسل کو برداشت، رواداری، اور احترامِ انسانیت کے عملی سبق سکھاتے ہیں، جو آج کی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے بالکل درست طور پر یہ نشاندہی کی کہ فرقہ واریت، نسلی امتیاز اور تنگ نظری بین الاقوامی بھائی چارے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی مسلم معاشروں میں مذہب کو تقسیم، سیاست، اور تشدد کے آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن منہاج القرآن جیسے ادارے اس روش کے خلاف ایک متوازن، علمی، اور پُرامن بیانیہ فراہم کر رہے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب ایک فکری رہنمائی ہے جو آج کے نوجوان، دانشور، مذہبی رہنما اور پالیسی سازوں کے لیے مشعل راہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ انسانیت کے بقا کی ضامن حقیقت ہے۔
منہاج القرآن کا کردار نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اسلام کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں کلیدی رہا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دیگر اسلامی ادارے اور ریاستیں بھی اسی فکری و عملی ماڈل کو اپنائیں تاکہ دنیا ایک بار پھر محبت، عدل، اور امن کا گہوارہ بن سکے۔
یہ خطاب، یہ پیغام، اور یہ سوچ — سب ایک روشن مستقبل کی علامت ہیں، جو نفرت، خوف، اور تقسیم کے مقابل ایک نئے عالمگیر بھائی چارے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔





















