اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں ایک پرجوش اور سخت لہجے میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقبولیت کا مطلب بے گناہی نہیں ہوتا، اور شیطان بھی مقبول ہو سکتا ہے لیکن وہ کبھی فرشتہ نہیں بن سکتا۔ طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کے سہولت کار قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا ریاست کے ساتھ۔
قومی اسمبلی میں طلال چوہدری کا خطاب
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبولیت کو بے گناہی کا ثبوت سمجھنا غلط ہے، اور شیطان کی مقبولیت کا حوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پی ٹی آئی کے رہنما اڈیالہ جیل جانا چاہتے تھے، تو وہ پارلیمنٹ میں کیوں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن محض بہانے بازی کر رہی ہے اور ان کے اصل عزائم قوم سے چھپے نہیں ہیں۔
طلال چوہدری نے 9 مئی 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ اس دن فوجی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے کون تھا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا، اور اس صوبے کی حکومت نے 700 ارب روپے کے این ایف سی ایوارڈ کے باوجود کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مضبوط کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد
طلال چوہدری نے واضح کیا کہ کوئی نیا فوجی آپریشن شروع نہیں کیا جا رہا، بلکہ نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں کسی کے باپ کی طاقت نہیں روک سکتی، اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ دیگر سیاسی جماعتیں بنتی ہیں، لیکن پی ٹی آئی کے رہنما ان سے محفوظ رہتے ہیں، جو ان کے مبینہ دہشت گردوں سے رابطوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد بنایا گیا تھا، جس کا مقصد دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان کی بحالی تھا۔ طلال چوہدری نے زور دیا کہ موجودہ حکومت اس منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اور کوئی سیاسی دباؤ یا احتجاج اسے روک نہیں سکتا۔
زائرین کے مسائل اور سفارتی کوششیں
طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں زائرین کے مسائل پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد زائرین کے زمینی راستوں سے سفر پر پابندی لگائی گئی تھی، جس سے کچھ سیکیورٹی مسائل پیدا ہوئے۔ تاہم، حکومت نے اس سلسلے میں مذاکرات کیے ہیں اور زائرین کی سہولت کے لیے فلائٹس کی تعداد بڑھائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی ایئرلائنز کو بھی اجازت دی گئی ہے، اور وہ خود کراچی جا رہے ہیں تاکہ زائرین سے براہ راست بات چیت کر کے ان کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
سیاسی تنازع اور پی ٹی آئی پر تنقید
طلال چوہدری نے پی ٹی آئی کے سابق اسپیکر اسد قیصر کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ وہ کوئی نیا آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا، بلکہ این اے پی کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں: دہشت گردوں کے ساتھ یا پاکستان کی ریاست کے ساتھ؟ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات نہیں کیے، اور اس کی ناکامی کی وجہ سے دہشت گرد دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج پر بھی تنقید کی، کہا کہ اسلام آباد میں ان کے احتجاج میں صرف 100 سے کم افراد شریک ہوئے، جبکہ پنجاب میں 954 افراد نکلے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ راستے اور گیٹ کھلے تھے، اور کسی رکن اسمبلی کو روکا نہیں گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دعوے محض پروپیگنڈا ہیں، اور وہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بہانے تراش رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
طلال چوہدری کے اس بیان نے ایکس پر ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "طلال چوہدری نے بالکل درست کہا، مقبولیت بے گناہی کا ثبوت نہیں۔ پی ٹی آئی کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ طلال چوہدری کا بیان بروقت ہے۔” تاہم، پی ٹی آئی کے حامیوں نے اس بیان کو سیاسی دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلال چوہدری اپوزیشن کو بدنام کرنے کے لیے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
طلال چوہدری کا قومی اسمبلی میں دیا گیا بیان موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی حالات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ ان کا "شیطان بھی مقبول ہے” والا جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز ہے بلکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی مقبولیت کو ان کے مبینہ دہشت گردوں سے تعلقات کے تناظر میں چیلنج کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ان کا یہ بیان 9 مئی کے واقعات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت اپوزیشن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیوں پر زور دینا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، لیکن پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کے ساتھ تعاون کے الزامات ایک سنگین سیاسی تنازع کو جنم دے سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سی ٹی ڈی کی ناکامی اور دہشت گردوں کے دوبارہ منظم ہونے کے دعوے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگر یہ الزامات درست ہیں، تو یہ صوبائی حکومت کی سیکیورٹی پالیسیوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
تاہم، طلال چوہدری کا سخت لہجہ اور پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا سیاسی پولرائزیشن کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں دہشت گردی ایک سنگین مسئلہ ہے، اس طرح کے الزامات سیاسی اتحاد کے بجائے تقسیم کو فروغ دیتے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن مل کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی بنائیں، تو یہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زیادہ موثر ہوگا۔
زائرین کے مسائل پر طلال چوہدری کا بیان حکومت کی سفارتی کوششوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم، ان کا یہ دعویٰ کہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ صرف دیگر جماعتیں بنتی ہیں، پی ٹی آئی کے خلاف ایک سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ان کے بیان کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ بیان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی منظر نامے کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے نہ صرف فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کی ضرورت ہے بلکہ سیاسی استحکام اور قومی اتحاد بھی ناگزیر ہے۔ طلال چوہدری کے بیان سے واضح ہے کہ حکومت اپوزیشن کو اس جنگ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتی ہے، لیکن اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مذاکرات اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر مل کر کام کریں، تو پاکستان دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے میں زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔





















