لنڈی کوتل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ، مریض و عملہ انتظاری کیفیت کا شکار

ٹیسکو کے بقایاجات تنازع نے طبی خدمات کو مفلوج کر دیا

خیبر (عبدالاعظم شینواری) ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈیکوتل میں بجلی کی طویل اور بار بار ہونے والی بندش نے تمام طبی شعبہ جات کو شدید طور پر متاثر کر دیا ہے۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے (ٹیسکو) کی طرف سے بقایاجات کے بہانے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بیس گھنٹے تک پہنچ گیا، جس کے باعث نہ صرف مریضوں کو سہولیات میسر نہیں رہیں بلکہ طبی عملہ بھی نامناسب حالات میں خدمات دینے پر مجبور ہے۔

تفصیلات

ڈاکٹر احتشام، ایم ایس ہیڈ کوارٹر ہسپتال، نے بتایا کہ یہ صورتحال چند گھنٹوں کی عارضی پریشانی نہیں بلکہ کئی سالوں سے جاری مسئلہ ہے۔ ہسپتال کا مین میٹر گریڈ اسٹیشن کے مقام پر نصب ہونے کے باعث یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کس کس کنکشن سے کتنی بجلی استعمال ہو رہی ہے؛ اسی الجھن کی وجہ سے واجبات بڑھ چکے ہیں اور ٹیسکو نے بندشوں کو سختی سے نافذ کرنا شروع کر دیا ہے۔ایم ایس کے مطابق 2022 میں ہسپتال کے خلاف 14 کروڑ روپے تک بقایاجات درج تھے جن میں سے سات کروڑ جمع کروانے کے بعد ٹیسکو نے معاہدہ کیا تھا کہ باقی رقم میٹرائزیشن کے بعد ادا کی جائے گی، مگر میٹر ہسپتال میں منتقل نہ ہونے کی وجہ سے وعدہ ادھورا رہ گیا ہے۔ہسپتال کی خواتین و بچوں کی ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر، لیبارٹری، ایکسرے اور دیگر اہم یونٹس بجلی کے بغیر کام نہیں کر پا رہے، جس کے نتیجے میں طبی خدمات کی فراہمی خطرے میں پڑ گئی ہے اور غیرمعمولی حالات میں ردعمل دینے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔

متاثرہ شعبے اور فوری نتائج

طویل لوڈشیڈنگ نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی تیاری کو کمزور کر دیا؛ او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر میں بجلی کی غیرموجودگی سے کارروائیوں میں خلل پڑ رہا ہے۔ تشخیصی لیبارٹری اور امیجنگ یونٹس کی عدم دستیابی کے نتیجے میں مریضوں کی درست تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے اور پیچیدہ مریضوں کو دوسری جگہ ریفر کرنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی کے دوران جب پاور بند ہوتی ہے تو نوزائیدہ اور بزرگ مریضوں کی حفاظت کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

مطالبات اور پیش رفت

ایم ایس احتشام کا مؤقف ہے کہ ہسپتال کے میٹر کو اندر منتقل کیا جائے تاکہ بجلی کے استعمال اور بلنگ میں شفافیت آئے، مگر ٹیسکو انتظامیہ میٹرائزیشن پر رضامند نہیں۔ سیکرٹری خیبر نے ہسپتال انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مسئلے کا حل تلاش کیا جائے گا اور ممبر صوبائی اسمبلی عدنان قادری مسلسل رابطوں کے ذریعے صورتِ حال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ طبی عملہ، پیرامیڈکس اور صفائی عملہ چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں، تاہم غیر یقینی بجلی کی صورت میں روز مرّہ کے فرائض سر انجام دینا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

پس منظر

یہ ہسپتال مین ایکسپریس وے کے کنارے اور بین الاقوامی بارڈر طورخم کے بالکل قریب واقع ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑے آپریشن یا انسانی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مسلسل بجلی کی دستیابی ناگزیر ہے۔ میٹر جب گریڈ اسٹیشن پر لگایا جاتا ہے تو بلنگ کے عمل میں شفافیت متاثر ہوتی ہے کیونکہ مرکز سے کنکشنز اور راستے میں ہونے والی لِیج (نقصان یا غیر قانونی کنکشن) کی تفصیل تک پہنچنا آسان نہیں رہتا، اور اسی وجہ سے پیدا ہونے والے بقایاجات اکثر غیر واضح تنازعات کا سبب بنتے ہیں۔

تفصیلی تجزیہ اور سفارشات

یہ معمہ بنیادی طور پر تین سطحوں پر حل طلب ہے: تکنیکی، مالیاتی اور انتظامی۔ تکنیکی سطح پر ہسپتال کا میٹر اندر منتقل کرنا سب سے منطقی قدم ہے کیونکہ اس سے اصل کنزمپشن کی درست پیمائش ممکن ہو گی اور حسابات میں درستگی آئے گی۔ مالیاتی طور پر ٹیسکو اور ہسپتال کے درمیان 2022 کا معاہدہ واضح کرتا ہے کہ بقایاجات کی ادائیگی میٹرائزیشن سے مشروط تھی؛ لہٰذا دونوں فریق کو اپنے وعدوں کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ انتظامی نقطہ نظر سے صوبائی محکمہ صحت اور متعلقہ حکام کو ثالثی کر کے فوری طور پر معاملے کی شفاف تفتیش کرانی چاہیے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کن وجوہات کی بنا پر میٹر کا تبادلہ التوا کا شکار رہا۔

فوری اور عملی سفارشات درج ذیل ہیں:

ہسپتال میٹر کو فوراً اندر منتقل کر کے حقیقی استعمال کی پیمائش یقینی بنائی جائے۔

ٹیسکو سے پرانی ادائیگیوں کا تفصیلی آڈٹ کروایا جائے اور معاہدے کے تحت بقایا جات کی ادائیگی پر شفاف ٹائم لائن مرتب کی جائے۔

عارضی بنیادوں پر ایمرجنسی یونٹس کے لیے موبائل جنریٹرز یا UPS سسٹمز فراہم کیے جائیں تاکہ بنیادی طبی سروسز متاثر نہ ہوں۔

محکمہ صحت، سیکرٹری اور منتخب نمائندہ (ایم پی اے) مشترکہ اجلاس بلائیں اور عوامی سطح پر مسئلے کے حل کی پیش رفت رپورٹ کریں۔

طویل مدّت کے لیے اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کرتے ہوئے ہسپتال میں قابلِ بھروسہ توانائی کے متبادل (مثلاً سولر سپورٹڈ بیس لائن) پر غور کیا جائے۔

لنڈیکوتل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی صورتحال صرف بجلی کا مسئلہ نہیں؛ یہ صحت کے بنیادی انفراسٹرکچر، شفافیتِ مالیاتی نظام اور انتظامی جوابدہی کا امتحان بھی ہے۔ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں مریضوں کی زندگیوں پر حقیقی خطرات منڈلا سکتے ہیں۔ مقامی اور صوبائی حکام، بجلی فراہم کرنے والا ادارہ اور ہسپتال انتظامیہ کو مل کر فوری، شفاف اور پائیدار حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور طبی خدمات کسی ہنگامی صورتحال میں بھی بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین