خیبر (عبدالاعظم شینواری) کم شلمان کے اسپین حاجی کلی میں واقع گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول اور گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول نمبر 2 کئی برسوں سے اتنے کم عملے کے ساتھ چل رہے ہیں کہ ہر اسکول میں محض ایک ہی استانی سینکڑوں طالبات کو پڑھانے پر مجبور ہے۔ اس صورتحال نے مقامی لڑکیوں کے تعلیمی فائدے کو محدود کر دیا ہے اور آنے والے سالوں میں ان کے مستقبل پر گہرے اثرات کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ آج آل خیبر اتحاد کے وفد نے ان اداروں کا معائنہ کیا اور فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلاتِ دورہ اور منظرِ حال
آل خیبر اتحاد کے نمائندوں نے اسکولز کا دورہ کرتے ہوئے خود دیکھا کہ کلاس رومز بھری ہوئی ہیں، بچوں کو مناسب توجہ مہیا نہیں ہو رہی اور تعلیمی سرگرمیوں کا معیار بری طرح متاثر ہے۔ دورے میں شامل لیڈرز نے کہا کہ یک استاد کے کندھوں پر بڑے گروپس کا بوجھ رکھنا نہ تو تدریسی معیار کے موافق ہے اور نہ ہی صنفی مساوات کے تقاضوں کے عین مطابق۔ وفد نے فوری طور پر منتخب نمائندوں، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام، چیف سیکرٹری، وزیرِ تعلیم اور وزیراعلیٰ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
اثراتِ تعلیم اور سماجی نتائج
اساتذہ کی کمی کے باعث نصابی اوقات میں کم سطحی تعلیم، ذاتی رہنمائی کی عدم دستیابی اور سکول سے منسلک دلچسپی میں کمی جیسے منفی رجحانات واضح ہو رہے ہیں۔ نتیجتاً طالبات میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے، کلاس روم میں نظم و ضبط برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ کا خطرہ موجود ہے۔ دیہی معاشرے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی کمزوریوں کا طویل المدتی اثر خواتین کی خوشحالی اور مقامی ترقی پر پڑ سکتا ہے۔
مطالبات اور مقامی مطالبہ آہستگی
آل خیبر اتحاد نے درخواست کی ہے کہ دونوں اسکولوں میں فوراً اضافی استانیاں تعینات کی جائیں تاکہ ہر طالبہ باقاعدہ توجہ حاصل کر سکے اور تعلمی وقفہ ضائع نہ ہو۔ مزید برآں، تنظیم نے شفاف تر تقرریاں، فوری بریفنگز اور مسئلے کے حل کے لیے واضح ٹائم فریم مانگا ہے تاکہ والدین اور اساتذہ کو یقین ہو سکے کہ بچوں کی تعلیم کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
پس منظر
کم شلمان کا علاقہ دور افتادہ دیہی ساخت کا حامل ہے جہاں تعلیمی سہولیات پہلے سے محدود ہیں اور خواتین کی تعلیم کو معاشرتی و اقتصادی ترقی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں عملے کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور مستحکم پالیسیوں کی عدم موجودگی ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے دیہی بچیاں شہری ہم عمر بچوں کے مقابلے میں تعلیمی مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں محکمہ تعلیم کی بھرتیوں میں سست روی اور وسائل کی تقسیم میں عدم مساوات نے اس بحران کو بڑھایا ہے۔
تجزیاتی خاکہ اور سفارشات
یہ صورتحال محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ طویل المدت پالیسی چیلنج کا عکاس ہے۔ تعلیمی معیار کو فوری طور پر بحال کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات موثر ثابت ہو سکتے ہیں:
فوری تقرریاں: دونوں اسکولوں میں کم از کم دو اضافی مستقل استانیاں تعینات کی جائیں تاکہ فی استانی طالبات کی اوسط کم ہو اور کلاس میں توجہ بہتر ہو۔
عارضی انتظامات: مستقل تعیناتی تک معلمہ ماہرین کی بطور عارضی تقرری یا معاون اساتذہ کی فراہمی اختیار کی جائے۔
پروفیشنل سپورٹ: مقامی اساتذہ کے لیے تربیتی ورکشاپس اور کلاس روم مینجمنٹ کورسز کا انعقاد کیا جائے تاکہ محدود عملے کے باوجود تدریسی معیار بہتر رکھا جا سکے۔
سہولیات اور حوصلہ افزائی: سرکاری مدارس میں خواتین اساتذہ کی حاضری اور طویل مدتی رہائش کے لیے مراعات، ترغیبات اور حفاظتی انتظامات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
شفافیت اور نگرانی: محکمۂ تعلیم کی جانب سے باقاعدہ مانیٹرنگ، والدین کی شمولیت اور مقامی نمائندوں کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے قابل نظام قائم کیا جائے۔
اگر فوری اور منظم اقدامات نہ کیے گئے تو اس کمی کے نتائج نسلوں تک محسوس ہوں گے؛ اسکولوں میں طالبات کی حوصلہ شکنی، غیر مساوی تعلیمی مواقع اور معاشی پسماندگی کے اضافی خدشات جنم لیں گے۔ مقامی اور صوبائی سطح پر حکومتی مداخلت، تعلیمی وسائل کی مؤثر تقسیم اور مستقل استانی عملے کی تعیناتی واحد راستے ہیں جو مقامی بچیوں کو مستقبل کے روشن مواقع واپس دلانے میں مدد کریں گے۔





















