کراچی (محمد کاشف جان) – وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) میں ملک گیر سطح پر بڑی انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کے تحت مختلف زونز میں 39 ڈپٹی ڈائریکٹرز کے تقرر و تبادلے عمل میں لائے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ادارے کی تفتیشی، انتظامی اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا اور مختلف علاقوں میں جاری انکوائریوں اور آپریشنز کو مؤثر بنانا ہے۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق، ان تبادلوں کا فیصلہ ادارے کی مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر، فعال اور شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ ہر زون میں مقامی ضروریات کے مطابق تجربہ کار اور ماہر افسران کی تعیناتی ممکن ہو سکے۔
کن شہروں میں تبدیلیاں کی گئیں؟
ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ، گوجرانوالہ اور اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں ڈپٹی ڈائریکٹرز کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ ان شہروں میں ادارے کی اہم شاخیں موجود ہیں جہاں حساس نوعیت کی تحقیقات اور کرپشن سے متعلق کیسز زیرِ التوا ہیں۔
زون وار تفصیلات درج ذیل ہیں
زون / شہر تبادلے
اسلام آباد 9 ڈپٹی ڈائریکٹرز
پشاور 6 ڈپٹی ڈائریکٹرز
کراچی 4 ڈپٹی ڈائریکٹرز
کوئٹہ 4 ڈپٹی ڈائریکٹرز
لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ مجموعی طور پر 10
اندرون سندھ (حیدرآباد، سکھر، نواب شاہ، میرپورخاص) 4 ڈپٹی ڈائریکٹرز
اس اقدام کو ایف آئی اے کے اندرونی اصلاحاتی عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد ادارے میں نئی توانائی بھرنا اور زیر التوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانا ہے۔
کراچی سے اہم افسران کے تبادلے
ذرائع کے مطابق، کراچی زون سے جن افسران کا تبادلہ کیا گیا ہے ان میں علی مردان شاہ، رابعہ قریشی اور فہد خواجہ شامل ہیں۔ جبکہ محمد علی ابڑو کو اسلام آباد سے تبادلہ کر کے کراچی اینٹی کرپشن سرکل میں تعینات کیا گیا ہے۔
کراچی زون میں ایف آئی اے کو متعدد اہم مقدمات اور انکوائریوں کا سامنا ہے، جن میں انسانی اسمگلنگ، سائبر کرائم، بینک فراڈ اور انسداد کرپشن کے کیسز شامل ہیں۔ نئے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موجودہ کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔
ترجمان ایف آئی اے کا مؤقف
ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ان تقرریوں اور تبادلوں کا مقصد ادارے کے کام میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثریت لانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“ادارے کی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے ہر زون میں متحرک، تجربہ کار اور ایماندار افسران کی تعیناتی ضروری ہے۔ یہ تبادلے اسی وژن کا حصہ ہیں تاکہ ادارہ عوامی توقعات پر پورا اتر سکے۔”
ترجمان نے واضح کیا کہ تمام نئے تعینات ہونے والے افسران کو ان کے متعلقہ زونز میں رپورٹ کرنے اور فوری چارج سنبھالنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
مختلف زونز میں درپیش چیلنجز
پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایف آئی اے کو مختلف نوعیت کے جرائم سے نمٹنا پڑتا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں سائبر کرائم، مالیاتی فراڈ اور ہنڈی حوالہ جیسے جرائم کی شرح زیادہ ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انسانی اسمگلنگ اور شناختی دستاویزات سے متعلق کیسز زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔
ان چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے ہر زون میں افسران کی تعیناتی میں ان کے تجربے اور مہارت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
اصلاحاتی پالیسی کا تسلسل
تقرریوں اور تبادلوں کا یہ عمل ایف آئی اے کی موجودہ اصلاحاتی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس پالیسی کے تحت ماضی میں بھی متعدد اعلیٰ افسران کو کارکردگی کی بنیاد پر دوسرے زونز میں تعینات کیا جا چکا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کی نگرانی میں ایف آئی اے نے گزشتہ ایک سال کے دوران ادارے کے اندرونی نظم و نسق، تفتیشی طریقہ کار اور ٹریننگ کے شعبے میں بھی نمایاں اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔
ماہرین کا ردعمل
تجزیہ کاروں کے مطابق ایف آئی اے میں یہ تبدیلیاں خوش آئند ہیں، تاہم ان کا حقیقی اثر تب ہی دیکھنے میں آئے گا جب تقرریوں کے بعد افسران کو مکمل اختیارات اور آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ داخلی احتساب کا مضبوط نظام بھی ضروری ہے تاکہ تبادلوں کے بعد بھی کارکردگی پر نظر رکھی جا سکے۔
ایف آئی اے کا ملک گیر تبادلوں کا فیصلہ ایک بڑا انتظامی اقدام ہے جو ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کی جانب ایک قدم ہے۔ ان تبادلوں سے نہ صرف مختلف زونز میں تفتیشی عمل کو تقویت ملے گی بلکہ ادارے کے اندر شفافیت اور جوابدہی کا معیار بھی بہتر ہو گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے تعینات ہونے والے افسران اپنی ذمہ داریاں کس حد تک مؤثر طریقے سے نبھاتے ہیں اور عوامی شکایات کے ازالے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔





















