نئی دہلی/اسلام آباد: بھارت کی مودی حکومت ایک بار پھر خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی تیاریوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے زیر اثر نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی جنگی عزائم نئے اور مہلک ہتھیاروں کی خریداری سے واضح ہو رہے ہیں۔ دی ٹائمز آف انڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع نے بڑے پیمانے پر جنگی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی اور تنازعات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
بھارت کا جنگی ہتھیاروں کا نیا ذخیرہ
بھارتی وزارت دفاع نے حال ہی میں 67 ہزار کروڑ روپے مالیت کے فوجی سازوسامان کی خریداری کی منظوری دی ہے، جس میں 87 ہیوی ڈیوٹی مسلح ڈرونز اور 110 سے زائد براہموس سپر سونک کروز میزائلز شامل ہیں۔ یہ براہموس میزائلز، جو بھارت اور روس کے مشترکہ تعاون سے تیار کیے گئے ہیں، تقریباً 450 کلومیٹر کی رینج رکھتے ہیں اور 2.8 ماخ کی رفتار سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ میزائلز بھارتی فضائیہ کے سخوئی-30 ایم کے آئی لڑاکا طیاروں کے ساتھ مل کر ایک مہلک ہتھیار کا کردار ادا کرتے ہیں، جیسا کہ مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران دیکھا گیا۔
اس کے علاوہ، بھارتی فوج کے لیے تھرمل امیجر پر مبنی ڈرائیور نائٹ سائٹ کی خریداری کی منظوری بھی دی گئی ہے، جو رات کے وقت فوجی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بہتر بنائے گی۔ بھارتی بحریہ کے لیے خود مختار سطحی جہازوں، براہموس فائر کنٹرول سسٹم، اور عمودی لانچرز کی منظوری بھی شامل ہے، جو اس کی بحری طاقت کو مزید مستحکم کریں گے۔ بھارتی فضائیہ کے لیے ماونٹین ریڈارز اور اسرائیلی نژاد اسپائڈر ہتھیاروں کے نظام کی اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دی گئی ہے، جو بلند و بالا علاقوں میں فضائی نگرانی کو بہتر بنائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت نے ریموٹلی پائلٹڈ ایئرکرافٹ (MALE ڈرونز) کی خریداری کی تجویز کو بھی منظور کیا ہے، جن میں سے 60 فیصد مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے۔ یہ ڈرونز انٹیلی جنس، نگرانی، اور ہتھیار اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کی لاگت تقریباً 20 ہزار کروڑ روپے ہوگی۔ اس کے علاوہ، امریکی C-17 اور C-130J طیاروں کی دیکھ بھال اور روس سے خریدے گئے S-400 طویل رینج ایئر ڈیفنس سسٹم کے سالانہ مینٹیننس کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
آپریشن سندور اور بھارت کی ناکامی کا اعتراف
دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوج کو ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کمی نے بھارتی فوج کی آپریشنل تیاریوں میں خامیوں کو اجاگر کیا، جسے مودی حکومت اب نئے ہتھیاروں کی خریداری سے پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ خاص طور پر S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی مینٹیننس کے لیے فنڈز کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں اس نظام کو آپریشن معرکہ حق کے دوران بڑا نقصان پہنچا تھا۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں سے چینی ساختہ سی ایم-400AKG ہائپرسونک میزائلوں کے ذریعے اڈمپور ایئر بیس پر موجود بھارت کے S-400 سسٹم کے ریڈار کو نشانہ بنایا تھا۔ اگرچہ بھارت نے اس دعوے کو مسترد کیا اور وزیراعظم نریندر مودی نے اڈمپور ایئر بیس پر S-400 کے لانچر کے سامنے تصویر کھنچوا کر اسے پروپیگنڈا قرار دیا، لیکن ماہرین نے نشاندہی کی کہ تصویر میں S-400 کے ریڈار اور کمانڈ سینٹر غائب تھے، جو پاکستان کے دعووں کی جزوی تصدیق کرتے ہیں۔
مودی کا جنگی جنون اور خطے پر اثرات
بھارتی حکومت کی جانب سے جنگی ہتھیاروں کی اس بڑے پیمانے پر خریداری کو ماہرین خطے میں ایک نئے تنازعے کی تیاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی کی ہندو قوم پرست پالیسیوں کو پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم کا ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب میں 9 اہداف پر حملے کیے تھے، جن میں براہموس میزائلز اور اسرائیلی ساختہ ہارپ ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے آپریشن معرکہ حق کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے بھارت کو نمایاں نقصان پہنچا۔
پاکستان نے اپنے ردعمل میں واضح کیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں اور فتح-II میزائلوں نے بھارتی فضائی دفاعی نظام کو کمزور کر کے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ثابت کیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ "ہم نے بھارت کے جنگی عزائم کو ناکام بنایا اور ثابت کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر نے ایکس پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "مودی سرکار کی جنگی تیاریاں خطے کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیت مزید مضبوط کرنی ہوگی۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "بھارت کا S-400 سسٹم پاکستان کے ہائپرسونک میزائلوں کے سامنے ناکام ہو چکا ہے، پھر بھی مودی جنگی جنون میں مبتلا ہے۔” تاہم، کچھ بھارتی صارفین نے اسے اپنی فوج کی مضبوطی کا ثبوت قرار دیا، جبکہ پاکستانی صارفین نے اسے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں کی علامت سمجھا۔
بھارت کی مودی حکومت کی جانب سے جنگی ہتھیاروں کی خریداری اور S-400 سسٹم کی مینٹیننس کے لیے فنڈز کی منظوری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاس ہے۔ آپریشن سندور کے دوران بھارتی فوج کی ناکامیوں، خاص طور پر ہوا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کی کمی اور S-400 سسٹم کو پہنچنے والے نقصان نے بھارت کے عسکری ڈھانچے کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا۔ مودی حکومت اب ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری پر زور دے رہی ہے، لیکن یہ اقدام خطے کو ایک نئے تنازع کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پاکستان کے تناظر میں، بھارت کی یہ جنگی تیاریاں ایک سنگین چیلنج ہیں۔ پاکستان نے آپریشن معرکہ حق کے دوران اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، لیکن بھارت کے براہموس میزائلز، مسلح ڈرونز، اور S-400 جیسے جدید نظام اسے مزید چوکنا رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے چینی ساختہ جے-10 سی ای لڑاکا طیاروں، ایچ کیو-9 ایئر ڈیفنس سسٹم، اور ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھارت کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم، اس ہتھیاروں کی دوڑ سے خطے میں استحکام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت اور پاکستان، دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اور ان کے درمیان کوئی بھی تنازعہ عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ مودی کی جارحانہ پالیسیوں اور بی جے پی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے نے پاک بھارت تعلقات کو مزید خراب کیا ہے، اور اس نئی فوجی تیاری سے یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرے اور سفارتی سطح پر عالمی برادری کو اس صورتحال سے آگاہ کرے۔ چین، ترکی، اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعاون پاکستان کے لیے اس ہتھیاروں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ دوسری طرف، بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ جارحانہ عزائم کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کو فروغ دے۔ اگر دونوں ممالک اس دوڑ کو جاری رکھتے ہیں، تو اس کے نتائج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔





















