ٹرمپ کی میزبانی میں تاریخی صلح، آذربائیجان و آرمینیا کا صدر ٹرمپ کو نوبیل انعام دینے کا مطالبہ

دونوں ممالک اب اپنی ترجیحات میں تجارت اور معیشت کو شامل کریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں وائٹ ہاؤس میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہو گئے، جس میں دونوں فریقوں نے باہمی تنازعات ختم کر کے سفارتی اور معاشی تعلقات کو معمول پر لانے کا عندیہ دیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ پیش کر دیا۔

دستخطی تقریب کا منظر

دستخطی تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، آذربائیجان کے صدر الہام علی یف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان شریک تھے، تقریب میں رہنماؤں نے معاہدے کی کاپی دکھائی اور پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی اس میٹنگ کی تفصیلات اور سرکاری تصاویر جاری کی ہیں۔

معاہدے کی اہم شقیں

معاہدے میں سرحدی تنازعات کو ختم کرنے، سفارتی تعلقات کھولنے اور تجارتی تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی منصوبوں کی شمولیت طے پائی ہے؛ اسی سلسلے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کے معاہدوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس خطے میں ایک مخصوص نقل و حملی کوریڈور کے امریکی ترقیاتی حقوق بھی معاہدے کا حصہ بنے ہیں۔

صدر کے اعلانات اور رہنماؤں کے بیانات

صدر ٹرمپ نے تقریب میں کہا کہ میں نے دونوں ممالک سے کہا کہ جنگ نہیں، تجارت کرو،دونوں رہنماؤں نے معاہدہ کی پذیرائی کی اور ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے تعریفی الفاظ ادا کیے۔

خطّے پر جیوپولیٹیکل اثرات

معاہدے کے نتیجے میں روایتی طاقتوں؛ خاص طور پر ماسکو کے اثر و رسوخ میں کمی کا امکان دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اب ایک نئے ٹرانزِٹ راستے اور امریکی شرکت نے اس خطے کی جیوپولیٹیکل توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحت ظاہر کی ہے۔ بعض مبصرین اسے روس اور دیگر آس پاس کی طاقتوں کے لیے چیلنج سمجھ رہے ہیں۔

زمینی حقیقتیں اور انسانی خدشات

معاہدے کے باوجود انسانی حقوق، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 2023 کے بعد پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات اب بھی حل طلب ہیں؛ ناگورنو کاراباخ سے نقل مکانی کرنے والے افراد اور قیدیوں کی رہائی پر دباؤ برقرار ہے۔

تاریخی پس منظر

یہ تنازعہ 1980 کی دہائی سے جاری ہے؛ 1994 میں ایک بین الوقتی جنگ بندی ہوئی تھی، 2020 میں ایک بڑی جنگ کے بعد صورتحال بدلی اور 2023 میں آذربائیجان کی فوجی کاروائیوں نے خطے کے نقشے کو مزید تبدیل کر دیا تھا یہی پس منظر آج کے معاہدے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

عملدرآمد کے تقاضے اور تکنیکی پہلو

معاہدے میں ذکر کیے گئے کوریڈور (جسے مقامی سطح پر اور بین الاقوامی میڈیا میں الگ نام دیا جا رہا ہے) کی تعمیر و انتظام کے لیے کمپنیوں اور مالکان کے بارے میں بحث متوقع ہے؛ بعض رپورٹس کے مطابق متعدد کمپنیوں نے اس راستے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، مگر انتظامی، قانونی اور سیکیورٹی امور واضح ہونا ضروری ہیں۔

امکانات اور خطرات

یہ معاہدہ بلاشبہ علامتی اور عملی اعتبار سے اہم ہے: اگر اسے مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا تو خطے میں تجارتی راہیں کھلیں گی، توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبے فروغ پائیں گے اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ مگر اس کی کامیابی کا انحصار چند کلیدی شرائط پر ہوگا: (1) معاہدے کے نفاذ کی شفاف مانیٹرنگ، (2) مقامی آبادی کی حفاظت اور انسانی حقوق کی ضمانت، (3) بند مقدمات اور سیاسی قیدیوں کے معاملات کا واضح حل، اور (4) خطے کی بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن سفارتکاری تاکہ کشیدگی دوبارہ جنم نہ لے۔ اگر امریکی شرکت طویل المدتی اور قابلِ اعتماد رہنمائی میں تبدیل نہ ہوئی تو اس معاہدے کا اثر وقتی اور سطوری ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ نگار بھی یہی اشارہ کرتے ہیں کہ بغیر مضبوط نگرانی اور معاشی شراکت داری کے، پائیدار امن کو قائم رکھنا مشکل ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں دستخط شدہ یہ امن معاہدہ ایک بزرگ سیاسی لمحہ ہے جو امید کی کرن فراہم کرتا ہے؛ تاہم حقِ حقیقت یہ ہے کہ امن کی گارنٹی معاہدے کے کاغذی ہونے سے نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ، شفافیت اور طویل المدتی معاونت سے ملے گی۔ دنیا کو اب دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ نئی راہیں تنہا اقتصادی فائدے لائیں گی یا خطے میں دیرپا استحکام کا باعث بھی بنیں گی۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین