پاکستان گزشتہ مالی سال میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ سماجی اخراجات کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا، اگرچہ فرق معمولی رہا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مجموعی طور پر 2.86 کھرب روپے خرچ کرنے کا ہدف دیا گیا تھا، لیکن اصل اخراجات 2.84 کھرب روپے رہے، جو ہدف سے 27 ارب روپے کم ہیں۔ تاہم، اگر حکومتی معاہدوں کے تحت طے شدہ اہداف کو مدنظر رکھا جائے تو اصل اخراجات میں 240 ارب روپے کی کمی دیکھی گئی، جو ایک تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔
صوبائی کارکردگی میں تفاوت
صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر واضح ہوتا ہے کہ سندھ، خیبر پختونخوا، اور پنجاب اپنے طے شدہ اہداف سے کافی پیچھے رہے۔ دوسری جانب، وفاقی حکومت اور بلوچستان نے اپنے اہداف سے بڑھ کر اخراجات کیے، جو ایک مثبت پہلو ہے۔ سندھ نے 853 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 670 ارب روپے خرچ کیے، جس سے 153 ارب روپے کی نمایاں کمی سامنے آئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا نے 600 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 545 ارب روپے خرچ کیے، جو 55 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
بلوچستان اور وفاق کی مثالی کارکردگی
بلوچستان نے اپنے سماجی اخراجات کے ہدف کو نہ صرف پورا کیا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھا۔ صوبے نے 181 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 206 ارب روپے خرچ کیے، جو 25 ارب روپے کا اضافہ دکھاتا ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی اپنے حصے کے اہداف سے زائد اخراجات کیے، جو سماجی شعبوں کے لیے اس کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کامیابی دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اسے پائیدار بنایا جائے۔
پنجاب کی کارکردگی: قریب لیکن نامکمل
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے صوبے کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے لیے مختص 524.8 ارب روپے میں سے 505 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ تعلیم کے لیے 664 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 649 ارب روپے خرچ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار 98 فیصد ہدف کے حصول کی نشاندہی کرتے ہیں، جو ایک معقول کامیابی ہے۔ تاہم، مکمل ہدف سے معمولی انحراف صوبے کی انتظامی صلاحیت پر سوالات اٹھاتا ہے۔
تعلیم اور صحت پر اخراجات میں کمی
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2018 کے بعد سے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اخراجات میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ رواں مالی سال میں سندھ اور خیبر پختونخوا کی کارکردگی خاص طور پر مایوس کن رہی۔ اس کی بنیادی وجوہات میں انتظامی کمزوریاں اور فنڈز کے مؤثر استعمال کی صلاحیت کا فقدان شامل ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آئی ایم ایف کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بنی بلکہ عوام کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
تعلیم تک رسائی کا بحران
عالمی بینک کی رپورٹ نے پاکستان میں تعلیم تک رسائی کے سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ 2022-23 کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 2.61 کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اسکول جانے کی عمر کے بچوں کا 38 فیصد ہیں۔ ان میں سے 74 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں بنیادی ڈھانچے اور وسائل کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ اعداد و شمار تعلیمی شعبے میں فوری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
صحت کے اہداف سے دوری
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان 2030 تک صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ صحت کے شعبے میں اخراجات کی کمی، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، بنیادی صحت کی سہولیات کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف غربت کے خاتمے بلکہ مجموعی معاشی ترقی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
پس منظر
پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی اصلاحات کے پروگرام کے تحت سماجی اخراجات کے اہداف طے کیے تھے، جو مالیاتی نظم و ضبط اور سماجی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے اہم ہیں۔ ان اہداف کا مقصد صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں سرمایہ کاری کو بڑھانا تھا تاکہ غربت میں کمی اور انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم، انتظامی رکاوٹوں، وسائل کے غیر مؤثر استعمال، اور صوبائی سطح پر ترجیحات کے تفاوت نے ان اہداف کے حصول کو مشکل بنا دیا۔
پاکستان کی سماجی اخراجات میں ناکامی کے نتائج گہرے اور طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری نہ صرف انسانی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا کی ناقص کارکردگی انتظامی اصلاحات اور وسائل کے بہتر استعمال کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ دوسری جانب، بلوچستان اور وفاق کی کامیابی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور ترجیحات کے ساتھ اہداف کا حصول ممکن ہے۔
دیہی علاقوں میں تعلیم تک رسائی کا بحران ایک سنگین چیلنج ہے، جو سماجی عدم مساوات کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ اسکول سے باہر بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف انفرادی ترقی کو متاثر کرتی ہے بلکہ قومی معیشت پر بھی بوجھ بنتی ہے۔ صحت کے شعبے میں اخراجات کی کمی نے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو کمزور کیا ہے، جو کہ وبائی امراض اور دیگر صحت کے مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی سطح پر انتظامی صلاحیت کو مضبوط کرے، فنڈز کے استعمال کی شفافیت کو یقینی بنائے، اور دیہی علاقوں میں تعلیمی اور صحت کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی رپورٹس واضح تنبیہ ہیں کہ موجودہ رفتار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف سے مزید دور ہوتا جائے گا۔





















